Code : 4778 29 Hit

اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں عورت کی بدحالی و لاچاری

یہ بات مشہور ہے کہ عربوں میں سب سے بری رسم یہ تھی کہ وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔کیونکہ لڑکیاں ایسے سماج میں جو تہذیب اور تمدن سے دور،ظلم و بربریت میں غرق ہو،مردوں کی طرح لڑکر اپنے قبیلہ سے دفاع نہیں کرسکتی تھیں کیونکہ لڑنے کی صورت میں یہ ممکن تھا لڑکیاں دشمن کے ہاتھ لگ جائیں اور ان سے ایسی اولادیں پیدا ہوں جو باعث ننگ اور عار بنیں لہٰذا وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔اور کچھ لوگ مالی مشکلات کی خاطر،فقر و افلاس کے خوف سے ایسا کرتے تھے۔

ولایت پورٹل: جاہل عربوں میں جہالت اور خرافات کا ایک واضح نمونہ، عورت کے بارے میں ان کے مخصوص نظریات تھے۔ اس دور کے معاشرے میں عورت انسانیت کے معیار، سماجی حقوق اور آزادی سے بالکل محروم تھی اور اس سماج میں گمراہی اور سماج کے وحشی پن کی بنا پر لڑکی اور عورت کا وجود باعث ذلت و رسوائی سمجھا جاتا تھا۔(۱) وہ لڑکیوں کو میراث کے قابل نہیں سمجھتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ ارث کے حقدار صرف وہ لوگ ہیں جو تلوار چلاتے ہیں اور اپنے قبیلہ کا دفاع کرتے ہیں۔(۲) ایک روایت کی بناپر عرب میں عورت کی مثال اس مال جیسی تھی جو شوہر کے مرنے کے بعد(لڑکا نہ ہونے کی صورت میں)شوہر کے دوسرے اموال اور ثروت کی طرح سوتیلی اولاد کے پاس منتقل ہوجاتی تھی۔(۳)
واقعات گواہ ہیں کہ شوہر کے مرنے کے بعد اس کا بڑا لڑکا اگر اس عورت کو رکھنے کا خواہش مند ہوتا تھا (یعنی اپنی بیوی بنانا چاہتا تھا) تو اس کے اوپر ایک کپڑا ڈال دیتا تھا اور اس طریقہ سے میراث کے طور پر عورت اسے مل جایا کرتی تھی اس کے بعدا گر وہ چاہتا تھا تو اسے بغیر کسی مہر کے ،صرف میراث ملنے کی بنا پر اس سے شادی کرلیتا تھا اور اگر اس سے شادی کا خواہش مند نہ ہوتا تو دوسروں سے اس کی شادی کردیتا تھا اور اس عورت کا مہر خود لے لیتا تھا اور اس کے لئے یہ بھی ممکن تھا کہ اسے ہمیشہ کے لئے دوسرے مردوں سے شادی کرنے سے منع کردے ،یہاں تک وہ مرجائے اور اس کے مال کا مالک بن جائے۔(۴)
چونکہ باپ کی بیوی سے شادی کرنا اس وقت قانوناً منع نہیں تھا۔لہٰذا قرآن کریم نے ان کو اس کام سے منع کیا۔(۵) دور اسلام میں مفسرین کے کہنے کے مطابق ایک شخص جس کا نام ’’ابو قبس بن اسلت‘‘ تھا جب وہ مرگیا تو اس کے لڑکے نے چاہا کہ اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کرے تو خدا کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی:’’لایَحِلُّ لَکُمْ اَن تَرِثُوْا النَّسَاءَ۔۔۔‘‘۔(۶) تمہارے لئے حلا ل نہیں ہے کہ تم عورت کو ارث میں لو۔اس سماج میں متعدد شادیاں بغیر کسی رکاوٹ کے رائج تھیں۔(۷)
عورت کی بدحالی ولاچاری
یہ بات مشہور ہے کہ عربوں میں سب سے بری رسم یہ تھی کہ وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔کیونکہ لڑکیاں ایسے سماج میں جو تہذیب اور تمدن سے دور،ظلم و بربریت میں غرق ہو،مردوں کی طرح لڑکر اپنے قبیلہ سے دفاع نہیں کرسکتی تھیں کیونکہ لڑنے کی صورت میں یہ ممکن تھا لڑکیاں دشمن کے ہاتھ لگ جائیں اور ان سے ایسی اولادیں پیدا ہوں جو باعث ننگ اور عار بنیں لہٰذا وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔(۸) اور کچھ لوگ مالی مشکلات کی خاطر،فقر و افلاس کے خوف سے ایسا کرتے تھے۔(۹)
مجموعی طور پر لڑکیاں اس سماج میں منحوس سمجھی جاتی تھیں قرآن کریم نے ان کی اس غلط فکر کو اس طرح سے نقل کیا ہے:’’اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ خون کے گھونٹ پینے لگتا ہے ،قوم سے منہ چھپاتا ہے کہ بہت بری خبر سنائی گئی ہے اب اس کو ذلت سمیت زندہ رکھے یا خاک میں ملا دے ،یقیناً یہ لوگ بہت برا فیصلہ کررہے ہیں‘‘۔(۱۰)
عورت کو محروم اور دبانے کی باتیں اس زمانے کے عربی ادب اور آثار میں بہت زیادہ ملتی ہیں جیسا کہ ان کے درمیان یہ بات عام تھی کہ جس کے پاس لڑکی ہوتی تھی اس سے وہ لوگ کہتے تھے کہ:’’خدا تم کو اس کی ذلت سے محفوظ رکھے اور اس کے اخراجات کو پورا کرے اور قبر کو داماد کا گھر بنادے‘‘۔(۱۱)
ایک عرب شاعر نے اس بارے میں کہا ہے:
جس باپ کے پاس لڑکی ہو اور وہ اس کو زندہ رکھنا چاہے تو اس کے لئے تین داماد ہیں:
۱۔ایک وہ گھر جس میں وہ رہتی ہے۔
۲۔دوسرے اس کا شوہر جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔
۳۔اور تیسرے وہ قبر جو اس کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے ۔لیکن ان میں سب سے بہتر قبر ہے۔(۱۲)
کہتے ہیں کہ ایک شخص جس کا نام ابو حمزہ تھا وہ صرف اس وجہ سے اپنی بیوی سے ناراض ہوگیا اور پڑوسی کے یہاں جاکر رہنے لگا کہ اس کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی تھی ۔لہٰذا اس کی بیوی اپنی بچی کو لوری دیتے وقت یہ اشعار پرھتی تھی:
ابو حمزہ کو کیا ہوگیا ہے کہ جو ہمارے پاس نہیں آتا ہے اور پڑوسی کے گھر میں رہ رہا ہے،وہ صرف اس بنا پر ناراض ہے کہ ہم نے لڑکا نہیں جنا؟! خدا کی قسم یہ کام میرے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے۔ جو بھی وہ ہم کو دیتا ہے ہم اسے لے لیتے ہیں ۔ہم بمنزلۂ زمین ہیں کہ کھیت میں جو بویا جائے گا وہی اگے گا۔(۱۳)
حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس کی ماں کی باتیں اس سماج کے نظام کے خلاف ایک احتجاج ہیں اور ان کے درمیان عورت کی پائمالی کا ایک طرح سے اظہار ہے۔
سب سے پہلا قبیلہ جس نے اس غلط رسم کی بنیاد ڈالی،وہ قبیلۂ بنی’’ تمیم‘‘تھا کہا جاتا ہے کہ اس قبیلہ نے نعمان بن منذر کو ٹیکس دینے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان جنگ ہوئی جس میں بہت ساری لڑکیاں اور عورتیں اسیر کرلی گئیں جس وقت بنی تمیم کے نمائندے اسیروں کو چھڑانے کے لئے نعمان کے دربار میں حاضر ہوئے تو اس نے یہ اختیار خود ان عورتوں کو دے دیا کہ چاہیں تو حیرہ میں رہیں اور چاہیں تو بنی تمیم کے پاس چلی جائیں۔قیس بن عاصم جو کہ قبیلہ کا سردار تھا اس کی لڑکی بھی اسیروں کے درمیان تھی اس نے ایک درباری سے شادی کرلی تھی لہٰذا اس نے دربار میں رکنے کافیصلہ کرلیا، قیس اس بات سے سخت ناراض ہوا اور اس نے اسی وقت عہد کر لیا کہ اس کے بعد وہ اپنی لڑکیوں کو قتل کر ڈالے گا۔(۱۴) اور اس نے یہ کام انجام دیا۔اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رسم دوسرے قبیلوں میں بھی رائج ہوگئی،کہاجاتا ہے کہ اس جرم اورقساوت میںقیس ،اسد،ہذیل اور بکر بن وائل نامی قبیلے شامل تھے۔(۱۵)
البتہ یہ رسم عام نہیں تھی کچھ قبیلے اور بڑی شخصیتیں اس کام کی مخالف تھیں،ان میں سے ایک جناب عبد المطلب(ع) پیغمبر اسلام(ص) کے جد تھے، جو اس کام کے شدید مخالف تھے۔(۱۶) اور کچھ لوگ جیسے زید بن عمرو بن نفیل اور صعصعہ بن ناجیہ،لڑکیوں کو ان کے باپ سے فقر کے خوف سے زندہ درگور کرتے وقت لے لیتے تھے اور ان کو اپنے پاس رکھتے تھے۔(۱۷) اور کبھی لڑکیوں کے عوض میں ان کے باپ کو اونٹ دے دیا کرتے تھے۔(۱۸) لیکن واقعات گواہ ہیں کہ یہ رسم عام طور پر رائج تھی کیونکہ:
۱۔صعصعہ بن ناجیہ نے زمانۂ اسلام میں پیغمبر(ص) سے کہاتھا کہ میں نے دور جاہلیت میں۲۸۰ لڑکیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے۔(۱۹)
۲۔قیس بن عاصم نے عہد کرنے کے بعد (جیسا کہ پہلے گزرچکا)اپنی ۱۲یا ۱۳ لڑکیوں کو قتل کیا۔(۲۰)
۳۔پیغمبراسلام(ص) نے پہلے پیمان عقبہ میں(بعثت کے بارہویں سال)جوکہ یثربیوں کے ایک گروہ کے ساتھ کیا تھا ،معاہدہ کی ایک شرط یہ قراردی کہ لڑکیوں کوزندہ درگور نہ کریں۔(۲۱)
۴۔فتح مکہ کے بعد پیغمبراسلام(ص) نے خدا کے حکم سے اس شہر کی مسلم عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ اپنی لڑکیوں کو قتل کرنے سے پرہیز کریں۔(۲۲)
۵۔قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس رسم کی شدید مذمت فرمائی ہے۔لہٰذا ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ اس سماج کی سب سے بڑی مشکل تھی جس کے بارے میں قرآن کریم نے خبردار کیا ہے۔
۱۔اور خبر دار! اپنی اولاد کو فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو کہ ہم انھیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی رزق دیتے ہیں بیشک ان کا قتل کردینا بہت بڑا گناہ ہے۔(۲۳)
۲۔اور اسی طرح ان شریکوں نے بہت سے مشرکین کے لئے اولاد کے قتل کو بھی آراستہ کر دیا ہے تاکہ انکو تباہ و برباد کردیں اور ان پر دین کو مشتبہ کردیں۔(۲۴)
۳۔یقیناً وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنھوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا۔(۲۵)
۴۔اپنی اولاد کو غربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمھیں بھی رزق دے رہے ہیں اور انہیں بھی۔(۲۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سید محمد حسین طباطبائی ،تفسیر المیزان ،ج۲، ص ۲۶۷۔
۲۔ابوالعباس المبرد،الکامل فی اللغۃ والادب ،مع حواشی: نعیم زرزور(اور )تغارید بیضون،ج۱،ص۳۹۳؛محمد بن حبیب ،المحبر(بیروت:دارالافاق الجدیدۃ) ص۳۲۴۔
۳۔کلینی،الفروع من الکافی،،ج۶ ،ص۴۰۶۔
۴۔طباطبائی،ایضاً ،ج۴،ص۲۵۸،۲۵۴،سیوطی ،الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور،ج۲ تفسیر آیۂ۲۲ سورۂ نساء،ص ۱۳۲،۱۳۱،شہر ستانی،الملل والخل  ج۲، ص۲۵۴، حسن،حسن ،حقوق زن دراسلام و یورپ (ط۷، ۱۳۵۷)ص:۳۴۔
۵۔’’ولا تنکحوا ما نکح آبائکم من النساء‘‘(سورۂ نساء :۲۲)۔
۶۔طباطبائی ،ایضاً،ج:۴،ص:۲۵۸،طبری،جامع البیان فی تفسیر القرآن، ج۴،ص۲۰۷،سورۂ نساء کی آیت نمبر ۱۹ کی تفسیر کے ذیل میں۔
۷۔ طباطبائی ،ایضاً،ج۲،ص۲۶۷۔
۸۔شیخ عباس قمی،سفینۃ البحارص۱۹۷(کلمۂ جھل)؛ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ تحقیق:محمد ابوالفضل ابراہیم،ج۱۳،ص۱۷۴؛کلینی،الاصول من الکافی ج۲،باب’’البر بالوالدین‘‘،ح۱۸،ص۱۶۳،قرطبی،تفسیر جامع الا حکام ج۱۹،ص۲۳۲۔
۹۔سورۂ انعام:۶ ؛سورۂ اسراء،: ۳۱؛قرطبی ،ایضاً،ص۲۳۲۔
۱۰۔سورۂ نحل : ۵۹،۵۸۔
۱۱۔عائشہ عبد الرحمن بنت الشاطی،موسوعۃ آل النبی،ص ۴۳۵۔
۱۲۔جاحظ،البیان و التبیین،ج۱،ص۱۲۸،۱۲۷؛عایشہ بنت الشطی ، ایضاً،ص ۴۳۴،۴۳۳؛آلوسی ،بلوغ الارب فی معرفۃ احوال العرب ،ج۳،ص۵۱۔
۱۳۔ابو العباس المبرد،ایضاً،ج۱،ص۳۹۲،ابن ابی الحدید،ایضاً،ج۱۳،ص۱۷۹۔
۱۴۔ابن ابی الحدید،ایضاً ،ج۱۳،ص۱۷۴۔
۱۵۔ آلوسی،ایضاً ،ج۱،ص۳۲۴،تاریخ یعقوبی،ج۲،ص۱۰۔
۱۶۔آلوسی،ایضاً،ج۳،ص۴۵،ابن ہشام،السیرۃ النبویہ،تحقیق:مصطفی السقاء،ج۱،ص۲۴۰۔
۱۷۔محمد ابوالفضل ابراہیم (اوران کے معاونین)،قصص العرب، ج۲، ص۳۱، ؛قرطبی،تفسیر جامع الاحکام، ج۱۹، ص۲۳۲۔
۱۸۔ابو العباس المبرد،ایضاً،ج۱،ص۳۹۴۔
۱۹۔ابن اثیر ،اسد الغابہ ،ج۴،ص۲۲۰؛قرطبی،تفسیر جامع الا حکام،ج۱۹،ص۲۳۳۔
۲۰۔ابن ہشام ،ایضاً،ج۲،ص۷۵۔
۲۱۔سورۂ ممتحنہ:۱۲۔
۲۲۔سورۂ اسراء:۳۱۔
۲۳۔سورۂ انعام: ۱۳۷۔
۲۴۔سورۂ انعام:۱۴۰۔
۲۵۔سورۂ انعام:۱۵۱۔
۲۶۔سورۂ تکویر۸ ۔۹ ۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین