Code : 2342 121 Hit

پیغمبر اکرم(ص) کی سیاسی بصیرت

مدینہ سب سے پہلی وہ اسلامی حکومت ہے جہاں ہر ایک چاہے وہ حاکم ہو یا رعایا،سب اللہ کے قانون کے آگے سر جھکائے ہوئے ہے، آپ کی حکومت کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ عرب جو صدیوں سے الگ الگ قبائلی نظام میں تقسیم ہوکر رہ گیا تھا وہ اب مکمل ایک حکومت میں تبدیل ہوچکا تھا اور ساتھ ہی اسلامی تہذیب اور کلچر کا ایسا مرکز اور سینٹر بن چکا تھا جس کے آگے ساری دنیا سر جھکائے ہوئے تھی۔

ولایت پورٹل: اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد مصطفٰی (ص)  اس دنیا کے سارے انسانوں کے لئے زندگی گذارنے کے صحیح اور سب سے مکمل قانون لیکر آئے ،آپنے انفرادی اور سماجک دونوں زندگی میں مکمل آئیڈیل بن کر دکھایا ، آپ نے اپنی پاک زندگی میں اس دنیا میں پہلی سانس لینے سے لیکر آخری سانس تک اپنے مبارک وجود میں وہ سارے زندگی کے اصول جمع کردیئے تھے جو ساری انسانیت کے لئے نقلید اور پیروی کرنے کے لائق ہے ، اللہ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمارے درمیان پیغمبر(ص) جیسی عظیم ہستی بھیجی، جس وقت آپ اس دنیا میں تشریف لائے اس وقت یہ دنیا جہالت اور گمراہی کا سامنا کررہی تھی ،ہر چھوٹی بات کے لئے کئی کئی سال تک لوگ لڑا کرتے تھے۔ تہذیب کے نام پر غیر انسانی چیزوں کو رائج کیا جارہا تھا ، سماج کی ہر مشکل کا حل ٹوٹکے اور جادو ٹونے میں تلاش کیا جارہا تھا ،روم کا فلسفہ اپنی ادھوری اقدار کا ماتم کر رہا تھا ،روم کی عظیم حکومت دم توڑ رہی تھی ایران اور چین اپنی تہذیب کو داخلی جنگ کے بھڑکتے شعلوں میں جلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ ترکستان اور افریقہ میں بھی ساری دنیا کی طرح اخلاق،آدب اور کرامت کا انحطاط دیکھا جاسکتا تھا۔اور عرب کی حالت تو ان سب سے گئی گذری تھی ،سیاسی تہذیب اور سیاسی کلچر کے بارے میں تو انہیں کوئی اطلاع ہی نہیں تھی، قبلیوں کی آپسی لڑائی دیکھ کر لگتا تھا کہ لفظ ’’اتحاد‘‘ تو گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ، وہاں ہمیشہ سے قانون اور نظم و ضبط کی دھجیاں اڑ رہی تھیں۔
اتحاد،قانون کی بالا دستی اور حکم کو ماننے کا شعور جس سے زندگی منظم طریقہ سے چلتی ہے ان کے یہاں ان چیزوں کا دور دور تک کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ عرب کے قبائل آپسی رنجیشوں اور تعصبات میں اتنے الجھے ہوئے تھے کہ ثقافت، تمدن اور تہذیب کا تصور بھی ان کے یہاں سے ختم ہوگیا تھا بس اتنا سمجھ لیجئے کہ پوری دنیا میں جانورں جیسی زندگی گذار رہے تھے اور پورا معاشرہ جنگل راج بن گیا تھا۔
پیغمبر اکرم(ص) کے اس دنیا میں آنے کی برکت اور آپ کے ذریعہ لائی گئی الہی تعلیمات اور تہذیب نے پورے عرب کو ایک اتحاد کی ڈور میں پیرو دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس عرب میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو لیکر برسہا برس تک لڑائیاں اور جھگڑے ہوا کرتے تھے ،بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔اس عرب میں سارے انسانوں کے درمیان، اخلاق، تہذیب،ثقافت اور حکم ماننے کا رواج پیدا ہوگیا اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ممکن ہوا کہ اللہ کے رسول(ص)  نے بادشاہت سے ہٹ کر حکومت کا الہی طرز اور طریقہ قائم کیا کہ جس کی بنیاد میں توحید شامل تھی ،آپ کی بعثت سے پہلے حکومت اور سیاسی نظام صرف بادشاہت تک منحصر و محدود تھا جس میں صرف شاہی رعب،دبدبہ اور شأن و شوکت نمایاں ہوتی تھی جس میں مملکت کے تمام اختیارات ایک ہی شخص کے ہاتھ میں ہوا کرتے تھے کہ جہاں نہ کسی کے مشورے کی کوئی اہمیت تھی اور نہ ہی کسی کی رائے کی کوئی قدر،جس میں نہ چاہتے ہوئے بھی سماج دو اکائیوں میں بٹا ہوا تھا،ایک طرف کچھ بڑے لوگ،نوابین، اور رؤسا اور دوسری طرح سماج کے دبے کچلے اور غریب و فقیر لوگ،لیکن رسول اللہ(ص) نے حکومت قائم کی اس میں نہ تو کسی قسم کی شہنشاہیت تھی اور شکوہ و جلال، آپ کی الہی حکومت میں امیر غریب سب برابر تھے اور ہر شخص اپنے منصب سے بالاتر اللہ کے حکم کا پابند تھا۔
مدینہ سب سے پہلی وہ اسلامی حکومت ہے جہاں ہر ایک چاہے وہ حاکم ہو یا رعایا،سب اللہ کے قانون کے آگے سر جھکائے ہوئے ہے، آپ کی حکومت کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ عرب جو صدیوں سے الگ الگ قبائلی نظام میں تقسیم ہوکر رہ گیا تھا وہ اب مکمل ایک حکومت میں تبدیل ہوچکا تھا اور ساتھ ہی اسلامی تہذیب اور کلچر کا ایسا مرکز اور سینٹر بن چکا تھا جس کے آگے ساری دنیا سر جھکائے ہوئے تھی۔
پیغمبر اکرم(ص) نے اپنی حکومت میں سب سے بنیادی کام یہی انجام دیا تھا کہ وہ سارے لوگ جو اپنی اپنی دکانیں چمکانے کے لئے غیر فطری اصولوں کو اپنائے ہوئے تھے ان کی دکانوں پر تالے ڈال دیئے،قومی نسلی،رنگ ،قبیلے اور دیگر طبقاتی نظام جو اتحاد کے لئے سب سے بڑی زہر افشانی تھی آپ نے اس سیاست کو جڑ سے ہی اکھاڑ پھینکا۔
آپ نے اپنی حکومت میں توحید کو مرکز بناتے ہوئے بندگی ، آپسی بھائی چارے اور عدالت کو سب سے خاص درجہ دیا، اور تقویٰ کو اس طرح لوگوں کے دلوں میں نافذ کیا کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی اپنی شاہی سطوت کے نشے کو چھوڑ کر توحید کے پرچم کے نیچے جمع ہوکر متحد دکھائی دیئے۔
آپ نے ایک عام انسان کے جھوٹ ، دھوکہ دھڑی اور فریب سے زیادہ بادشاہ اور حاکم کے جرم کو سنگین بتلایا، آپ نے کافی سال پابندیوں اور مظلومیت کے بھی گذارے اور ساتھ ہی حاکم بن کر بھی آپ نے صلح بھی کی اور ساتھ ہی جنگ بھی، لیکن جو بات آپ کی زندگی میں سب سے زیادہ آپ کی طرف توجہ کو مبذول کرتی ہے وہ آپ کا اللہ پر بھروسہ اور عدالت کا خیال ہے۔ آپ کی 10 برس کی حکومت میں کبھی یہ کوشش نہیں رہی کہ پڑوسی ممالک یا دوسرے قبیلے کے لوگوں یا جو آپ کو اور آپ کے ذریعہ دیئے جانے والی الہی پیغام کو نہیں مانتے ان سے کسی طرح کی دشمنی کی جائے اور انہیں اپنی باتوں کو ماننے پر مجبور کیا جائے۔یہ اور بات ہے کہ بعد میں بہت سے ایسے حاکم اور بادشاہ آئے جنہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے نام استعمال کرتے ہوئے اور اپنی حکومت کو ان کی حکومت سے جوڑتے ہوئے حکومت قائم کی لیکن ظلم و ستم کرنے میں اتنے غرق ہوئے کہ نہ ہی اللہ کو کبھی یاد کیا اور نہ ہی اس کے بندوں کے حقوق کا خیال رکھا۔
جنہوں نے نہ تو عدالت کا خیال رکھا اور نہ ہی انسانی اقدار کا ، جنہوں نے نہ ہی الہی تعلیمات کا خیال رکھا اور نہ ہی اسلامی قانون کا، جن کے نام تو اسلامی تھے لیکن ان کے عمل سے اسلام تو دور انسانیت کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ ظاہر ہے ایسے لوگ صرف حکومت ،سلطنت کے لئے پاک اور نیک لوگوں کے نام کا استعمال کرتے ہیں اور حکومت کے آتے ہی ساری انسانی اقدار اور تہذیب کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں ۔ایسے افراد کا نہ تو انسانیت سے کوئی واسطہ و مطلب ہے اور نہ ہی انسان سے، چنانچہ ایسے لوگ لاشوں کے ڈھیر پر بھی کھڑے ہوکر اپنی حکومت کا راستہ ہموار کرنے میں لگے رہے۔
اسلام اور اس کے پیغمبر(ص) نے ایسے لوگوں کے بارے صاف طور پر اعلان فرما دیا ہے کہ ایسے لوگوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے کہ اسلامی حکومت کی بنیاد میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہی سب سے اہم عنصر ہوتا ہے۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम