Code : 2391 51 Hit

عربوں کا پروپگنڈہ امریکہ کی زبان سے جاری

حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ نے سینچر ڈیل کو عربوں کا کیا دھرا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بعض عرب ملکوں کی چال ہے جو امریکہ کی زبان سے ادا ہورہی ہے

ولایت پورٹل:حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ خالد مشعل نے  ترکی کے شہر استنبول میں  مسجد الاقصی کے علمبردار کے عنوان سے ہونے والی کانفرانس کے ضمن  میں گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ صدی ڈیل  عربوں کا بنایا ہوا مسئلہ ہے جو امریکہ کی زبانی دنیا میں پیش کیا جارہا ہے  لیکن جن لوگوں نے عربوں کی طرف سے اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا وہ یا تو شکست کھا چکے ہیں یا پیچھے ہٹ چکے ہیں،انھوں نے مزید کہا کہ فلسطین میں ہمارے درمیان اختلاف پائے جاتے ہیں لیکن  صدی ڈیل کو مسترد کرنے کے معاملہ میں ہم سب ایک ہیں ،یہ معاملہ فلسطینیوں کی مرضی کے بغیر کامیاب نہیں سکتا ،اس کی وجہ سے ہمیں کافی نقصان ہوا ہے جیسے جولان کو اسرائیل کو دیاجانا،امریکی سفارت کا بیت المقدس منتقل ہوجانا،امدا د کا بند ہوجانا وغیرہ لیکن اس کے باجود اصل مسئلہ میں کوئی فرق نہیں آیا ہے،خالد مشعل نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی تگ دو میں صرف کچھ ہی ممالک لگے ہوئے  اور اوپر سے افسوس کی بات یہ کہ وہ ان تعلقات کو بھال کرنے کی ابتدا  کھیل کے میدان سےکر رہے ہیں۔
انھوں نے مزاحمتی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  اس تحریک نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ہے ،غزہ کی جنگ اب اسرائیل کے لیے وبال جان بن گئی ہے اور بم بن کر اس پر برس رہی ہے لیکن میں پھر بھی کہنا چاہوں گا کہ ہم جنگ نہیں کرنا چاہتے،ہم فلسطین کی آزادی کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔
خالد مشعل نے فلسطین کے مسئلہ میں بین الاقوامی برادری کے رول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ مالی ،اسلحہ جاتی اور دیگرمیدانوں میں انھیں فلسطینیوں کی مدد کرنا چاہیے نیزاسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے منصوبہ کو ناکام بناتے ہوئے  فلسطین کے متعلق عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنا چاہیے نیز بین الاقوامی میدان میں اسرائیل کے خلاف کاروائی  کرنا چاہیے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम