0 Hit

آیت اللہ خامنہ ای کی زبانی مغرب میں آزادیٔ نسواں کے کھوکھلے نعروں کی حقیقت

مغربی دنیا نے عورت کو بے حیائی کی دلدل میں ڈھکیل دیا۔ آج سے ساٹھ ستر برس قبل یوروپ کو مغربی ممالک میں عورتوں پر مردوں کا تسلط ہوتا تھا۔ چاہے وہ مرد خود اس کا شوہرہو یا پھر کسی کارخانہ یا کھیت کا مالک۔ متمدن معاشرے میں وہ اصل انسانی حقوق سے بھی محروم تھی۔ اسے نہ ووٹ دینے کا حق تھا، نہ جائداد کا اور نہ ہی معاملات کاپھر انہوں نے عورت کو اجتماعی سرگرمیوں اور کام کاج کی طرف کھینچا تاہم اس کی لغزش و انحراف کے سامان بھی فراہم کردیئے اور اسے سماج کے درمیان تنہا اور بے یارومددگار چھوڑ دیا۔

ولایت پورٹل: یوروپ والے جو آج اپنے یہاں عورتوں کی آزادی کا دعویٰ کرتے ہیں،آج سے نصف صدی پہلے تک عورت کو اس لائق بھی نہیں سمجھتے تھے کہ اپنی ذاتی ملکیت و جائیداد میں تصرف کرے۔ ایک یوروپی یا امریکی عورت کو آج سے پچاس ساٹھ برس پہلے تک بڑی سے بڑی دولت اور جائیداد رکھنے کے باوجود، اپنے ارادہ اور رجحان کے مطابق اس میں تصرف کرنے کی اجازت نہ تھی۔ ضروری تھا کہ وہ اس جائیداد اور دولت کو اپنے شوہر، باپ یا بھائی کے حوالے کرے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اس عورت کے حق میں یا اپنے ذاتی کاموں کے لئے اسے خرچ کریں۔
اسی صدی کے ابتدائی دور یعنی عیسوی صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میں عورتیں حقیقی معنوں میں اپنی ملکیت پرحق نہیں رکھتی تھیں۔ یعنی عورت شادی کرنے کے بعد، شوہر کی اجازت کے بغیر اپنی دولت میں تـصرف نہیں کرسکتی تھی۔اب آپ اس کا موازنہ اسلامی تعلیمات و احکام سے کیجئے جہاں عورت کو مستقل حیثیت دی جاتی ہے۔
آپ ذرا غورکیجئے کہ دنیائے مغرب اور یہی یوروپی ممالک جو آج حقوق نسواں کے مدعی ہیں(جن میں تقریباً سبھی جھوٹ ہے) وہاں تمام ہونے والی اسی صدی کی ابتدائی دھائیوں میں عورت تو نہ صرف یہ کہ ووٹ دینے کا حق نہ تھا، نہ صرف یہ کہ اسے اظہار رائے اور انتخاب کا حق نہ تھا بلکہ وہ اپنی ملکیت میں تصرف بھی نہیں کرسکتی تھی۔ عورت کو میراث میں ملنے والی دولت پر بھی اختیار نہ تھا۔اس کی دولت پر شوہر کا قبضہ ہوتا تھا۔
مغربی دنیا نے عورت کو بے حیائی کی دلدل میں ڈھکیل دیا۔ آج سے ساٹھ ستر برس قبل یوروپ کو مغربی ممالک میں عورتوں پر مردوں کا تسلط ہوتا تھا۔ چاہے وہ مرد خود اس کا شوہرہو یا پھر کسی کارخانہ یا کھیت کا مالک۔ متمدن معاشرے میں وہ اصل انسانی حقوق سے بھی محروم تھی۔ اسے نہ ووٹ دینے کا حق تھا، نہ جائداد کا اور نہ ہی معاملات کاپھر انہوں نے عورت کو اجتماعی سرگرمیوں اور کام کاج کی طرف کھینچا تاہم اس کی لغزش و انحراف کے سامان بھی فراہم کردیئے اور اسے سماج کے درمیان تنہا اور بے یارومددگار چھوڑ دیا۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین