Code : 2509 23 Hit

وزیر اعظم کا انتخاب رائے شماری سے ہونا چاہیے:سائرون

عراق کے سائرون اتحاد نے نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے پر رائے شماری کا مطالبہ کیا ہے لیکن پارلیمنٹ کے قانونی کمیشن سےاسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔

ولایت پورٹل:مقتدیٰ الصدر کی سربراہی میں عراق کے سائرون پارلیمانی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ  پارلیمنٹ کی جانب سے عادل عبدالمہدی کے استعفیٰ کی منظوری کے بعد ان کے جانشین کا انتخاب کرنے کے لئے سیاسی دھڑوں کے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے،اس اتحاد نے ایک بیانیہ بھی جاری کیا ہے جو المعلومہ نیوز ویب سائٹ میں چھپا بھی ہے اس میں  انھوں  نے کہا ہے کہ وہ عبدالمہدی  کے جانشین کو منتخب کرنے کے لئے سیاسی گروہوں کے کسی بھی اجلاس میں شرکت نہیں کریں اس لیے کہ یہ عوام اور مظاہرین کا حق ہے کہ  انہیں معزول وزیر اعظم کا جانشین منتخب کرنا چاہئے،دوسری طرف ، پارلیمانی قانونی کمیشن نے نئے مذکورہ  سرگوشیوں کے جواب میں کہا کہ عادل عبدالمہدی کے استعفیٰ کو قبول کرنے کے بعد رائے شماری کا انعقاد غیر قانونی ہے،پارلمانی کمیشن کے رکن سلیم ہمزہ نے کہا  ہے کہ  ہمارے ملک کا سیاسی نظام صدارتی نظام نہیں ہے اور نہ ہی وزیر اعظم کے انتخاب پر رائے شماری کرانے کا کسی سیاسی گروپ کو حق نہیں ہے لہذاریفرنڈم کا انعقاد ملکی آئین کے منافی ہے جس پر عمل  نہیں کیا جاسکتا،انہوں نے مزید کہاکہ وزیر اعظم کی نامزدگی کا اعلان صدر ابرہم صالح کے توسط سے کیا جانا چاہئے ، اور پارلیمنٹ مجوزہ امیدوار کی سیاسی اور عوامی قبولیت کے بعد اس کے حق میں اپنا ووٹ دے سکتی ہے،قابل ذکر ہے  کہ ایک طرف سائرون نئے وزیر اعظم کے انتخابات کے لیے رائے شماری کرانے پر زور دے رہے ہیں اور دوسری طرف عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے ملکی انتخابات اور الیکشن کمیشن کے قانونی نقطۂ نظر سے جائزہ لینے کے لیے آج ہونے والی نشست میں تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کرنا ہوگی،یہ اجلاس محمد الحلبوسی  کی صدارت اور ملک کے سیاسی دھڑوں کے سربراہان اور نمائندوں  کی موجودگی میں آج (بغداد کے وقت کے مطابق) بارہ بجے ہوگا۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम