Code : 4791 45 Hit

انسانی زندگی پر دوستی کے مثبت و منفی اثرات

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دوست کسی بھی انسان کی شخصیت کو سنوارنے، بگاڑنے اور اسے جہت دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور صرف دوستی ایک فرد کا انتخاب نہیں بلکہ ایک شخصیت، اور اپنے لئے ایک مستقبل کا انتخاب ہے۔

ولایت پورٹل: انسان فطری طور پر ایک اجتماعی مخلوق ہے۔ یہ اکیلا زندگی بسر نہیں کرسکتا بلکہ اسے ہر آن دوسروں کے تعاون کی ضرورت رہتی ہے۔ کسی دوست اور ہم نشین کی صحبت اختیار کرنا اس صدائے فطرت پر لبیک کہنے کا سب سے اچھا ذریعہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کسی اچھے اور مخلص دوست کی ہم نشینی اتنی آسان نہیں ہے۔لہذا ہمیں کسی کو دوست بنانے سے پہلے قرآن و سنت اور سیر اہل بیت(ع) میں مذکور معیارات کا لحاظ رکھنا چاہیئے تاکہ ہمیں اس سنگلاخ وادی میں کوئی ہمدم، ہمراز اور مخلص رفیق مل جائے۔چنانچہ رسول اللہ(ص) نے اپنی امت کے لئے کسی کو دوست بنانے کا سب سے پہلا معیار یہ ارشاد فرمایا ہے:’’سب سے سعادت مند اور خوش نصیب وہ انسان ہے جو عظیم لوگوں کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرے‘‘۔(عین الحیوۃ،ص ۴۳۳)
اس حدیث مبارک کی روشنی میں یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کی شخصیت کی پہچان کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ دیکھ لیا جائے کہ اس کے حلقہ احباب میں کیسے لوگ ہیں؟
اگر اس کے حلقہ احباب میں صالح، عقلمند اور وقت شناس لوگ ہوں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا ہے کہ خود یہ انسان کیسا ہے۔ لیکن اگر حلقہ احباب میں عظیم صفات کے حامل افراد نہ ہوں تو یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فرد کی حقیقت و وقعت کیا ہے۔
ایک اچھے دوست کے صفات
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دوست کسی بھی انسان کی شخصیت کو سنوارنے، بگاڑنے اور اسے جہت دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور صرف دوستی ایک فرد کا انتخاب نہیں بلکہ ایک شخصیت، اور ایک مستقبل کا انتخاب ہے۔ لہذا ماہرین اخلاق نے ایک اچھے دوست کو مندرجہ ذیل صفات کا حامل قرار دیا ہے :
الف) آپ کے لئے اس کے ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہ ہو ۔
ب) وہ اپنے دوست کی خوبیوں اور عزت کو اپنا حُسن اور جمال تصور کرے اور اسکی برائی کو اپنی برائی سمجھے۔
ج) حصول مال و منصب کے بعد،آپ کی نسبت اس کے انداز دوستی میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔
د) رفاقت کی خاطر اس کے پاس جو کچھ ہو وہ دوست کو دینے سے دریغ نہ کرے۔
ح) سخت، بحرانی حالات و مصائب میں وہ آپ کا ساتھ نہ چھوڑ دے۔
یہ وہ عظیم و گرانقدر صفات ہیں جو ایک دوست میں ہونے چاہیئے۔ اگرچہ کوئی ایسی ذات ملے جس میں یہ سب صفات یکجا پائے جائیں یہ بہت مشکل امر ہے۔ اور اگر کسی کو نصیب سے ایسا دوست مل بھی جائے تو یقیناً جیسا کہ خود سرکار ختمی مرتبت(ص) نے فرمایا کہ وہ سعادت مند انسان ہے۔ وہ دنیا میں بھی کامیاب ہے اور آخرت میں بھی۔لیکن اگر کسی دوست میں یہ جملہ صفات نہ پائے جائیں تو وہ ان میں سے جتنے زیادہ صفات کا حامل ہوگا وہ دوستی کے لئے اتنے ہی درجے موزوں قرار پائے گا۔ البتہ یہ سب صفات صرف دوست میں ہی نہیں بلکہ ہمیں خود بھی اپنے اندر پیدا کرنے چاہیئے چونکہ یہ ایک طرفینی معاملہ ہے ، ایسا نہیں ہے کہ دوست تو عرش اعظم کا ستارہ ڈھونڈ رہے ہوں اور اپنے اندر ایک بھی اچھی بات اور صفت موجود نہ ہو۔
دوستی برقرار رکھنے کا طریقہ
دوست بنانے سے بھی زیادہ اہم مسئلہ دوستی کے تقاضوں کو پورا کرنا اور اسے باقی رکھنا ہے۔بسا اوقات اچھا دوست بھی مل جاتا ہے لیکن ہم اپنے بُرے رویہ اور غلط انداز تخاطب کے سبب اسے اپنے سے دور کربیٹھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ احادیث میں ایسے شخص کے لئے کمزور اور ناتواں جیسی تعبیرات ملتی ہیں چنانچہ امام علی(ع) سے منقول ہے:’’أَعجَزُ النَّاسِ مَن عَجَزَ عَنِ اکتِسابِ الإخوَانِ، وَ أَعجَزُ مِنهُ مَن ضَیعَ مَن ظَفِرَ بِهِ مِنهُم ‘‘۔(نہج البلاغہ، حکمت:۱۲)
سب سے عاجز و ناتواں وہ شخص ہے جو کسی کو اپنا دوست و مُصاحب نہ بنا سکے اور اس سے بھی عاجز و ناتواں وہ ہے جو دوست پاکر بھی اسے کھو دے۔
حکیم لقمان کے واقعات میں ملتا ہے کہ ایک دن انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت فرمائی: بیٹا! لوگوں کے ساتھ دوستی کے سلسلہ میں وہ رویہ نہ اپناؤ جو ان پر گراں گذرے اور کبھی ان پر کوئی ایسی چیز مت تھونپو جسے وہ برداشت نہ کرسکیں۔ اگر تم نے ایسا کیا تو جس دوست کو تمہارا یار و مددگار ہونا چاہیئے وہ تم سے دور ہوجائے گا اور پھر تم معاشرے میں اکیلے رہ جاؤگے اور جب تنہا ہوجاؤ گے تو پھر ذلت و رسوائی تمہارے اطراف میں خیمہ زن ہوجائے گی۔لہذا تم ایسے شخص کے سامنے کبھی معذرت طلب مت کرنا جو درگذر کرنا نہ جانتا ہو، اور کبھی ایسے شخص سے کام مت کروانا جو تم سے اجرت نہ لینے پر تیار نہ ہو، چونکہ جو تم سے اجرت لے گا وہ تمہارے کام کو اپنا کام سمجھ کر کرے گا۔ چنانچہ وہ اجرت اس کے لئے دنیاوی فائدہ ہوگی اور تمہارے لئے اخروی۔ لیکن وہ دوست جن سے تم کسی کام میں مدد چاہو وہ محبت کرنے والے لوگ ہوں، قدر کفاف آذوقہ رکتھے ہوں ، عزت دار اور صاحبان کرامت ہوں،جو تمہاری موجودگی میں تمہارا شکریہ ادا کریں اور تمہاری پیٹھ پیچھے تمہیں خیر کے ساتھ یاد کریں۔
بیٹا! تم ناراضگی کا مظاہرہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لینا اور صبر کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑنا اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارا کوئی بھی دوست نہیں رہے گا اور سب تم سے منھ موڑ لیں گے لہذا جملہ امور کی انجام دہی میں اپنے کو صبر کرنے اور مشقت سے کام لینے کا عادی بناؤ‘‘۔(آقای حجتی، اسلام و تعلیم و تربیت،ص ۱۳۵)
نیک افراد سے دوستی کے تربیتی و اصلاحی آثار
نیک لوگوں سے دوستی کرنے کے بہت سے فوائد و ثمرات ہوتے ہیں البتہ ممکن ہیں کچھ فوائد وقتی طور پر جلدی ظاہر ہوجائیں اور ممکن ہے اس کے اثرات ایک عرصہ بعد ظاہر ہوں چنانچہ ذیل میں ہم کچھ مثبت آثار کا تذکرہ کر رہے ہیں جو نیک و صالح افراد کی ہمنشینی اور مصاحبت کے طفیل انسان کو میسر ہوسکتے ہیں:
الف) نیک لوگوں سے دوستی انسان کو ان کی صف میں قرار دیئے جانے کا ذریعہ ہوتی ہے۔
ب) نیک افراد سے دوستی کے سائے میں انسان کے تجربات کا دامن وسیع ہوجاتا ہے۔
ج) نیک افراد کی دوستی انسان کو زندگی کے پر نشیب و فراز وادیوں میں چلنا سکھاتی ہے۔
د) نیک افراد کی دوستی انسان کو ملال آور تنہائی سے نجات دلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
ھ) اچھے دوستوں کے ہونے کے سبب دوسرے لوگ آپ کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان رکھتے ہیں۔
و) نیک افراد کی دوستی کے سبب، دیگر لوگ آپ پر زیادہ اعتماد و اطمئنان کرتے ہیں۔
ز) نیک دوست ہمیشہ اچھے استاد اور معلم کا کردار ادا کرتے ہیں جن سے آپ ہر لمحہ اچھی چیزیں سیکھتے ہیں۔
ح) نیک افراد کی ہمراہی و ہمنشینی انسان کو گناہ اور برائیوں سے روکتی ہے اور ان کے حضور شرمندگی اسے بہت سے عیوب سے نجات دینے کا ذریعہ ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام سجاد(ع) نیک افراد کے ساتھ دوستی کی اہمیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں:’’ نیک افراد کی ہمنشینی اور دوستی انسان کو اصلاح کی دعوت دیتی ہے‘‘۔(بحار الانوار، ج 1، ص 141)
بُرے دوستوں سے دوستی کے منفی اثرات
جس طرح اچھے اور نیک لوگوں سے دوستی کے مثبت اثرات ہوتے ہیں ویسے ہی بُرے دوستوں کی ہمنشینی کے بُرے اور منفی اثرات انسان کی زندگی پر پڑتے ہیں اور کوئی بھی شخص یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ اپنے بُرے دوستوں کے منفی اثرات سے محفوظ  ہے۔ اگرچہ ممکن ہے کہ بُرے لوگوں کی ہمنشینی کے منفی اثرات اس وقت ظاہر نہ ہوں لیکن دیر ہی سے سہی، انسان کی روح اور ضمیر پر اس کے نفی اثرات ضرور مترتب ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امام علی(ع) اپنے چاہنے والوں سے فرماتے ہیں کہ: ایک مسلمان اور مؤمن کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی فاسق و بدکار سے دوستی کرے چونکہ وہ اپنے بُرے اور گھٹیا عمل کو بھی خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے اور اسے یہ توقع رہتی ہے کہ دوسرے بھی اس کی اتباع کریں۔(نہج البلاغہ، حکمت:۹)
بُرے افراد کی دوستی کے منفی اثرات اس حد تک ہے کہ قرآن مجید صریح طور پر ان لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ جنہوں نے دنیا میں بُرے لوگوں سے رفاقت کی تھی:’’ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا‘‘ ۔(سورہ فرقان:۲۸)
ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔
آخر میں ہم اللہ کی بارگاہ میں دعاکرتے ہیں کہ پروردگار ہمیں دنیا میں نیک لوگوں کی ہمنشینی نصیب فرما تاکہ ہم دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سعادت مند بن سکیں!

تحریر: سجاد ربانی
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین