روس اور مغربی ممالک کے درمیان بحران کی بنیادی وجوہات

روسی-مغربی کشیدگی کا ایک نازک موڑ تک بڑھنا اور وہ نقطہ جس کی وجہ سے ماسکو نے کیف پر فوجی حملہ کیا، اس کی جڑیں پرانے اور تاریخی واقعات میں ہیں۔

ولایت پورٹل:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کی صبح سے یوکرائن پر فوجی حملے کا حکم دیا ، یہ ماسکو کی جانب سے مشرقی یوکرائن میں ڈونیٹسک اور لوہانسک جمہوریہ کی آزادی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے چند دن بعد سامنے آیا ۔
قبل ازیں، خبر رساں ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ روس اپریل سے یوکرائن کی سرحد پر اپنی افواج میں اضافہ کر رہا ہے، جو امریکہ کے ساتھ سکیورٹی مذاکرات سے پہلے کی بات ہے جس کے بعد ولادیمیر پیوٹن نے  یوکرائن کی سرحد پر فوجیوں کی تعیناتی کی وجوہات کے جواب میں کہا کہ ہمارے مغربی شراکت دار کیف کو جدید مہلک ہتھیار فراہم کر کے بحیرہ اسود میں اشتعال انگیز فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔
تاہم، یوکرائن پر مغرب کے ساتھ روس کے تناؤ کی جڑیں ذیل میں زیر بحث طویل مدتی واقعات میں ہیں۔
1۔1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد، نیٹو نے روس سے وعدہ کیا کہ اگر ماسکو وارسا معاہدہ ختم کر دیتا ہے، تو نیٹو کسی بھی سابق مشرقی یورپی ملک کو اتحاد میں شامل نہیں کرے گا، وارسا معاہدہ نیٹو کی طرح تھا، جو سوویت یونین اور مشرقی یورپ کے درمیان ایک فوجی اتحاد تھا، روس نے وہ معاہدہ ختم کردیا لیکن نیٹو نے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا۔
2۔فروری 2014 یوکرائن کی اس وقت کی نگران حکومت، جسے آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ(OSCE)کی طرف سے منظور شدہ انتخابات میں معزول کر دیا گیا تھا، ان واقعات کے ایک سلسلے میں گرا دیا گیا جسے روس "بغاوت" کہتا ہے، یوکرائن کے اس وقت کے صدر وکٹر یانوکووچ کو زندہ رہنے کے لیے یوکرائن سے فرار ہونے پر مجبور کیا گیا تھا۔
3۔اگرچہ یاکونووچ کی حکومت میں یقینی طور پر خامیاں تھیں، لیکن ان کی اقتدار سے بے دخلی، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، نے یوکرائنی معاشرے میں دو قطبی ماحول کو ہوا دی، کچھ پالیسیاں اپنا کر یوکرائنی عوام کو متحد کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، نئی حکومت نے روس مخالف گفتگو کو ہوا دی اور دو قطبی ماحول پیدا کیا، یوکرائن کے تقریباً 30 فیصد شہریوں کی پہلی زبان  روسی ہے لیکن نئی حکومت نے اپنے اقتدار کے پہلے دن ہی روسی کو سرکاری زبان نہ بنانے کے لیے اقدامات کیے۔
4۔روس اور یوکرائن کے تاریخی تنازعے کی ایک اور جڑ دوسری جنگ عظیم کے دوران سوویت یونین پر جرمن حملے کے دوران مغربی یوکرائن میں نازیوں کی ہمدردیوں کا وجود تھا، روس کا خیال ہے کہ یوکرائنی سیاست میں یہ عنصر پہلے سے موجود ہے،مثال کے طور پر، سوبودا پارٹی یا آل یوکرائنی یونین، ایک انتہائی دائیں بازو کی جماعت جس میں نو نازی نظریہ ہے، اب یوکرائنی سیاست کا حصہ ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین