Code : 4123 4 Hit

لبنانی حکومت کے استعفے کے بعد اس ملک کی سیاسی صورت حال؛ ایک تجزیہ

لبنان کی ایک ویب سائٹ نےلبنانی وزیر اعظم حسن دیاب کی حکومت کے استعفی اور ملک کی موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے اس صورتحال کے لئے تین منظرناموں کی پیش گوئی کی ہے۔

ولایت پورٹل:النشرہ نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد جس دن سے حسن دیاب کی حکومت نے استعفیٰ دیا  ہےاس دن سے قیاس آرائیاں شروع ہوئیں کہ اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے،اسی سلسلہ میں لبنانی قلمکار حسن ہردان نے موجودہ صورتحال میں لبنان کے لئے درج ذیل تین منظرناموں کی پیش گوئی کی ہے۔
14 مارچ تحریک قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے پر مبنی   فرانس اور اس کے صدر "ایمانوئل میکرون" کے منصوبہ  کو لے کرموجودہ بحران کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے ان کے ساتھ ہو جائے گی، یہ مسئلہ ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے ولید جنبلاط  کی اس ہفتے لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیه بری کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں صاف دکھائی دے رہا تھا، انہوں نے موجودہ معاشی بحران کے حل ، بیروت کی تعمیر نو اور اصلاحات لانے کے لئے حکومت بنانے کا مطالبہ کیا  جس کا مطلب قبل از وقت انتخابات کرانے کے موقف سے پیچھے ہٹنا ہے۔
دوسرا؛ اکثریت کو لے کر نئی حکومت کی تشکیل ، اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہ  دیاب حکومت کے تجربے کو نہ دہرائے اور بحرانوں کے فوری حل تلاش کرنے کے لئے عملی اقدامات کرئے چنانچہ حکومت سازی کے پہلے ہی لمحے سے ہی لبنانی بحران کے حل کے لئے چینی ، عراقی اور ایرانی تجاویز کو قبول کرے۔
تیسرا؛ عبوری حکومت ایک طویل عرصے تک حالیہ امور کو آگے بڑھاتی رہے گی جب تک حل کی شرائط فراہم نہیں ہو جاتی ہیں، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعین اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک امریکی انتخابات اور امریکی پالیسی کے نتائج اگلے مرحلے میں واضح نہیں ہوجاتے کہ امریکہ معاشی جنگ جاری رکھے گا یا یہ  کہ لبنان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ جاری تنازعات کے میدانوں میں حساب بے باک کی طرف بڑھے گا، اس سلسلے میں لبنانی پارلیمنٹ کی نائب اسپیکر "ایلی الفرزلی" نے پیش گوئی کی ہے کہ ستمبر کے آغاز تک لبنان میں نئی حکومت تشکیل دی جائے گی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین