Code : 2446 179 Hit

دنیاوی مشکلات کی اصل وجہ بے دینی ہے: آیت اللہ بہجت(قدس سرہ)

ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم خود کو گناہوں میں آلودہ نہ کریں اور بے وجہ حرام چیزوں کے جھمیلے میں نہ ڈالیں۔ہمارے بزرگ تو بہت سی حلال و مباح چیزوں سے بھی پرہیز کرتے تھے ہم کم از کم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ اپنے دامن کو حرام سے بچاسکیں۔

ولایت پورٹل: ہم نے دین کو چھوڑ دیا تاکہ ہماری دنیا زیادہ اچھی اور بہتر طریقے سے آباد ہوجائے،جبکہ ہم معنویات میں ہر روز زوال کا شکار ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھی ہمارے ہاتھ سے جاتی رہی اور ساتھ ہی نیکیوں سے بھی ہمارا دامن خالی ہوگیا۔اور ہم اس حقیقت سے غافل ہی رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی تمام خیرات اور نیکیوں کی اصل و بنیاد ہے۔
نیکیاں،اچھائیاں، روزی اور رزق سب اسی کی طرف سے ہمیں ملتا ہے اور ہمارے حلال و حرام کو بھی تکویناً وہی پورا کرتا ہے:’’یضِل اللهُ مَن یشَآءُ وَ یهْدِی مَن یشَآءُ‘‘۔ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے‘‘۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت و گمراہی فضول اور بے حکمت نہیں ہوتی۔ ملاحظہ فرمائیں! ہم دینداری اور معنویت سے دور ہوکر چاہتے تھے کہ مادیات میں ترقی کریں لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم مادیات میں بھی پسماندہ ہوگئے اور ہم اس حقیقت سے غافل ہی رہے کہ مادیات اور دنیاوی ترقی کے لئے بے دینی بنیادی شرط نہیں ہے! چونکہ اگر ثروت ،مادیات اور دنیاوی ترقی کے لئے بنیادی شرط بے دینی ہوتی تو آج پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہر ایک کافر و مشرک متمول و ثروتمند ہوتا جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ہمارے اطراف میں پھیلے ہوئے بہت سے ایسے ممالک بھی ہیں جہاں کثرت کے ساتھ کافر و مشرک اور بے دین لوگ آباد ہیں اور ساتھ ہی ان کے حالات بھی خراب ہیں اور بہت سو کے پاس تو کھانے کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں ہے۔
پس ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم خود کو گناہوں میں آلودہ نہ کریں اور بے وجہ حرام چیزوں کے جھمیلے میں نہ ڈالیں۔ہمارے بزرگ تو بہت سی حلال و مباح چیزوں سے بھی پرہیز کرتے تھے ہم کم از کم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ اپنے دامن کو حرام سے بچاسکیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम