Code : 2080 53 Hit

واقعہ کربلا میں یہودیوں کا کردار(ایک تجزیہ)

کیا واقعہ کربلا میں یہودیوں کا بھی کوئی کردار تھا؟ جب ہم اس حوالے سے اس واقعہ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں تو تاریخی متون تو ہمیں خاموش نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخ نے ہمیشہ صرف واقعات کے ظواہر کو پیش نظر رکھا اور پشت پردہ عوامل کو کریدنے کی کوشش نہیں کی۔

ولایت پورٹل:واقعہ کربلا تاریخ اسلام بلکہ تاریخ بشریت کا ایک ایسا اہم ترین اور دردناک ترین واقعہ ہے جس کی جڑیں نہ صرف اسلامی فرقوں بلکہ دیگر مذاہب میں بھی پیوست ہیں۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ یہ ایسا تاریخی واقعہ ہے جو فرق و مذاہب سے ماوراء اور زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔ واقعہ کربلا کے وقوع سے پہلے بھی اہل دل اور صاحبان وحی اس کی مظلومیت پر گریہ کناں تھے اور اس کے وقوع کے بعد بھی آج تک اہل معرفت اور انسانی دل رکھنے والے حریت پسند افراد اشک غم بہانے کے ساتھ ساتھ آزادی، حریت، انسانیت اور ظلم و استکبار کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس حاصل کرتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔
اس مختصر تحریر میں ہم واقعہ کربلا کو ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ کیا واقعہ کربلا میں یہودیوں کا بھی کوئی کردار تھا؟ جب ہم اس حوالے سے اس واقعہ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں تو تاریخی متون تو ہمیں خاموش نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخ نے ہمیشہ صرف واقعات کے ظواہر کو پیش نظر رکھا اور پشت پردہ عوامل کو کریدنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی زندہ مثال موجودہ دور کے حالات میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے آج کے مورخین عالم اسلام میں رونما ہونے والے واقعات مثال کے طور پر تکفیریت کے ہاتھوں رقم پانے والی ظلم و ستم کی داستانوں کو نقل تو کرتے ہیں مگر ان ظٓالمانہ واقعات کے پشت پردہ پائی جانے والی دشمنان اسلام کی سازشوں اور امریکہ و اسرائیل کی شیطنتوں کا ذکر نہیں کرتے۔ لہذا تاریخ اسلام کے اہم واقعات کے پیچھے بھی اس دور کی سامراجی طاقتوں اور شیطانی قوتوں کا یقینا ہاتھ تھا لیکن مورخین کی نگاہیں انہیں دیکھنے سے قاصر رہیں۔
اسلام کے ساتھ یہودیوں کی دشمنی
اسلام کے ساتھ یہودیوں کی دشمنی ظہور اسلام سے ماقبل کے زمانے کی طرف پلٹتی ہے۔ اس دشمنی کی بنیادی وجہ ان کی مادیت پرستی اور قدرت طلبی ہے جو اس بات کا بھی سبب بنی کہ دین مسیحیت کو اصلی راستے سے منحرف بھی کر دیں اور الہی پیغمبروں کے قتل کا بھی اقدام کریں۔ ذیل میں اسلام کے ساتھ یہودیوں کی دشمنی کی اہم ترین وجوہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں؛
۱۔ یہودی اسلام کی نسبت جو شناخت رکھتے تھے اس کی وجہ سے انہوں نے اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ کا انتخاب کیا چونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام کو مدینے سے عروج ملے گا اگر وہ پیغمبر اسلام پر ایمان لانے کا ارادہ رکھتے تو مکہ میں سکونت اختیار کرتے اور آخری پیغمبر کا انتظار کرتے۔
۲۔ یہودیوں نے بہت کوشش کی کہ پیغمبر اسلام (ص) دنیا میں نہ آنے پائیں، اس وجہ سے انہوں نے آپ کے اجداد اور پھر خود آپ کو قتل کرنے کے منصوبے بنائے یہاں تک کہ جناب عبد المطلب آپ کی جان کی حفاظت کے لیے مجبور ہوئے آپ کو مکہ سے باہر ایک دایہ کے حوالے کریں۔
۳۔ پیغمبر اکرم(ص) کے مدینہ ہجرت کے بعد یہودیوں نے آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کی مخالفت شروع کر دی لہذا پیغمبراکرم مجبور ہوئے ان کے ساتھ سخت پیمان باندھیں اور پیمان شکنی کی صورت میں تلوار سے ان کا جواب دیں۔
۴۔ کفار کے ساتھ ہوئی مسلمانوں کی جنگوں جیسے احد و احزاب میں بھی یہودیوں نے مشرکین مکہ کا ساتھ دیا۔
۵۔ مدینہ میں رہنے والے یہودیوں کے تینوں قبیلوں نے پیغمبر اکرم کے ساتھ عہد شکنی کی اور آپ نے سختی کے ساتھ ان کا جواب دیا اور انہیں مدینے سے نکال باہر کیا۔(۱)
ان تمام دشمنیوں کی وجہ سے قرآن کریم نے مشرکین کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو مومنین کا بدترین دشمن قرار دیا؛
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ؛ (۲)
یہودیوں نے نہ صرف باہر سے اسلام کا مقابلہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف صف آرائی کی بلکہ بہت سارے یہودی لبادہ اسلام اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوئے اور ان کے سیاسی اور ثقافتی نظام میں نفوذ حاصل کیا اور یہودیت کے انحرافی افکار کو اسلامی ثقافت میں داخل کرنا شروع کیا۔ اسلامی تعلیمات و ثقافت میں یہودی افکار کا نفوذ اس قدر زیادہ تھا کہ آج اسلامی روایات میں ایک کثیر تعداد اسرائیلیات کے نام سے جانی جاتی ہے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اس دور میں جب خلفائے راشدین نے نقل حدیث کو ممنوع کر دیا تھا اور کوئی مسلمان راوی حدیث پیغمبر بیان کرنے کی جرئت نہیں کر سکتا تھا، بعض تازہ مسلمان شدہ یہودی جیسے کعب الاحبار اور ابوہریرہ کو نقل حدیث کی اجازت تھی۔(۳)
ایسے حالات میں اسلامی معاشرہ حقیقی اسلامی تعلیمات سے اس قدر دور ہو جاتا ہے کہ فرزند رسول خدا کا قتل تقرب الہی کی خاطر انجام پاتا ہے!!!۔
حواشی
[۱] . مزید مطالعہ کے لیے رجوع کریں کتاب دشمن شدید،‌ مهدی طائب، ص۸۰-۱۴۰٫
[۲] – مائده، آیه ۸۲٫
[۳] . اسرائیلیات وتاثیر آن بر داستان­های انبیاء در تفاسیر قرآن،‌ حمید محمدقاسمی،‌ سروش، تهران، ۱۳۸۰٫
ڈاکٹر محسن محمدی
خیبر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम