Code : 2221 187 Hit

امام زمانہ(عج) کی عالمی حکومت میں حضرت عیسیٰ(ع) کا منصب

ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت امام مہدی(عج) کے وزیر اور آپ کے راز دار و جانشین ہونگے‘‘۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اجمالی طور پر تمام عالم اسلام کا اتفاق ہے کہ جب حضرت صاحب العصر(عج) عدالت سے معمور عالمی حکومت تشکیل دیں گے تو اس وقت حضرت عیسی بن مریم(ع) آپ کے ساتھ ساتھ ہونگے آئیے اس موضوع پر کچھ وضاحت کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔
اسلام کی عالمی حکومت کے حاکم، رہبر و قائد اعلیٰ حضرت امام مہدی(عج) ہی ہونگے اور اللہ تعالیٰ کے اولوالعزم پیغمبر حضرت عیسٰی بن مریم(ع) امام(عج) کے ہمراہ قرآنی اقدار کو عالمی پیمانے پر پیش کرنے میں آپ کی مدد و نصرت کریں گے۔حضرت کے عالمی انقلاب کی توسیع اور اسلام کی عالمی حکومت کے نفاذ میں حضرت مسیح بن مریم(ع) قائم آل محمد(عج) کے شانہ بہ شانہ رہیں گے۔
اہل سنت اور شیعوں کی متواتر روایات سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ قائم آل محمد(عج) کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور نماز میں امام زمانہ(عج) کی اقتداء کریں گے چنانچہ بخاری نے اپنی سند کے ساتھ رسول اللہ (ص) سے نقل کیا ہے کہ:’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم‘‘۔(صحیح بخاری، ج4، ص143)۔تمہارا حال اس وقت کیا ہوگا کہ جب مریم کا بیٹا(عیسیٰ(ع)نازل ہوگا جبکہ تمہارا امام خود تم میں ہی سے ہوگا۔
نیز علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں امام محمد باقر علیہ السلام کی یہ حدیث نقل فرمائی ہے:’’القائم منصور بالرعب مؤید بالنصر، تطوی له الارض و تظهر له الکنوز و یبلغ سلطانه المشرق و المغرب و یظهر الله عزوجل به دینه و لو کره المشرکون. فلا یبقی فی الارض حزاب الّا عمر و ینزل روح الله عیسی‌بن‌مریم فیصلی خلفه‘‘۔(مجلسی، بحارالانوار، ج52، ص191)
قائم(عج) آل محمد کی رعب الہی کے ذریعہ مدد اور نصرت الہی کے ذریعہ انہیں تأئید حاصل ہوگی،زمین ان کا اشارہ پاکر اپنے مدار پر حرکت کرے گی اور ان کے لئے اپنے ذخیرے ظاہر کردے گی ان کی سلطنت مشرق و مغرب تک پھیل جائے گی اللہ ان کے ذریعہ اپنے دین کی مدد کرے گا چاہے مشرکین کو ناگوار ہی کیوں نہ گذرے اور زمین پر کوئی ایسا خرابہ نہیں بچے گا مگر یہ کہ وہ آبادی میں تبدیل ہوجائے گا اور روح اللہ حضرت عیسٰی بن مریم(ع) آسمان سے اتریں گے اور ان کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔
شیعہ اور سنی روایات کی روشنی میں حضرت حجت(عج) کے ظہور کے بعد اللہ کے اذن سے جناب عیسٰی (ع) زمین پر تشریف لائیں گے اور آپ کے ہمراہ دیگر اصحاب و انصار کی طرح نماز ادا کریں گے جیسا کہ خود ایک روایت میں پیغمبر اکرم(ص) سے وارد ہوا ہے:’’ اس ذات کی قسم! جس نے مجھے سچا بشارتیں دینے والا قرار دیاہے اگر اس دنیا کی عمر صرف ایک دن رہ جائے اللہ اسی دن کو اس قدر طولانی کردے گا یہاں تک کہ میرے بیٹے مہدی کا ظہور ہوجائے گا ان کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ نازل ہونگے اور ان کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے اس وقت زمین نور الہی سے روشن و منور ہوجائے گی اور امام کی حکومت مشرق و مغرب تک پھیل جائے گی۔(صدوق، کمال الدین، ص 163) اسی طرح ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت عیسٰی(ع) بیت المقدس میں ظہور کریں گے اور اس وقت لوگ باجماعت نماز پڑھنے میں مشغول ہونگے حضرت عیسٰی(ع) کو دیکھ کر امام جماعت اپنے کو الگ کرکے حضرت عیسیٰ (ع) کو نماز پڑھانے کے لئے کہے گا لیکن حضرت عیسٰی(ع) اسی سے نماز پڑھوائیں گے اور خود اس کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے اور اسلامی شریعت کے مطابق نماز ادا کریں گے‘‘۔(بحرانى، حلیة الأبرار فی أحوال محمّد و آله الأطهار ، ج 6 ص 430) اور چونکہ اس زمانے میں عیسائیوں کی اکثریت ہوگی(آج بھی دنیا میں عیسائیوں کی اکثریت ہے) اور چونکہ عیسائی حضرت مسیح(ع) کو منجی و مُصلح عالم کے طور پر پہچانتے ہونگے لیکن جیسے ہی وہ یہ منظر دیکھیں گے کہ ان کے پیغمبر نے مسلمان کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے تو وہ حضرت قائم(عج) پر ایمان لے آئیں گے اور یہی امر حضرت کی عالمی انقلاب اور حکومت کا مضبوط سکون شمار ہوگا۔
قارئین کرام! شیعہ منابع میں حضرت عیسیٰ (ع) کے سلسلہ سے تواتر کے ساتھ یہ ملتا ہے کہ آپ تشریف لائیں گے اور امام زمانہ(عج) کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے لیکن اہل سنت برادران کی کتابوں میں صرف یہ روایات موجود ہیں کہ حضرت بیت المقدس میں آئیں گے اور دجال سے جنگ کریں گے اور اسے قتل کریں گے وغیرہ۔
حضرت عیسٰی(ع) کے نازل ہونے کی جگہ اور آپ کا دین
اہل سنت والجماعت کی کتابوں میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نازل ہونے کی متعدد جگہیں بیان ہوئی ہیں جیسا کہ’’قدس شریف‘‘ ،دمشق کا سفید پل، فلسطین کا ’’دروازہ لُدّ‘‘۔
طبرانی کی روایت کے مطابق حضرت مسیح(ع) دمشق میں ظہور کریں گے چنانچہ طبرانی نے اپنی سند سے نقل کیا ہے:’’ینزل عیسی‌ بن‌ مریم عند المنارة البیضاء شرقی دمشق‘‘۔حضرت عیسٰی بن مریم(ع) دمشق کے منار سفید کے قریب نازل ہونگے۔
جبکہ شیعہ کتب میں منقول روایات کی بنیاد پر حضرت عیسٰی(ع) سب سے پہلے بیت المقدس میں ظاہر ہونگے اور امام عصر(عج) کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے اور پھر اس کے بعد شام کے علاقہ جات کی طرف کوچ کریں گے۔
اب رہا یہ سوال چونکہ حضرت عیسٰی(ع) خود صاحب شریعت اور اولوالعزم پیغمبر ہیں تو کیا وہ اپنی شریعت کے مطابق عمل کریں گے یا پھر شریعت محمدی(ص) کی پیروی و اتباع کریں گے؟
آج شریعت محمدی(ص) کا زمانہ ہے اور جناب عیسٰی(ع) کی شریعت منسوخ ہوگئی ہے لہذا بعض روایات سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ آپ دین و شریعت محمدی(ص) کے مطابق زندگی بسر کریں گے۔
حضرت عیسی(ع) امام مہدی(عج) کے وزیر
وہ عالمی حکومت جس کی زمام خود سرکار ولیعصر(عج) کے دست حق پرست میں ہوگی اس کے تمام مناصب، عہدے اور وزارتوں پر اخیار امت اور نیکوکار لوگ ہونگے لذا جو چیز روایات سے سمجھ میں آتی ہے کہ حضرت امام مہدی(عج) کی عالمی حکومت میں بہت سے پیغمبروں، ان کے جانشینوں اور متقی و صالح افراد کو اہم عہدے دیئے جائیں گے تاکہ عدالت اپنے حقیقی معنیٰ میں محقق ہوسکے۔
ایک روایت میں ملتا ہے کہ حضرت عیسیٰ(ع) حضرت مہدی(عج) سے کہیں گے:’’ بیشک مجھے اللہ نے آپ کا وزیر بنا کر بھیجا ہے امیر نہیں‘‘۔(ملاحم، ابن‌طاووس، ص83، و الفتن، ابن‌حماد، ص160)
اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت امام مہدی(عج) کے وزیر اور آپ کے راز دار و جانشین ہونگے‘‘۔(غایة‌المرام، ص697؛ و حلیة‌الابرار، بحرانی، ج2، ص620)
اور ایک دوسری روایت میں آیا ہے:’’جب حضرت عیسٰی(ع) زمین پر اتریں گے تو حضرت قائم(عج) کی حکومت میں انہیں مالیات دریافت کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی نیز آپ(عج) کے ساتھ ہی اصحاب کہف بھی حاضر رہیں گے‘‘۔(غایة‌المرام، ص697؛ حلیة‌الابرار، بحرانی، ج2، ص620)


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम