Code : 3835 20 Hit

حضرت علی(ع) کی نظر میں حکومت کا مقصد

حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں ابن عباس حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔حضرت علی علیہ السلام اس وقت اپنی بوسیدہ نعلین میں ٹانکا لگا رہے تھے۔ حضرت(ع)نے ابن عباس سے پوچھا: ائے ابن عباس! یہ بتاؤ ہماری اس نعلین کی کیا قیمت ہے ؟ ابن عباس نے کہا ،کوئی قیمت نہیں !آپ(ع) نے فرمایا میری نظر میں یہ نعلین تم لوگوں پر کی جانے والی حکومت سے بہتر ہے ۔ مگر یہ کہ میں اس حکومت کے ذریعہ عدالت کا اجرا کرسکوں ،حق صاحب حق کو دلاسکوں اور باطل کو نابودکرسکوں ۔

ولایت پورٹل: نمائندگان الہی کا مقصد صرف اللہ کے بندوں کی ہدایت اور رہنمائی تھا چونکہ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی ساری کتابیں اور اس کی طرف سے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین(ع) آئمہ اور اولیاء(ع) سب اسی مقصد کے لئے آئے کہ انسان ہدایت یافتہ بن جائے ۔اسے کمال و سعادت میسر آجائے۔انبیائے الہی کا مقصد صرف یہ تھا کہ دنیا میں الہی نظام حاکم ہو جس میں پروران چڑھ کر انسان اپنے کمال مطلوب کو حاصل کرلے ۔اگرچہ کچھ انبیاء(ع) کو اللہ نے حکومت بھی دی لیکن کبھی ان کے دل میں سرداری، جاہ و حشم، اقتدار کا لالچ نہیں آیا بلکہ انہوں نے  حکومت پاکر بہتر طور پر اس کے بندوں کی مدد کی۔ چونکہ انہیں معلوم تھا کہ  خدمت خلق کا ایک بہترین ذریعہ حکومت ہے اور نمائندگان الہی کی حکومت یعنی خدا کے قانون کی حکومت۔ اور اگر ایسا ہوجائے تو پھر دنیا سے ظلم و جور کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ہر طرف عدل کا بول بالا ہوگا ۔نمائندگان الہی کا مقصد یعنی الہی قانون کا نفاذ۔ چنانچہ جہاں بہت سے انبیاء کو حکومت ملی جیسا کہ خود حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت یوسف اور خود سرکار ختمی مرتبت(ص) نے حکومت کی لیکن سیرت ملاحطہ فرمائیں کہ سرکار اپنے اصحاب کے درمیان بغیر کسی امتیاز کے بیٹھ جایا کرتے تھے اس طرح کے آنے والوں کو یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ بادشاہ کون ہے اور رعایا کون؟ ان عظیم ہستیوں نے ایسی حکومت کو کبھی پسند نہیں کیا جس کا مقصد لوگوں کی تحقیر  و تذلیل ہو۔حضرت علی علیہ السلام بھی چونکہ اللہ کے نمائندے تھے  آپ نے بھی   اپنے کلام  و سیرت کے ذریعہ ایسی ہر حکومت وریاست کی  مذمت اور تحقیر فرمائی ہے جس کا مقصد جاہ طلبی اور انسانوں پر حکمرانی کی ہوس رہی ہو ۔آپ(ع)  کی نظر میں ان مقاصد کے زیر نظر تشکیل پانے والی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ آپ نے  ایسی حکومت کو اس کے سارے زرق و برق کے باوجود سور کی اس ہڈی سے زیادہ پست تعبیر کیا ہے جو کسی مجذوم کے ہاتھ میں ہو ۔
لیکن اگر یہی حکومت وریاست اپنے حقیقی واصلی محور ومرکز پر ہو یعنی اس کے ذریعہ معاشرہ میں عدالت کو رواج دیا جارہا ہو ،حق کا بول بالا ہورہا ہو اور معاشرہ کی خدمت کی جارہی ہو تو ایسی حکومت حضرت علی علیہ السلام کی نگاہ میں نہایت مقدس ہے اور  آپ(ع) کی یہی کوشش تھی کہ ایسی حکومت ان حریف ورقیب اور مفاد پرست وفرصت طلب افراد تک نہ پہنچنے پائے۔آپ(ع)نے ایسی حکومت کی بقا وحفاظت اور سرکشوں کی سرکوبی کے لئے تلوار اٹھانے سے دریغ نہیں فرمایا ۔
حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں ابن عباس حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔حضرت علی علیہ السلام اس وقت اپنی بوسیدہ نعلین میں ٹانکا  لگا رہے تھے۔ حضرت(ع)نے ابن عباس سے پوچھا: ائے ابن عباس! یہ بتاؤ ہماری اس نعلین کی کیا قیمت ہے ؟ ابن عباس نے کہا ،کوئی قیمت نہیں !آپ(ع) نے فرمایا میری نظر میں یہ نعلین تم لوگوں پر کی جانے والی حکومت سے بہتر ہے ۔ مگر یہ کہ میں اس حکومت کے ذریعہ عدالت کا اجرا کرسکوں ،حق صاحب حق کو دلاسکوں اور باطل کو نابودکرسکوں ۔
حضرت امیر (ع) حقوق کے سلسلہ میں ایک عام  بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ حقوق ہمیشہ دوطرفہ ہوتے ہیں ،منجملہ حقوق اللہ ۔حقوق کو اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ ہر حق دوسرے حق کے مقابل قرار پاتا ہے ۔ہر وہ حق کہ جو انفرادی یا اجتماعی منفعت کا حامل ہوتا ہے وہ دوسرے حق کو وجود بخشتا ہے کہ جس کے بجا لانے پر انسان مجبور ہوتا ہے ہر حق اس وقت واجب ہوجاتا ہے کہ جب دوسرا (انسان) بھی ان حقوق کو جو اس کی گردن پر ہیںادا کرے ۔
’’وَاَعْظَمُ مَاافْتَرَضَ سُبْحَانُہٗ مِنْ تِلْکَ الْحُقُوْقِ حَقُّ الْوَالِیْ عَلٰی الرَّعِیَّۃِ وَحَقُّ الرَّعِیَّۃِ عَلَی الْوَالِی فَرِیْضَۃٌ فَرَضَھَااللّٰہُ سُبْحَانَہٗ لِکُلٍ عَلٰی کُلِّ، فَجَعَلَہَا نِظَامًا لِاُلْفَتِہِمْ وَ عِزًّا لِدِیْنِہِمْ فَلَیْسَتْ تَصْلُحُ الرَّعِیَّۃُ اِلَّابِصَلَاحِ الْوُلَاۃِ وَلَا تَصْلُحُ الْوُلَاۃُ اِلَّا بِاسْتِقَامَۃِ الرَّعِیَّۃِ فَاِذَا اَدَّتِ الرَّعِیَّۃُ اِلیٰ الْوَالِی حَقَّہٗ وَاَدّیٰ الْوَالِی اِلَی اِلَیْہَا حَقَّہَا عَزَّ الْحَقُّ بَیْنَہُمْ وَقَامَتْ مَنَاہِجُ الدِّیْنِ وَ اعْتَدَلَتْ مَعَالِمُ الْعَدْلِ وَ جَرَتْ عَلٰی اَذْلَالِہَا السُّنَنُ فَصَلَحَ بِذَالِکَ الزَّمَانُ وَ طُمِعَ فِیْ بَقَائِ الدَّوْلَۃِ وَ یَئِسَتْ مَطَامِعُ الْاَعْدَاءِ‘‘۔(نہج البلاغہ خطبہ۲۱۶)
ان حقوق میں سب سے اہم حق جسے خداونداعالم نے ایک دوسرے پر واجب کیا ہے وہ حکمراں کا حق رعایا پر اور رعایا کا حق حکمراں پر ہے۔ خداوندکریم نے انسانی برادری کے لحاظ سے ہر فرد پر ایک دوسرے کے حق کو فریضہ بناکر عاید کیا ہے اور اسے باہمی محبت اور مذہبی برتری اور سماجی واجتماعی روابط کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔ عوام کبھی خیروصلاح سے بہرہ مند نہیں ہوسکتی جب تک ان کی حکومت صحیح نہ ہو اور حکومتیں اس وقت تک اپنے کو نہیں سدھار سکتیں جب تک عوام کا جذبۂ حمایت و پامردی اسے حاصل نہ ہو ۔
جب رعایا قوانین حکومت کی وفادار ہوگی اور حاکم رعایا کے حقوق سے عہدہ برآ ہورہاہوگا اس وقت عوامی زندگی میں حق کا بول بالا ہوسکتا ہے اور ارکان دین محکم واستوار ہوسکتے ہیں اس کے بعد عدل وانصاف صحیح طور سے نمایاں ہوسکتا ہے اور اس وقت انبیائؑ کی سنتیں اپنے ڈھرّے پر چل نکلیں گی، زمانہ مین سدھار کا ظہور ہوگا اور آپس میں دوستانہ ماحول پیدا ہوجائے گا اور اس وقت ایسی حکومت سے دشمنوں کی آرزوئیں یاس وناامیدی میں بدل جائیں گی ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین