Code : 3198 102 Hit

شیعہ فرقوں کی صحیح تعداد کے بارے میں ایک وضاحت

کسی بھی مذہب سے انتساب کا معیار اس مذہب کے بنیادی اصول و عقائد ہوتے ہیں چونکہ تشیع کی سب سے زیادہ اہم اور بنیادی اصل جو اسے دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی اور شیعیت کا امتیاز سمجھی جاتی ہے وہ ’’امامت‘‘ ہے لہٰذا امامت کو ہی انتساب اور الگ فرقہ ہونے کا معیار ہونا چاہئے دوسرے اعتقادی مسائل کو شیعہ فرقہ شناسی کا معیار نہیں بنانا چاہئے اس بناپر ہشامیہ، یونسیہ، نعمانیہ وغیرہ فرقوں کو شیعہ فرقوں کے عنوان کے تحت ذکر کرنا(جیسا کہ ملل و نحل کی بعض کتابوں میں مذکور ہے) صحیح نہیں ہے۔

ولایت پورٹل: ملل و نحل کی کتابوں میں شیعیت کے بہت سے فرقے بیان کئے جاتے ہیں جیسا کہ اشعری نے شیعوں کو پہلے تین گروہوں غالیہ ، رافضہ اور زیدیہ پر تقسیم کرنے کے بعد غالیوں کے ۱۵، رافضیوں کے ۲۴، اور زیدیہ کے چھ فرقے تحریر کئے ہیں۔ ملل و نحل کے دیگر مصنفین نے بھی شیعوں کے گوناگوں اور کثیر فرقوں کا تذکرہ کیا ہے لیکن مندرجہ ذیل نکات پر غور و خوض کرنے سے ان اقوال کا باطل ہونا ظاہر ہوجاتا ہے۔
۱۔غالیوں کو شیعہ کہنا قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ غالی اہل بیت(ع)کی الوہیت یا ربوبیت کے قائل ہیں اور ایسا اعتقاد کفر و شرک کا سبب ہے اسی لئے آئمہ معصومین(ع)نے غلو کرنے والوں کو کافر کہا ہے اور شدت کے ساتھ ان سے اظہار برائت کیا ہے علمائے شیعہ بھی غلات کو کافر کہتے ہیں اور انہیں اسلام سے خارج فرقہ قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں شیخ مفید فرماتے ہیں:’’غلات اسلام کا لبادہ اوڑھے ایسے افراد کا گروہ ہے جو امیر المؤمنین(ع) اور دیگر آئمۂ طاہرین(ع)کی الوہیت یا نبوت کا قائل ہے آئمۂ معصومین(ع) نے انہیں کافر اور اسلام سے خارج قرار دیا ہے‘‘۔(۱)
ملل و نحل کے بعض مصنفین نے اس امر کی طرف توجہ کی ہے اور غلات کے فرقوں کو الگ فصل میں ’’اسلام سے منسوب فرقے ‘‘کے عنوان کے تحت ذکر کیا ہے چنانچہ بغدادی۔(۲)اور اسفراینی۔(۳)نے ایسا ہی کیا ہے۔
۲۔کسی بھی مذہب سے انتساب کا معیار اس مذہب کے بنیادی اصول و عقائد ہوتے ہیں چونکہ تشیع کی سب سے زیادہ اہم اور بنیادی اصل جو اسے دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی اور شیعیت کا امتیاز سمجھی جاتی ہے وہ ’’امامت‘‘ ہے لہٰذا امامت کو ہی انتساب اور الگ فرقہ ہونے کا معیار ہونا چاہئے دوسرے اعتقادی مسائل کو شیعہ فرقہ شناسی کا معیار نہیں بنانا چاہئے اس بناپر ہشامیہ، یونسیہ، نعمانیہ وغیرہ فرقوں کو شیعہ فرقوں کے عنوان کے تحت ذکر کرنا(جیسا کہ ملل و نحل کی بعض کتابوں میں مذکور ہے) صحیح نہیں ہے۔
۳۔مسئلہ امامت کے باعث وجود میں آنے والے متعدد فرقے جن کا تذکرہ ملل و نحل کی کتب میں ملتا ہے ختم ہوچکے ہیں اور ان کی مدت حیات بہت مختصر تھی اور آج انہیں صرف تاریخ کے صفحات میں موجود فرقوں کی حیثیت سے ہی دیکھا جاسکتا ہے بطور مثال ملل و نحل اور تاریخ کی کتب میں امام حسن عسکری(ع)کی شہادت کے بعد شیعوں کے چودہ فرقوں کا ذکر موجود ہے، ان فرقوں میں سے آج کسی فرقہ کا نام و نشان تک موجود نہیں  ہے بالفرض اگر یہ فرقے واقعاً رہے بھی ہوں گے تو آج بہر حال مکمل طور سے ختم ہوچکے ہیں۔ ملل و نحل کی کتب میں مذکور شیعہ فرقوں کی جانب اشارہ کرنے کے بعد محقق طوسی فرماتے ہیں:’’یہ وہ اختلافات ہیں جو شیعوں کے بارے میں نقل کئے گئے ہیں لیکن ان میں سے اکثر اختلافات ایسے ہیں جن کا معتبر کتب میں تذکرہ نہیں ہے اور ان میں سے بعض فرقے جیسے غلات اور باطنیہ کا گروہ اسلام سے خارج ہے‘‘۔(۴)
علامہ طباطبائی بھی کیسانیہ، زیدیہ، اسماعیلیہ، فطحیہ اور واقفیہ فرقوں کا تذکرہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں:’’آٹھویں امام(ع)کے بعد سے بارہویں امام (عج)تک جو اکثر شیعوں کے نزدیک مہدی موعود ہیں شیعوں میں کوئی قابل ذکر تقسیم نہیں ہوئی اور نہ کوئی فرقہ وجود میں آیا اگر فرقہ کی شکل میں کوئی تقسیم ہوئی بھی تو وہ زیادہ دنوں تک باقی نہ رہ سکی اور خود بخود دم توڑ گئی جیسے کہ امام علی نقی(ع) کے فرزند جعفر نے اپنے بھائی امام حسن عسکری(ع)کی شہادت کے بعد دعوائے امامت کیا اور کچھ لوگ ان کے گرد جمع ہوگئے لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد پراگندہ ہوگئے اور جعفر کذاب نے بھی اپنے دعویٰ پر اصرار نہیں کیا ۔ اسی طرح شیعہ شخصیات کے درمیان علمی، کلامی و فقہی مسائل نیز دیگر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں ان اختلافات کو مذہب کی تقسیم یا فرقہ سازی نہیں سمجھنا چاہئے‘‘۔(۵)
مذکورہ نکات کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ شیعوں کے اہم ترین فرقے جن کا سلسلۂ حیات جاری رہا اور ہمارے دور میں بھی جن کے ماننے والے موجود ہیں وہ صرف تین فرقے ہیں:
۱۔اثنا عشری(امامیہ)۲۔زیدیہ ۳۔اسماعیلیہ لیکن مسئلہ امامت کے نام پر وجود میں آنے والے کیسانیہ ، ناووسیہ ، فطحیہ اور واقفیہ جیسے فرقے مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں اور اس دور میں ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں ہے۔
مذکورہ تینوں موجود شیعہ فرقے امیرالمؤمنین(ع)،امام حسن(ع)اور امام حسین(ع)کی امامت پرمتفق ہیں اور انھیں امام معصوم اور خدا و پیغمبر(ص) کی جانب سے منتخب مانتے ہیں۔ لیکن زیدیہ فرقہ امام حسین(ع)کے بعد حسن بن الحسن (حسن مثنیٰ)اور ان کے بعد زید بن علی(ع)کی امامت کا قائل اور امام زین العابدین(ع)۔(۶)و بقیہ آئمہ معصومین(ع) کی امامت کو تسلیم نہیں کرتا اسی طرح اسماعیلیہ فرقہ بھی امام جعفر صادق(ع) کے بعد امام موسیٰ کاظم اور آپ کے بعد دیگر آئمہ(ع) کی امامت کا معتقد نہیں ہے۔
نوٹ :قارئین کرام! ہمارے دارے سے شائع ہونے والے کسی بھی مضمون میں جب بھی کوئی گفتگو ہوتی ہے اس کا موضوع شیعہ اثنا عشری ہیں جو تمام بارہ آئمہ معصومین(ع) کی امامت کے قائل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔تصحیح الاعتقاد ، ص/۱۰۹۔
۲۔الفرق بین الفرق، ص/۲۱، ۲۳۔
۳۔التبصیر فی الدین ، ص/۱۲۳، ۱۴۷۔    
۴۔تلخیص المحصل ، ص/۴۱۳۔
۵۔فرقہ زیدیہ کے بعض افراد امام زین العابدین (ع)کو ’’امام علم و معرفت‘‘ مانتے ہیں نہ کہ امام بمعنی قائد و رہبر و حاکم۔
۶۔زیدیہ و اسماعیلیہ فرقوں کے عقائد اور تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے حجۃ الاسلام ربانی گلپایگانی کی کتاب ’’فرق و مذاہب کلامی ‘‘ اور ملل و نحل کی دیگر کتب ملاحظہ فرمائیں۔





0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین