شہید کمانڈوں کے خون کا بدلہ امریکہ کو عراق سے نکال باہر کرنا ہے: الحشد الشعبی

الحشد الشعبی نے کہا ہے کہ شہید کمانڈوں کے خون کا بدلہ عراق سے امریکی دہشت گردوں کا انخلا کرنے میں ہے۔

ولایت پورٹل:ارنا کی رپورٹ کے مطابق عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے سربراہ فالح الفیاض نے جنوبی عراق کے شہر بصرہ میں محاذ استقامت کے شہید کمانڈروں کی پہلی برسی کے پروگرام سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا محاذ استقامت کے کمانڈروں جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی عوامی رضاکا رفورس کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کی شہادت کے انتقام کی مانند ہے،انہوں نے کہا کہ عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے بارے میں عراقی پارلیمنٹ کے فیصلے کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جائے گا،فالح الفیاض نے کہا کہ محاذ استقامت کے قاتلوں کا وجود عراق میں ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس شرمناک جرم کا ارتکاب کرنے والے ٹرمپ، امریکی عوام کی شرمساری کا باعث بنے ہیں۔
دوسری جانب عراق میں الفتح اتحاد کے سربراہ نے اپنے ملک سے امریکی فوج کے انخلاء کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہید جنرل سلیمانی، دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے میں عراق کے ساتھ کھڑے رہے اور اس ملک کی مضبوطی میں انھوں نے نمایاں کردار ادا کیا،ہادی العامری نےبھی سنیچر کے روز سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر شہید قاسم سلیمانی اور عراقی رضا کار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کی پہلی برسی کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم شہید سلیمانی اور المہندس کی بات کرتے ہیں تو استقامت کی چالیس سالہ طولانی تاریخ کی بات کرتے ہیں،انھوں نے کہا کہ ان دو عزیز بھائيوں نے عراقی نظام کے استحکام اور غاصبوں نیز دہشت گردی سے مقابلے میں بڑا اہم اور نمایاں کردار ادا کیا۔
عراق کے الفتح اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ عراق کے دشوار حالات میں صرف ایران ہی تھا جو اس کے ساتھ کھڑا ہوا اور اس نے داعش کے دہشت گرد گروہ سے جنگ میں ہماری قوم کی مدد اور حمایت کی،ہادی العامری نے کہا کہ ہمیں عراق سے غیر ملکی فوجیوں کو باہر نکالنے کی سنجیدگي سے کوشش کرنی چاہیے اور جب تک یہ فوجی باہر نہیں نکلیں گے، عراق میں ثبات و استحکام قائم نہیں ہوگا اور اس کی مشکلیں بڑھتی رہیں گی۔
تقریب

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین