Code : 860 10 Hit

سعودی عرب کے حکمراں اور ولیعہد کے درمیان اختلاف کی اصل حقیقت

اصلی بات یہ ہے کہ باپ بیٹوں کے درمیان اختلاف کو خود سعودی میڈیا ہوا دے رہا ہے اور یہ اس کا ایک سیاسی حربہ ہے ۔ چونکہ گذشتہ چند برسوں میں سعودی عرب کی ساکھ کو کافی نقصان پہونچا ہے اور مسلسل آج سعودی عرب مسلمانوں سمیت پوری دنیا کے لوگوں کی تنقید کی زد پر ہے۔

ولایت پورٹل: برطانیہ کے مشہور اخبار  دی گارڈین نیوز پیپر نے اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے فرمانروا اور ان کے ولیعہد بیٹے کے درمیان بڑھتی ہوئے اختلاف کا پردہ چاک کیا ہے۔
جب سے گارڈین نے یہ رپورٹ شائع کی ہے میڈیا میں ان دونوں باپ بیٹوں کے اختلاف کو شدت کے ساتھ ظاہر کیا جارہے ہے۔ جبکہ اگر گارڈین کی رپورٹ کو توجہ سے پڑھا جائے تو یہ بات با آسانی سمجھ میں آجائے  گی کہ یہ رپورٹ محض ایک افواہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔چونکہ اس رپورٹ کو پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید رپورٹر سعودی عرب کے انداز سیاست سے واقف نہیں ہے اور نہ ہی شاید وہ آل سعودی کی مکاریوں کو جانتا ہے۔
جیسا کہ رپورٹ میں بتلایا گیا ہے کہ بن سلمان نے اپنے باپ کی مرضی کے بغیر دو لوگوں کے عہدوں میں از خود ترمیم کردی ہے اور یہ دو تقرریاں ایسے وقت پر انجام دی گئیں جب خود سلمان بن عبدالعزیز اپنے مصر کے دورے پر تھے ۔ان میں پہلی تقرری خود اپنے بھائی خالد بن سلمان کو امریکہ میں سعودی سفیر کے عہدے سے ہٹا کر وزیر جنگ اور خود اپنا نائب بنا لینا ہے جبکہ ریم بندر بن سلطان کو اس کی جگہ امریکہ میں سعودی کا نیا سفیر مقرر کیا ہے
جبکہ حقیقت یہی ہے کہ محمد بن سلمان ہی اس وقت سعودی عرب کے اصلی حکمراں ہیں کیونکہ کافی عرصہ سے ان کے باپ کی طبیعت خراب ہے اور ان کا ذہنی توازن اس قابل نہیں ہے کہ وہ ملک و بیرون ملک کے حساس مسائل کے سلسلہ میں زیادہ توجہ مرکوز کرپائیں۔اسی لئے وہ خارجہ پالیسی اور داخلہ حساس موضوعات پر منعقد مٹینگوں سے غائب رہتے ہیں۔
اور اگر سعودی فرمانروا سے کسی خارجہ مہمان کی ملاقات بھی ہوتی ہے تو وہ صرف اس حد تک کہ وہ ان کے پاس بیٹھ کر قہوہ پی سکیں اور کچھ تصاویر کھینچ جائیں تاکہ انہیں میڈیا اور سوشل میڈیا کے حوالہ کردیا جائے اور بس۔اور یہ بات ایک عالمی وفد کے سربراہ نے میڈیا کو بتلائی ہے۔
اصلی بات یہ ہے کہ باپ بیٹوں کے درمیان اختلاف کو خود سعودی میڈیا ہوا دے رہا ہے اور یہ اس کا ایک سیاسی حربہ ہے ۔ چونکہ گذشتہ چند برسوں میں سعودی عرب کی ساکھ کو کافی نقصان پہونچا ہے اور مسلسل آج سعودی عرب مسلمانوں سمیت پوری دنیا کے لوگوں کی تنقید کی زد پر ہے۔
جہاں ایک طرف خود سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں پر بے جا سختیاں تو دوسری طرف اقلیتوں کے حقوق کی تاراجی،کہیں آزاد صحافت پر حملہ تو کہیں خود شام و عراق میں داعش کی بے دریغ حمایت، اور آج سعودی عرب کے لئے سب سے بڑی مصیبت یمن جنگ بن چکی ہے۔کہ جہاں گذشہ چار برسوں میں لاکھوں بچے اور عورتیں شہید تو لاکھوں گھر اجڑ چکے ہیں۔ہاں سب سے اہم بات کہ آج تک کسی بھی مسلمان حکومت نے غاصب اسرائیل کو رسمی ریاست تسلیم نہیں کیا تھا لیکن اسی بن سلمان نے ٹرمپ جیسے نامراد کے ہاتھوں کا کھیلونا بن کر امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔لہذا آج مسلمان بیدار ہوچکے ہیں۔ اب سعودی عرب کی میڈیا کا کوئی بھی حربہ آل سعودی کی آبرو کو نہیں بچا سکتا۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम