Code : 3093 14 Hit

وعدے تو بڑے بڑے کیے تھے پر عمل ایک پر بھی نہیں کیا؛کئی پاکستانی گھرانوں کی بن سلمان کی شکایت

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جب پاکستا ن آئے تھے تو یہاں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر ہوں گے اور واپس پہنچتے ہی اس ملک میں قید 2107 پاکستانیوں کو رہا کر دیں گے لیکن انھوں نے وہاں جانے کے بعد ایسا کچھ نہیں کیا۔

ولایت پورٹل:سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کے اپنے دورے کے دوران  دعوی کیا تھا کہ وہ جیسے ہی واپس سعودی عرب پہنچیں گے تو 2107 پاکستانیوں کی اس ملک کی جیلوں سے رہا کر دیں گے  جس کی وجہ سے ان افراد کے گھروالے کافی خوش ہوئے تھے لیکن بن سلمان نے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا جس کے بعد پاکستانی متعددگھرانے ان سے ناراض ہوئے جن میں کم سے دس کنبوں  نے ان کی شکایت کی ہے۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ بن سلمان نے جھوٹ بولا کہ وہ ہمارے عزیزوں کو رہا کردیں گے،رہائی تو دور کی بات ہمیں ابھی تک یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ سعودی حکومت نے  انھیں  کس جرم میں جیل میں ڈالا ہے۔
سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے کنبوں کا کہنا ہے  ریاض حکومت تمام بین الاقوامی قوانین کو پائمال کرتے ہمیں اس بات کی بھی اجازت نہیں دے رہی ہے کہ ہم اپنے عزیزوں  کے ساتھ رابطہ کر سکیں۔
پاکستان عدلیہ کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد میں 24٪ اضافہ ہوا ہے ، جو ایک تشویش ناک بات ہے۔
دوسری طرف ایک طویل عرصے سے اپنے شہریوں کے حقوق کے حصول میں مصروف ہیں پاکستانی سرکاری عہدیداروں نے ریاض کی جانب سے بار بار نظرانداز ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور اب ان کے پاس عوامی مطالبات کا کوئی واضح جواب نہیں ہے۔
پاکستانی عدلیہ نے اسلام آباد کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالے کہ وہ وہاں قید پاکستانی شہریوں کو واپس کریں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے بیرون ملک مقیم قیدیوں کی اکثریت سعودی عرب میں ہے ، جن میں سے بیشتر غریب لوگ ہیں جو کام کے لئے سعودی عرب آئے ہیں ، لیکن بہت سے معاملات میں انھیں قید کردیا گیا ہے وہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا ہے۔
 

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम