Code : 2400 74 Hit

بن سلمان اور بن زائد کے تعلقات اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں:اردنی تجزیہ نگار

اردن کی ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ یمن کو لے کر سعوی ولی عہد بن سلمان اور ابوظبی کے ولی عہد بن زائد کے درمیان تعلقات میں درار آگئی ہے جس سے خطہ میں بڑے عرب بلاک ٹوٹنے کا آغاز ہوسکتا ہے۔

ولایت پورٹل:اردن کی سیاسی تجزیہ نگار اور نامہ نگار فرح مرقہ نے رای الیوم بین الاقوامی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے عنوان کو اپنے کالم کا عنوان قراردیتے ہوئے انھیں حالات کے ضمن میں عربی اتحاد کے مستقبل کی پیش گوئی کی اور  دو سوال پیش کیےہیں  
۱۔کیا بن سلمان اور بن زائد کے تعلقات کا سنہری دور اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے؟
۲۔دونوں نے اپنے بھائیوں کو ایک دوسرے کے پاس کیوں بھیجا؟
اردنی تجزیہ نگار نے  لکھا ہے کہ دس ہزار سوڈانی فوجیوں کے یمن سے نکل جانے اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات  کی جانب سے اس خبر کا اعلان کہ ہم نے شمالی یمن کے صوبہ عدن سے اپنے فوجیں نکال لی ہیں اور یہ صوبہ سعودی فوج کے حوالہ کر دیا ہے، یہ عربی اتحاد کے لیے ایک معما بن کر رہ گیا ہے ،بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ عربی اتحاد کے بکھرنے کی علامت ہے لیکن بعض کہتے ہیں کہ یہ  یمن بحران کا سیاسی حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ ہے،مرقہ نے سعودی عرب کے سلسلہ میں امارت کے حالیہ موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  دو نوں ولی عہدوں کے نظریات میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے  اگر چہ ریاض کی یہ کوشش ہے کہ وہ بن سلمان اور بن زائد کے تعلقات سے ہٹ کر ابوظبی اور ریاض کے تعلقات کو دیکھے،رای الیوم نے لکھا ہے کہ دفاعی مسائل کاجائزہ لینے کے دو ہفتہ پہلے  سعوی ولی عہد کے بھائی خالد بن سلمان ابو ظبی کے دورے پر گئے گے جس کے بعد دونوں ولی عہدوں کے نہ ملنے پر کافی سوالات اٹھنا شروع ہوگئے تھے خاص طور پر جبکہ دونوں عرب دنیا کے طاقتورافراد شمار کیے جاتے ہیں۔





0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम