Code : 2786 68 Hit

امت کی گمراہی،ولی خدا کے تنہا ہونے کا نتیجہ

جیسے ہی ولی خدا کو کمزور بنادیا گیا مسلمانوں کی مشکلات بڑھنا شروع ہوگئیں اور جب سے شروع ہوکر آج تک جاری ہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا(س) نے فقط اپنے شوہر کے حق کا دفاع نہیں کیا بلکہ آپ کی اپنی ساری کوشیشیں امت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے اور مشکلات سے نجات دلانے میں صرف کی اور اسی راہ میں آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔

ولایت پورٹل: جب بھی کسی معاشرے کے لوگوں میں جہالت بڑھ جاتی ہے یا مسائل کے تئیں ان کی آگاہی کم ہوتی ہے تو اس کے نتائج بہت ویرانگر ثابت ہوتے ہیں اور یہ اتنی بڑی مصیبت ہے کہ مصلحین کو اصلاح کا کام کرنے سے روک دیتی ہے۔ چنانچہ پیمبران الہی اور معصومین (ع) لوگوں کے حالات اور ان کے اعتماد کو دیکھتے ہوئے اصلاحی اقدام کیا کرتے تھے اور جب وہ یہ سمجھ جاتے تھے کہ کچھ یا اکثر لوگ ان کی اطاعت نہیں کررہے ہیں وہ اپنے پروگرام کو تبدیل کردیتے تھے تاکہ پہلے مرحلے میں  دین کے  احکام  کو لوگوں پر نہ تھونپے دوسرے یہ سوچتے ہوئے کہ ان کا کسی عمل کے کرنے پر زور زبردستی کہیں انہیں دین کا مخالف نہ بنا دے اور ان کے حالات کو مزید ابتر نہ بنا دے ۔ اسی وجہ سے الہی رہبر کبھی لوگوں کی قانون شکنی کو برداشت کرتے تھے تاکہ لوگ ہلاک نہ ہوں چنانچہ انبیاء کرام(ع) اور معصومین(ع) لوگوں کی وقتی طور پر غفلت کو ان کی ابدی ہلاکت پر ترجیح دیتے تھے۔
چنانچہ یہ تاریخ میں بارہا دیکھا گیا ہے کہ لوگوں نے پیمبران الہی کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کے بتائے ہوئے دینی اصول اور رہنمائی کی طرف مطلق توجہ نہیں کی یہ وہ مرحلہ تھا کہ الہی نمائندے صرف صبر کو اپنی ڈھال بنایا کرتے تھے اور ایسے حالات میں ان کی تمام کوششیں قلیل مدتی ہلاکت کو نظرانداز کرکے طویل مدت اصلاحی پروگرام پر مرکوز ہوجایا کرتی تھی۔چنانچہ قرآن مجید میں بہت سے انبیاء کے بارے میں ملتا ہے کہ وہ لوگوں کو سوچنے اور غور و فکر کرنے اور بیدار ہونے  کی دعوت دیتے تھے تاکہ وہ ان حضرات کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دکھائے ہوئے راستہ پر چلنے کے لئے تیار ہوجائیں چنانچہ حضرت نوح (ع) ایک عرصہ دراز تک کشتی بنانے میں مشغول رہے تاکہ اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے اکثر لوگ آپ کے ہم آواز بن جائیں آپ نے لوگوں کو فرصت دی تاکہ وہ فکر کریں ، تحقیق کریں اور درست راستہ اختیار کرلیں شاید بہت سے لوگ طوفان کے شدید تھپیڑوں سے پہلے ایمان لائے اور حالت ایمان میں دنیا سے گئے اور ان سب کا ایمان حضرت نوح(ع) کے صبر کا نتیجہ تھا۔
غرض لوگوں کے حالات ، ان کے رد عمل اور ان کی معلومات کی سطح اور دیگر بہت سے عوامل  ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ہمیشہ اور طول تاریخ میں تمام انبیاء کا طریقہ تبلیغ یکساں نہیں تھا ۔ بلکہ وہ حالات، شرائط اور زمانے کے تقاضوں کے پیش نظر تبلیغ و ہدایت کا کام کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہر قوم کا انجام دوسری قوم سے مختلف دکھائی دیتا ہے اور ہر ایک کا اپنی خاص داستان و واقعہ ہوتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر تھے کہ جب اللہ نے آپ کو خبر دی کہ آپ کی قوم گوسالہ پرست ہوچکی ہے آپ غصہ کے عالم میں طور سے نیچے آئے  چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’ فَرَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِي’‘‘۔(سورہ طہ:۸۶) یہ سن کر موسٰی اپنی قوم کی طرف محزون اور غصہّ میں بھرے ہوئے پلٹے اور کہا کہ اے قوم کیا تمہارے رب نے تم سے بہترین وعدہ نہیں کیا تھا اور کیا اس عہد میں کچھ زیادہ طول ہوگیا ہے یا تم نے یہی چاہا کہ تم پر پروردگار کا غضب نازل ہوجائے اس لئے تم نے میرے وعدہ کی مخالفت کی۔
انہوں نے جواب دیا کہ ہم سامری کے دھوکہ میں آگئے تھے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (ع) اپنے بھائی اور جانشین جناب ہارون کے پاس گئے اور ان کا گریبان پکڑ کر سخت لہجہ میں ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کیسے اجازت دی کہ لوگ بچھڑے کی پوجا کرنے لگیں ؟جناب ہارون کہ جنہوں نے لوگوں کو سامری کے فریب سے بچانے کی بہت کوشش کی اور مسلسل انہیں آگاہ کرتے رہے لیکن انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی، عرض کیا:’’ قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي‘‘ ۔(سورہ طہ:۹۴) ہارون نے کہا کہ بھیّا آپ میری داڑھی اور میرا سر نہ پکڑیں مجھے تو یہ خوف تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں اختلاف پیدا کردیا ہے اور میری بات کا انتظار بھی نہیں کیا۔
جناب ہارون کا یہ جواب اپنی بے گناہی کے اعلان کے واسطے جناب موسیٰ (ع) کے لئے کافی تھا پھر اس کے بعد جناب موسیٰ (ع) نے سامری سے کہا :’’ قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَا سَامِرِيُّ ﴿٩٥﴾ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي‘‘۔(سورہ طہ:۹۵ ۔۹۶) پھر موسٰی نے سامری سے کہا کہ تیرا کیا حال ہے ۔اس نے کہا کہ میں نے وہ دیکھا ہے جو ان لوگوں نے نہیں دیکھا ہے تو میں نے نمائندہ پروردگار کے نشانِ قدم کی ایک مٹھی خاک اٹھالی اور اس کو گوسالہ کے اندر ڈال دیا اور مجھے میرے نفس نے اسی طرح سمجھایا تھا۔
قوم بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کا بت سے اس قدر گہرا تعلق ہوگیا تھا کہ جب موسیٰ علیہ السلام اس قوم کو لیکر دریائے نیل سے گذر گئے اور دوسرے کنارےپر پہونچے تو کچھ لوگوں نے آپ سے یہ چاہا کہ آپ ان کے لئے کسی بت کا انتظام کردیں تاکہ وہ اس کی پوجا کرسکیں۔ چونکہ وجہ یہ تھی ان لوگوں کے درمیان بہت سے لوگ ایسے تھے کہ جن کا دل خدائے موسیٰ کی بندگی کرنے پر آمادہ نہیں تھا اور انہوں نے جناب ہارون کہ جو موسیٰ علیہ السلام کے جانشین تھے انہیں قدر کمزور اور اکیلا کردیا تھا چنانچہ قرآن مجید کی ایک آیت میں آیا ہے کہ ہاون نے کہا:’’ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ‘‘ ۔(سورہ اعراف:۱۵۰) ہارون علیہ السّلام نے کہا بھائی قوم نے مجھے کمزور بنادیا تھا اور قریب تھاکہ مجھے قتل کردیتے تو میں کیا کرتا -آپ دشمنوں کو طعنہ کا موقع نہ دیجئے اور میرا شمار ظالمین کے ساتھ نہ کیجئے!
جب جناب ہارون کو کمزور بنا دیا گیا اور آپ کی اطاعت نہ کرکے آپ کو اکیلا کردیا گیا تو سامری کو بنی اسرائیل کی حمایت حاصل ہوگئی اور اس نےپوری امت کو یاد خدا سے غافل کردیا۔
قرآن مجید نے بنی اسرائیل کے ان واقعات میں تمام عبرت کے پہلوؤں کا تذکرہ کردیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان بھی کہیں نہ کہیں اپنے اعمال کے سلسلہ میں بنی اسرائیل جیسے ہوگئےتھے چنانچہ قرآن مجید نے جناب ہارون کی زبانی ان نکات کی طرف اشارہ کیا ہے:
۱۔ جناب ہارون نے جو کیا وہ اس وجہ سے تھا کہ کہیں قوم میں تفرقہ و اختلاف پیدا نہ ہوجائے۔
۲۔قوم نے جناب ہارون کی کوئی بات نہ سنی اور آپ کو اس قدر کمزور  اور اکیلا کردیا بلکہ امت نے آپ کو قتل کرنے تک کی کوشش کی۔
چنانچہ صدر اسلام میں ہمیں تاریخ کے دامن میں بھی ایسا ہی ماجرا ملتا ہے کہ جب رسول اللہ(ص) کا وصال ہوا بہت سے لوگ دین سے منحرف ہوگئے اور انہوں نے اسلامی اقدار کو چھوڑ دیا لیکن مذکورہ ہارون کے دو جوابات میں سے کون سی کیفیت اور حالت سے فخر ہارون اور جانشین پیغمبر اکرم(ص) کا سامنا تھا ؟
اسلامی روایات کی روشنی میں ہارون علیہ السلام کا یہ بیان امیرالمؤمنین(ع) نے بھی دہرایا ہے چنانچہ جب علی(ع) کو بیعت کرنے کے لئے مجبور کیا گیا آپ نے قبر پیغمبر اکرم(ص) پر آکر گریہ کیا اور اس آیت کی تلاوت فرمائی :’’یابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِی وَکَادُوا یَقْتُلُونَنِی فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ‘‘۔(ابن أبی الحدید، شرح نهج البلاغه،ج11،ص20)
اور جیسے ہی ولی خدا کو کمزور بنادیا گیا مسلمانوں کی مشکلات بڑھنا شروع ہوگئیں اور جب سے شروع ہوکر آج تک جاری ہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا(س) نے فقط اپنے شوہر کے حق کا دفاع نہیں کیا بلکہ آپ کی اپنی ساری کوشیشیں امت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے اور مشکلات سے نجات دلانے میں صرف کی اور اسی راہ میں آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम