Code : 2865 82 Hit

ام ایمن کو اہل بیت(ع) کی خدمت کا صلہ

خصائص فاطمیہ نامی کتاب میں ان ۱۳ خواتین کے نام ذکر ہوئے ہیں جو امام زمانہ(عج) کے ظہور کے موقع پر رجعت کریں گی اور جنہیں حضرت کے دیدار کا شرف حاصل ہوگا ان میں سے ایک ام ایمن بھی ہیں۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام! جناب ام ایمن رسول اللہ(ص) کی آزاد شدہ کنیز تھیں ۔ ان کا نام ’’بـَرَکـَه‘‘ تھا کہ جو سرکار ختمی مرتبت(ص) کی ولادت سے پہلے سے ہی جناب عبداللہ کے گھر میں خدمت کرتی تھیں۔قبلیہ بنی سعد سے واپسی کے بعد اس پاک دامن اور نیک عورت نے رسول اللہ(ص) کی بے پناہ خدمت کی اور جوانی تک آپ کی دیکھ بھال اور خدمت کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ جب جناب آمنہ خاتون(رسول اللہ(ص) کی والدہ) نے اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کی خاطر سفر کیا تو ام ایمن بھی اس میں آپ کے ساتھ تھیں۔(۱)اور جب جناب آمنہ کا اس سفر کے دوران انتقال ہوگیا ام ایمن ہی رسول اللہ(ص) کو مکہ واپس لائی تھیں اور جناب عبدالمطلب کے حکم کے بموجب اسی طرح آپ(ص) کی خدمت اور سرپرستی کرتی رہیں۔
جب رسول اکرم(ص) کی جناب خدیجہ سے شادی ہوگئی تو سرکار نے ام ایمن کو آزاد کردیا لیکن انہوں نے ایک لمحہ کے لئے بھی اس در کو چھوڑنا گوارا نہ کیا اور رسول اللہ(ص) کے وصال کے بعد آپ کی نور نظر حضرت فاطمہ زہرا(س) کی خدمت میں مشغول ہوگئیں ۔(۲)
جس وقت رسول اللہ(ص) نے اعلان رسالت کیا آپ ابتدائی برسوں میں ہی آپ پر ایمان لے آئیں تھیں اور حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ام ایمن نے بھی ہجرت کی تھی۔ اسی طرح جب مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو مدینہ پہونچنے والے مہاجرین میں جناب ام ایمن بھی شامل تھیں۔(۳)
ام ایمن نے آزاد ہونے کے بعد عبید بن زید بن حارث حبشی سے شادی کی اور آپ کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ایمن رکھا گیا جس کی وجہ سے آپ کی کنیت ام ایمن قرار پائی۔اور خود جناب ایمن( ام ایمن کا بیٹا) کا شمار  رسول اللہ(ص) کی ان اصحاب میں ہوتا ہے جو مکہ میں ہی آپ(ص) پر ایمان لائے اور سب سے پہلے جنہوں نے ہجرت کی چنانچہ شیخ طوسی(رح) ایمن کو ان ۸ لوگوں میں سے جانتے ہیں جنہوں نے جنگ احد میں کمال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور رسول اللہ(ص) کا دفاع کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔(۴)
ایمن جنگ حنین میں بھی رسول اللہ(ص) کی رکاب میں تھے اور جب دشمن نے اچانک حملہ کردیا اور مسلمان میدان چھوڑ کر بھاگ گئے  تو ایسے پر آشوب حالات کہ جب بنی ہاشم کے معدودے چند جوان باقی رہ گئے تھے جناب ایمن بھی رسول(ص) کا دفاع کررہے تھے ۔ اور انہوں نے آخر تک سخت جنگ کی آخر کار اسی جنگ میں جام شہادت نوش کیا۔(۵)
جناب ام ایمن کی دوسری شادی رسول اللہ(ص) کے منھ بولے بیٹے زید بن حارثہ سے ہوئی اور اس مبارک و میمون شادی کا تحفہ، اسامہ بن زید تھے۔
ام ایمن دیگر خواتین کے ہمراہ کئی جنگوں میں بھی شریک ہوئیں اور لشکر کو پانی پلانے اور زخمیوں کی نگرانی کی ذمہ داری سنبھالتی تھیں۔ چنانچہ جنگ احد اور خیبر وغیرہ میں ام ایمن حاضر رہیں۔(۶) چنانچہ ایک روایت کے مطابق غزوہ احد میں حبّان بن عرقہ نے آپ کی طرف ایک تیر سے نشانہ لیا جس سے آپ زخمی ہوگئیں۔ حـِبـّان یہ منظر دیکھ بہت خوش ہوا۔رسول اللہ(ص) بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے آپ بہت دکھی ہوئے آپ نے ایک تیر سعد بن وقّاص کو دیا تاکہ اس کا جواب دے۔ سعد نے حـِبـّان کی طرف تیر چلایا اور وہ اپنے صحیح نشانے پر لگا حضرت مسکرائے اور فرمایا:’’ سعد تم نے ام ایمن کا اس سے بدلہ لے لیا ،اللہ تمہاری دعاؤں کو مستجاب کرے اور تمہاری تیر اندازی کے فن کو مزید مستحکم بنائے‘‘۔(۷)
جناب ام ایمن بڑی شجاع خاتون تھیں چنانچہ آپ کہا کرتی تھیں: اگر رسول اللہ(ص) عورتوں کو جنگ کرنے کی اجازت دیتے تو میں سب سے پہلے آپ کے رکاب میں جنگ کرتی ۔(۸)
ایک روایت میں ملتا ہے کہ جب جنگ احد میں رسول اکرم(ص) کے شہید ہونے کی افواہ مدینہ تک پہونچی تو بہت سے لوگوں نے اس پر یقین کرلیا۔ اور جنگ سے بھاگے ہوئے لوگ جب اپنی عورتوں کے سامنے پہونچے تو انہوں نے ان پر سخت نکتہ چینی کی ۔ چنانچہ جنگ سے فرار کرنے والوں میں ایک اوس بن قیظی بنی حارثہ کے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ جب مدینہ لوٹ آیا تو جناب ام ایمن نے مٹھی بھر خاک ان کے چہروں پر ڈالی انہوں طعنہ دیتے ہوئے کہا: وائے ہو تم پر !تم زندہ لوٹ آئے۔ لاؤ مجھے اپنی تلوار دو اور یہ کہکر کچھ خواتین کے ہمراہ درہ احد کی جانب روانہ ہوگئیں۔(۹)
پیغمبر اکرم(ص) ہمیشہ ام ایمن  کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے اور جب بھی آپ کو دیکھتے تھے تو فرماتے تھے: یہ ہمارے گھرانے کی  یادگار ہے۔(۱۰)
جناب فاطمہ زہرا(س) کی شادی کے موقع پر بھی رخصتی کے انتظام میں جناب امّ ایـمـن پیش پیش تھیں چنانچہ رسول اللہ(ص) نے زہرا(س) کے مہر کی کچھ رقم انہیں دیکر رخصتی کے لئے ضروری سامان مہیا کرنے کو کہا۔(۱۱)
حضرت فاطمہ(س) کی شادی کے بعد جب آپ کے یہاں اولاد ہوئی تو ام ایمن نے گھر کے ضروری کام اور بچوں کی دیکھ بھال کا کام بخوبی انجام دیا۔
ایک دن ام ایمن کے پڑوسی رسول اللہ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: پوری رات ام ایمن گریہ کرتی رہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی خاموش نہ ہوئیں!
حضرت نے جناب ام ایمن کو بلوا بھیجا آپ نے سوال فرمایا: خدا تمہیں خوش رکھے ! کس چیز نے تمہیں رونے پر مجبور کیا؟ عرض کیا : یا رسول اللہ(ص) میں نے ایک ہولناک خواب دیکھ لیا تھا۔ آپ نے فرمایا: اپنا خواب بیان کرو! چونکہ خدا اور اس کا رسول اس کی تعبیر سے زیادہ آگاہ ہیں۔
ام ایمن نے عرض کیا: یا رسول اللہ(ص) جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا اسے بیان کرنا میرے لئے سخت ہے ۔ آنحضرت(ص) نے فرمایا : تمہارے خواب کی وہ تعبیر نہیں تھی جسے تم نے گمان کیا۔عرض کیا: یا رسول اللہ(ص) میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ کے بدن کے کچھ ٹکڑے میرے گھر آکر گر گئے ہیں۔
آپ(ص) نے فرمایا:ام ایمن ! تم نے اچھا خواب دیکھا ہے ۔ تم مطمئن رہو ! تمہیں خوشخبری ہو! بہت جلد فاطمہ (س) کے یہاں ولادت ہوگی اور اس بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری تم پر آئے گی۔ چنانچہ جب امام حسین(ع) کی ولادت ہوگئی ام ایمن نے مولا کو رسول اکرم(ص) کی آغوش میں دیا تو آپ نے فرمایا: ام ایمن یہ وہی تمہارے خواب کی تعبیر ہے ۔اور جان لو حسین میرا ٹکڑا ہے۔(۱۲)
نیز جناب ام ایمن نے فدک کے مسئلہ میں بھی ایک گواہ کے طور پر یہ گواہی دی تھی کہ رسول اللہ(ص) نے فدک زہرا(س) کو بخشا تھا۔(۱۳)
حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے ایک صحابی جناب علی بن معمر بیان کرتے ہیں: حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد شہزادی کی کنیز جناب ام ایمن نے مدینہ نبوی کو چھوڑ دیا اور مکہ تشریف لے گئیں۔ چونکہ اس غمناک واقعہ کے بعد ام ایمن نے خود سے کہا : اب بی بی کی شہادت کے بعد مدینہ میں میرا دل نہیں لگتا لہذا اب میں مزید مدینہ نہیں رہ سکتی ۔
چنانچہ راستہ میں صحرائے جحفہ میں ام ایمن کو شدید پیاس لگی اور پیاس اتنی شدید تھی کہ وہ اپنی زندگی سے نا امید ہوچکی تھیں لہذا انہوں نے اپنے چہرے کو آسمان کی طرف اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی:’’ پروردگارا! کیا تو مجھے پیاسہ چھوڑ دے گا جب کہ میں نے ایک عمر تیری کنیز خاص حضرت فاطمہ زہرا(س) کی خدمت کی ہے جو تیرے حبیب محمد مصطفیٰ(ص) کی بیٹی تھیں؟‘‘۔
پس ناگہاں بشت سے پانی کا بھرا ڈول نازل ہوا اور ام ایمن نے اس سے پانی پیا اور اس کا اثر یہ ہوا کہ انہیں چند برس تک بھوک اور پیاس کا احساس نہ ہوا ۔(مناقب ابن شهر آشوب،ج۳،ص۳۳۸۔بحار الانوار،ج۴۳،ص۵۰)۔
خصائص فاطمیہ نامی کتاب میں ان ۱۳ خواتین کے نام ذکر ہوئے ہیں جو امام زمانہ(عج) کے ظہور کے موقع پر رجعت کریں گی اور جنہیں حضرت کے دیدار کا شرف حاصل ہوگا ان میں سے ایک ام ایمن بھی ہیں۔(۱۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱ـ اعیان الشیعه ، ج ۳، ص ۴۷۵٫
۲۔ بـحـارالانـوار، ج ۱۵، ص ۱۱۶٫ رسـاله تـوضـیـح الاشـتـبـاه والاشکال ، ص ۷۱٫
۳ـ ریاحین الشریعه ، ج ۲، ص ۳۲۷٫
۴ـ اعـیـان الشـیـعـه ، ج ۳، ص ۵۲۲ ـ رسـاله تـوضـیـح الاشـتـبـاه والاشکال ، محمد على ساروى ، ص ۷۱٫
۵ـ اعیان الشیعه ، ج ۳، ص ۵۲۲٫
۶ـ همان مدرک ، ص ۳۳۲، با دخل و تصرف .
۷ـ کامل ابن اثیر، ج ۲، ص ۱۶۰، بیروت .
۸ـ زنان صدر اسلام ، محمد على بحرالعلوم ، ترجمه محمد على امینى ، ص ۸۸٫
۹ـ مغازى واقدى ، ج ۱، ص ۲۷۸٫
۱۰ـ زنان صدر اسلام ، ص ۸۸٫
۱۱ـ بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۱۳۰٫
۱۲ـ ریاحین الشریعه ، ج ۲، ص ۳۲۹٫
۱۳ـ تنقیح المقال ، ج ۳، فصل النسا، ص ۷۰٫
۱۴ـ بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۲۸٫


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम