Code : 4001 14 Hit

حج کا فلسفہ اور اہمیت نہج البلاغہ کی نگاہ میں

راہ خدا میں مسلسل سعی و کوشش اور جانفشانی کو جہاد کہتے ہیں ۔ دشمنان اسلام کے مقابل میدان جنگ میں لڑکر جان قربان کر دینا ایک اعلیٰ درجے کا جہاد ہے جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں، جس کے لئے مضبوط ایمان اور محکم یقین کے علاوہ شجاعت و شہامت اور ہمت و طاقت درکار ہے۔حج ایک ایسا جہاد ہے جس کو ایک کمزو ر اور ناتواں انسان بھی انجام دے سکتاہے بشرطیکہ استطاعت رکھتا ہو۔مولائے کائنات حج کو جہاد سے اس لئے تعبیر فرما رہے ہیں کہ جس طرح جہاد میں ایثار و قربانی اور مشقت و سختی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے حج اس کی ادنیٰ سی مثا ل ہے۔

ولایت پورٹل: دنیا کے تمام مذاہب میں عبادت کا تصور پایا جاتا ہے لیکن عبادت کا جو اعلیٰ اور معیاری تصور اسلام میں موجودہے دیگر ادیان و مذاہب میں اس کا فقدان ہے۔ دین اسلام انسانی زندگی کے تمام شعبوں کی طرح اس شعبہ میں بھی ممتاز و منفرد نظر آتاہے۔نماز ہو یاروزہ ،خمس ہو یازکات،حج ہو یا عمرہ وغیرہ جیسی مقدس اور نایاب عبادتیں دنیا کے کسی مذہب میں موجود نہیں ہیں۔اسلام کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں و دیگر تمام چیزوں میں سب سے اعلیٰ اور برتر ہے ورنہ آخری دین کیسے قرار پاتا۔
حج، دین اسلام کی اس یگانہ عبادت کا نام ہے جس میں امیر و غریب،عرب و عجم،سید و غیر سید ،حاکم و رعایا،قوم و قبیلہ وغیرہ میں کوئی امتیاز نہیں پایا جاتا ہے۔سب ایک ہی لباس میں اور ایک ہی صف میں ''اللہم لبیک ''کا ورد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ حج کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ توحید و یکتا پرستی کے ساتھ ساتھ اتحاد و یکجہتی کا اعلیٰ نمونہ ہے جو آج کے دور کی اہم ترین ضرورت بھی ہے جس کی ادنیٰ سی عظمت و بلندی کا اندازہ حج کے دوران ہونے والے عظیم اجتماع سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔نہج البلاغہ میں متعدد مقامات پر حج کے سلسلے میں مولائے کائنات  کے فراوا ں اقوال و ارشادات موجود ہیں جو حج کی عظمت و بلندی،حکمت و فلسفے اورشان و شوکت کا حقیقی مفہوم و معنیٰ بیاں کر رہے ہیں۔ اختصار کو پیش نظر رکھتے ہوئے صرف اہم ترین مطالب کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔
حج کی عظمت و اہمیت:فرمان خدا وندی اور اقوال معصومین  کی روشنی میں حج جیسی بے نظیر عبادت کی عظمت و بلندی کا صحیح اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے ورنہ انسان میں اتنا بالیدہ شعور اور الفاظ میں اتنی وسعت کہاں کہ جو حج جیسی محترم عبادت کی کما حقہ ترجمانی کر سکے۔
نہج البلاغہ میں ارشاد ہوتا ہے:’’و فرض علیکم حج بیتہ الحرام،الذی جعلہ قبلةً للانام ...‘‘۔
ترجمہ:پروردگار نے تم لوگوں پر حج بیت الحرام کو واجب قرار دیا ہے جسے لوگوں کے لئے قبلہ بنایا ہے(١)۔
مولائے کائنات  سب سے پہلے حج کے وجوب کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں جیسا کہ خود قرآن کا حکم ہے :’’و للہ علی الناس حجُّ البیت من الستطاع الیہ سبیلا‘‘۔
ترجمہ:اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے اگر اس راہ کی استطاعت رکھتے ہوں (٢)۔
حج کی رفعت و بلندی کے لئے یہی کافی ہے کہ اسے واجب قرار دیا گیا ہے اور قرآن کریم میں بنام حج ایک مستقل سورہ موجود ہے۔حج اس واحد عبادت کا نام ہے کہ جس کے مقام عمل کو معین کیا گیا ہے ورنہ دوسری عبادتوں میںاس کی کوئی قید نہیں ہے وہ بھی ایسا محترم مقام کہ جس کی طرف دنیائے اسلام سر تسلیم خم کرتی ہے، جس کی رعایت کے بغیر نماز قبول نہیں ،جس کے ایمان کے بغیر کوئی سچا مومن نہیں۔
تقرب الہی کا اعلیٰ وسیلہ
ہر بندہ مومن کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ اسے اللہ کی رضایت حاصل ہو جائے ۔اس کی رضایت اس سے قریب ہوئے بغیرحاصل نہیں ہو سکتی ہے۔ اطاعت و عبادت ہی عبد کو معبود سے قریب کرتی ہے۔حج ،تقرب پروردگار کا اعلیٰ ترین وسیلہ ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے خالق سے قریب ہوکر سعادت و کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔مولائے کائنات ارشاد فرما رہے ہیں:اِنّ افضلَ َما تَوسّلَ بہ المتوسلین الی اللہ سبحانہ و تعالیٰ ...وحجُ البیت واعتمارُہ؛ترجمہ:اللہ والوں کے لئے اس کی بارگاہ تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ....حج بیت اللہ ہے اور عمرہ(٣)۔ لہذااستطاعت کے باوجودحج جیسی مقدس عبادت سے روگردانی اور کوتاہی آخرت کے لئے گھاٹے کا سودا ہوگا فائدے کا نہیں۔
تقویت دین کا بے مثال نمونہ
حج وہ منفرد اور اجتماعی عبادت ہے جو مسلمانوں کے اتحا د و یکجہتی کی علمبردار اور قوت و طاقت کی مظہر ہے جو دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دیتی ہے،مومنین کے عزم و ارادے میں استحکام عطا کرتی ہے،اخوت و محبت کی بے مثال نمونہ نظر آتی ہے جس سے پرچم اسلام سربلند اور مومنین سرفراز نظر آتے ہیں لیکن یہ امرا سی وقت ممکن ہوگا جب مومنین آپس میں اتحاد و یکسانیت کا مظاہرہ کریں۔حج ہی وہ واحد عبادت ہے جو مومنین کو بلا تفریق مذہب و ملت ایک مقام پر اتنی بڑی تعداد میں جوڑنے کا کام کرتی ہے جس سے دین کو تقویت اور مومنین کو سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔اسی اہم ترین امر کی طرف ارشاد ہوتا ہے:فرض اللہ ...والحج تقویة (تقربة) للدین؛ترجمہ: اور حج کو دین کو تقویت پہنچانے کے لئے فرض کیا(٤)۔ اسلام میں اجتماعی پروگراموں کی بہت زیادہ اہمیت ہے جن کے فوائد سے اکثریت ناواقف ہے لہذا دین اسلام کے قوانین و ضوابط کے فلسفے اورفوائد و نقائص سے آگاہ ہونا ہر انسان کا فریضہ اول ہے۔
انکساری و تواضع کا راز
انکساری و تواضع ایک ایسی عمدہ صفت ہے جس سے نہ صرف پروردگار کی رضایت حاصل ہوتی ہے بلکہ سماج ومعاشرہ میں عزت ووقار اور محبوبیت و مقبولیت نصیب ہوتی ہے۔اعمال و ارکان حج نہ صرف انکساری و تواضع کا بہترین مرقع ہیں بلکہ انسان کو منکسر مزاج بنانے میں مدد گار بھی ثابت ہوتے ہیں؛و جعلہ سبحانہ علامةً لتواضعھم لعظمتہ؛ترجمہ:حج بیت اللہ کو مالک نے اپنی عظمت کے سامنے جھکنے کی علامت قرار دیا ہے(٥)۔در اصل حقیقی مومن وہی ہوتا ہے جو اللہ کے بنائے ہوئے قوانین و ضوابط کے سامنے سر نیاز خم کئے ہو اور بغیر کسی چون و چرا کے اس کی اطاعت و پیروی کرتا ہو۔
حج کا صلہ، وصال بہشت
ہر مومن اس بات کاخواہشمند ہوتا ہے کہ اسے جنت نصیب ہو ۔جنت، قرآن اور سیرت معصومین  پر عمل پیرا ہوئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔اللہ کے تمام احکام ،حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں جن کے بیشمار فوائد بیان ہوئے ہیں ،ان میںسے سب سے اہم فائدہ بہشت کا حصول ہے جیسا کہ مولائے کائنات ارشاد فرما رہے ہیں: جعلہ اللہ سبباً لرحمتہ و وصلةً الیٰ جنتہ؛ترجمہ:پروردگار نے اس(حج) کو رحمت کا ذریعہ اور جنت کا وسیلہ بنا دیا ہے(٦)۔    
آزمائش الہی
پروردگار عالم جب اپنے مخلص بندوں کو کوئی مقام عطا کرتا ہے تو پہلے ان کا سخت امتحان لیتا ہے،انہیں گوناگوں سختیوں اور مشکلات کے ذریعہ آزماتا ہے،مختلف بلائوں میں مبتلا کرتا ہے۔لہذا سچّا مومن وہی ہوگا جس کے پائوں ان حالات میں ڈگمگائیں نہیں بلکہ علم و حلمت، صبر و تحمل اورشکر و سپاس کے ذریعہ ان حالات کے تقاضوں کو پورا کرے اور اللہ کے امتحان میں کامیابی سے ہمکنار ہو۔حج جیسے محترم عمل کی توفیق سب کے شامل حال نہیں ہوتی، نہ جانے کتنے ایسے دنیا سے گزر گئے جو استطاعت رکھنے کے باوجود اس واجب عمل سے محروم رہ گئے۔حج کے اعمال و ارکان کی انجام دہی میں سختیوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے جو ایک سخت امتحان الہی ہے شاید ایک وجہ یہ بھی ہو کہ لوگ صاحب استطاعت ہونے کے باوجودصحیح وقت پرایک واجب عمل انجام دینے سے فرار اختیار کرتے ہیںجس کی نہ شریعت تائید کرتی ہے نہ عقل و خرد۔در حقیقت اللہ کا حقیقی بندہ وہی ہوتا ہے جو اس کی آزمائش سے پریشان نہ ہو بلکہ اس کے امتحان میں کامیابی کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہے، اسی اہم نکتہ کی طرف حضرت علی ابن ابیطالب  ارشاد فرما رہے ہیں:ابتلاء عظیما وامتحاناً شدیداًواختباراًمبیناً؛یہ(حج) ایک عظیم ابتلاء شدید امتحان اور واضح اختبارہے جس کے ذریعہ عبدیت کی مکمل آزمائش ہو رہی ہے (٧)۔
ناتوانوں کا جہاد
راہ خدا میں مسلسل سعی و کوشش اور جانفشانی کو جہاد کہتے ہیں ۔ دشمنان اسلام کے مقابل میدان جنگ میں لڑکر جان قربان کر دینا ایک اعلیٰ درجے کا جہاد ہے جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں، جس کے لئے مضبوط ایمان اور محکم یقین کے علاوہ شجاعت و شہامت اور ہمت و طاقت درکار ہے۔حج ایک ایسا جہاد ہے جس کو ایک کمزو ر اور ناتواں انسان بھی انجام دے سکتاہے بشرطیکہ استطاعت رکھتا ہو۔مولائے کائنات حج کو جہاد سے اس لئے تعبیر فرما رہے ہیں کہ جس طرح جہاد میں ایثار و قربانی اور مشقت و سختی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے حج اس کی ادنیٰ سی مثا ل ہے ،ارشاد ہوتا ہے:’’والحج جھاد کل ضعیف ؛ترجمہ:اور حج ہر کمزور کے لئے جہاد ہے‘‘۔(٨) ۔فریضہ حج سے فیضیاب ہونے واے افراد جہاد کے فلسفہ سے بحسن و خوبی واقف ہوں گے جنہوں نے حج کے اعمال و ارکان کو عملاً انجام دیا ہے۔لہذاصاحب استطاعت ہونے کے باوجود ایسے محترم و مقدس فریضہ سے روگردانی اور غفلت آخرت کے لئے گھاٹے کا سودا ہوگا فائدے کا نہیں۔
حج کے فوائد
پروردگار حکیم کا ہر کام حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتا ہے جس کے فوائد سے ہر انسان بخوبی آگاہ نہیں ہوتا ۔دوسری طرف انسان کی فطرت میں یہ شامل ہے کہ وہ فائدے والی چیزوں کی طرف قدم بڑھا تا ہے نہ کہ نقصان والی چیزوں کی طرف جس کی تائید عقل بھی کرتی ہے اور شریعت بھی۔مولائے کائنات اپنے اس خطبہ میں حج کے دو اہم فائدے کو بیان فرما ر ہے ہیں ؛  وحجُ البیت واعتمارُہ فانھما ینفیان الفقر و یرحضان الذنب؛ترجمہ:حج بیت اللہ اور عمرہ یہ فقر کو دور کر دیتا ہے اور گناہوں کو دھو دیتا ہے(٩)۔ دور حاضر کے اکثر افراد استطاعت رکھنے کے باوجود حج جیسے بے مثال فریضہ کی انجام دہی سے اس لئے فرار اختیار کرتے ہیں کہ کہیں حج سے واپسی پر فقر و تنگی کا سامنا نہ کرنا پڑے جبکہ مولا یہی سمجھا رہے ہیں کہ اے لوگوں فقر و غربت سے پریشان نہ ہو بلکہ جس مالک کائنات نے تمہیںحج جیسے محترم عمل کی توفیق عطا کی ہے وہی تمہیں مالدار وغنی بنا دیگا اور تمہاری گناہوں کو بخش دیگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔خطبہ١،آخری حصہ۔
٢۔سورۂ آل عمران ٩٧۔
٣۔خطبہ ١١٠ ۔
٤۔حکمت٢٥٢۔
٥۔خطبہ١،آخری حصہ۔
٦۔خطبہ٩/١٩٢۔
٧۔خطبہ٩/١٩٢۔
٨۔حکمت ١٣٦۔
٩۔خطبہ ١١٠۔

تحریر : سید امین حیدر حسینی(استاد جامعہ ایمانیہ بنارس)



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین