Code : 2476 85 Hit

امام جعفر صادق(ع) کی شاگردی اور جابر بن حیان کا عروج

علم کیمیا میں جابر کی شخصیت شہرۂ آفاق حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس علم میں نام پیدا کیا ہے۔ ان کو صوفی اور حرانی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جابر نے علم کیمیا کے توازن کی بحثیں اور فلسفہ کے اہم مباحث کو اجاگر کیا ہے اور نئی نئی تحقیقات منظر عام پر لیکر آئے ہیں۔ ان کی تألیفات کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور بعض لوگوں نے انھیں الجبرا کا موجد قرار دیا ہے۔

ولایت پورٹل: علم کیمیا میں جابر کی شخصیت شہرۂ آفاق حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس علم میں نام پیدا کیا ہے۔ ان کو صوفی اور حرانی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جابر نے علم کیمیا کے توازن کی بحثیں اور فلسفہ کے اہم مباحث کو اجاگر کیا ہے اور نئی نئی تحقیقات منظر عام پر لیکر آئے ہیں۔ ان کی تألیفات کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور بعض لوگوں نے انھیں الجبرا کا موجد قرار دیا ہے۔ علم کیمیا کے بارے میں انھوں نے ہزار صفحہ کے پانچ سو رسالے تألیف کئے ہیں۔ ان کے بارے میں اختلاف کی نوعیت یہ ہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک موہوم شخصیت ہے جسے نمونہ کے طور پر وضع کرلیاگیا ہے ورنہ تاریخ عرب میں ایسی کسی عظیم ہستی کا ذکر نہیں ہے۔
اس کا جواب ابن ندیم نے فہرست میں یہ دیا ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے متعدد تجربات کئے ہوں، علوم کے ذخیرے مہیا کئے ہوں، لوگوں کو جدید تحقیقات سے آشنا کیا ہو اس کے بارے میں وجود وعدم کی بحث انتہائی جہالت اور حماقت ہے۔ جابر ایک شہرۂ آفاق شخصیت کا نام ہے جن کی تألیفات منظر عام پر آچکی ہیں۔
بعض لوگ انھیں خراسانی کہتے ہیں اور رازی نے انھیں اپنا استاد کہہ کر ظاہر کیا ہے۔ ان کے تألیفات مذہب شیعہ اور مختلف علوم کے بارے میں بکثرت ہیں جن کا تذکرہ برمحل کیا جاچکا ہے اور کیا جارہا ہے۔
مستشرقین کے درمیان بھی جابر کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مستشرق کراؤس نے ان کی تألیفات کو شائع کیا ہے جس میں شیعیت کے دلائل واضح طور پر پائے جاتے ہیں۔
لیکن بعض مستشرقین کو یہ بات کھل گئی اور وہ یہ نہیں چاہتے کہ کیمیا میں اولیت کا شرف کسی مسلمان عرب کو مل سکے اس لئے انھوں نے کبھی ان کے وجود کو مشکوک بنایا، کبھی ان کے دور میں شک کیا، کبھی ان کی کتابوں کو بے اعتبار ٹھہرایا، کبھی ان کے امام صادق(ع) سے استفادہ کرنے کا انکار کیا اور کبھی کتابوں کی ترتیب و تہذیب پر اعتراض کیا کہ یہ سلیقہ اس دور کے انسان کے لئے غیر معروف ہے۔
استاد اسماعیل مظہر نے رسالۃ المقتطف میں (۶۸،۵۴۴ و۶۱۷ تا ۶۲۵) اور استاد احمد زکی صالح نے ’’الرسالہ‘‘عدد ۱۲۰۴۸، ۱۲۰۶ پر ان تمام اوہام کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور یہ واضح کردیا ہے کہ جابر شیعہ مذہب انسان تھے اور شیعوں نے علوم کے سلسلے میں بڑی اہم خدمات انجام دی ہیں یہاں تک کہ مذہب کو فلسفی رنگ دینے میں امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب(ع) کا اپنا ایک مخصوص فلسفہ مشہور ہوگیا ہے۔
بعض لوگوں نے ایک شاعر کے کلام سے تمسک کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا ہے کہ جابر خالد بن یزید کے شاگرد تھے اور خالد وہ بزرگ ہیں جنھوں نے حضرت علی(ع) کی خلافت کا اعتراف کرتے ہوئے خود حکومت سے دست کشی کرلی تھی۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات انتہائی مہمل ہے اس لئے کہ جابر نے خود اپنے رسالوں میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ میں نے یہ باتیں براہ راست امام جعفر صادق(ع) سے لی ہیں۔خواص کبیر کے ص:۲۰۵ پر جابر کا بیان ہے کہ میں ایک دن امام جعفر صادق(ع) کے گھر جارہا تھا... اس کے علاوہ جابجا اس کی تصریح موجود ہے، ص:۳۱۶ مقالہ ۲۴ میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے مجھے ان خواص کے جمع کرنے کا حکم دیا اور آئندہ بھی ایسی تحقیقات کے اضافہ کا مشورہ دیا۔
وفیات الاعیان ابن خلکان، مرآۃ الجنان یافعی، تاریخ ابن الوردی، کشف الظنون، دائرۃ المعارف پطرس بستانی، قاموس الاعلام ترکی وغیرہ میں اس بات کی تصریح و تفصیل بقدر ضرورت موجود ہے۔
استاذ محمد یحییٰ نے اپنی کتاب ’’امام صادق(ع) مُلھم الکیمیا‘‘ میں لکھا ہے کہ علوم کی تاریخ میں جابر کا مسئلہ اور ان کا امام جعفر صادق(ع)سے ارتباط بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس موضوع کو اکثر مستشرقین اور اہل کیمیا نے محل بحث بنایا ہے لیکن کوئی قابل اطمینان کام نہیں کیا ہے اس لئے کہ انھوں نے موضوع کے دیگر مصادر کی چھان بین کی ہے اور خود جابر کے بیانات کو نظر انداز کردیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہم جابر ہی کے رسائل کی روشنی میں اس بحث کا تجزیہ کریں اور امام صادق(ع) کے فکری خدمات کا صحیح جائزہ لیں!.......اس کے بعد ص:۳۹ پر لکھتے ہیں کہ جابر کے چھوڑے ہوئے علمی ذخیرہ کی چھان بین کرنے کے بعد یہ اعتراف کرنا پڑتاہے کہ انھیں یہ سب کچھ امام جعفر صادق(ع) سے ملا تھا۔ مستشرقین کو یہ حقیقت معلوم تھی لیکن انھیں یہ بات پسند نہیں آئی اس لئے انھوں نے تنقید میں عجیب و غریب پہلو اختیار کئے اور آخر میں یہ کہہ دیا کہ امام صادق(ع) کو اتنے علوم و فنون میں مہارت ناممکن ہے۔ دروسکا کا کہنا ہے کہ مدینہ میں بیٹھ کر امام صادق(ع) کو کیمیا کے اصول و عملیات کا علم ہوہی نہیں سکتا۔ برٹلو فرانسیسی اور ہولمبارڈ انگریزی کو جابر کی طرف منسوب شدہ معلومات نے حیرت میں ڈال دیا ہے‘‘۔
پس اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جناب جابر بن حیان امام صادق(ع) کے برجستہ شاگردوں میں تھے جن کے بارے میں مفصل کتابیں موجود ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
متعلقہ مواد
फॉलो अस
नवीनतम