Code : 1123 137 Hit

آیت اللہ شہید باقر الصدر کی شخصیت اور کارنامے

8اپریل 1980ء کو عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام کے کارندوں نے عظیم فلسفی اور عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر الصدر اور ان کی ہمشیرہ بنت الہدیٰ کو جیل میں اذیتیں دینے کے بعد شہید کردیا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! یوں تو نہ جانے افق علم و اجتہاد پر کتنے معروف و مشہور علم و فقہ کے آفتاب،مہتاب اور ستارے طلوع ہوئے کہ جن کے چہوڑے ہوئے نقوش آج بھی ظلمانی راتوں میں ہدایت کی نور افشانی کررہے ہیں۔انہیں نورانی شخصیات میں سے ایک معاصر کی انقلابی و فکری شخصیت آیت اللہ العظمٰی باقر الصدر(رح) تہے۔
آیت اللہ سید محمد باقر الصدر سنہ 1934 میں عراق کے شہر کاظمین میں آقائی سید حیدر الصدر کے گھر پیدا ہوئے۔انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے شہر میں ہی حاصل کی اس کے بعد وہ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے نجف اشرف چلے گئے۔
ابھی ان کی عمر بیس سال بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ درجۂ اجتہاد پر فائز ہوگئے۔انہوں نے صرف بائیس سال کی عمر میں اپنی پہلی کتاب غایۃ الفکر فی علم الاصول الفقہ تحریر کی۔اس کے بعد انہوں نے دو معرکۃ الآراء کتابیں ’’فلسفتنا‘‘ اور ’’اقتصادنا‘‘ تحریر کیں جنہوں نے علمی حلقوں میں تہلکہ مچادیا۔وہ دین کو سیاست سے جدا نہیں سمجھتے تہے اور علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں بھی بھر پور حصہ لیتے تہے اسی بنا پر بعث پارٹی والے ان کے وجود کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے تہے ۔آیت اللہ باقر الصدر نے امام خمینی(رح) کی قیادت میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب کی حمایت میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ آپ امام خمینی(رح) سے اپنی محبت کے اظہار اور انقلاب اسلامی کی حمایت کے پیش نظر فرماتے تہے:’’امام خمینی کی ذات میں اسطرح ضم ہوجاؤ جسطرح وہ اسلام میں ضم ہوگئے ہیں‘‘۔شہید باقر الصدر کی انقلاب اسلامی کی حمایت سابق ڈکٹیٹر حکومت کے لئے انتہائی ناگوار امر تھا۔
وفات
عراق میں اسلام مخالف قوتوں کے خلاف اور بالخصوص بعث پارٹی کی اسلام دشمن کاروائیوں کو روکنے کے لئے آیت اللہ باقر الصدر نے مہدی حکیم کے ساتھ مل کر حزب الدعوۃ پارٹی کی بنیاد رکھی ۔یہ وہ موقع تھا کہ جب پورے عراق میں نوجوانوں اور عوام کی بڑی تعداد اسلام کے پرچم تلے جمع ہونا شروع ہوگئی تھی اور اسلام دشمن بعث پارٹی کے خلاف آواز بلند ہوئی۔اسی کے نتیجہ میں بعث پارٹی کو خطرہ محسوس ہوا تو بعث پارٹی کے کارندوں نے انہیں اور ان کی عالمہ بہن سیدہ آمنہ بنت الہدای کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا اور ان پر تشدد اور ظلم و ستم کی انتہا کردی۔آخر کار یہ دونوں بہن بھائی 8 اپریل سن 1980کو عراق کی بعثی حکومت کی جیل میں تشدد اور ظلم و ستم کے باعث درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے اور صدامی فوجیوں نے دونوں کو رات کی تاریکی میں ایک گمنام مقام پر دفنا دیا ۔صدام ملعون کے دور کے ایک سیکورٹی افسر کی جانب سے بتائی جانے والی تفصیلات کے مطابق آیت اللہ باقر الصدر اور ان کی بہن آمنہ بنت الہدیٰ کو کس طرح شہید کیا گیا،سیکورٹی افسر کے مطابق وہ لوگ شہید باقر الصدر اور ان کی بہن کو بغداد کے نیشنل سیکورٹی سینٹر میں لے کر آئے اور ان کے ہاتھ پاؤں کو بھاری زنجیروں سے جکڑ دیا گیا۔کچھ دیر میں عراق کا سابق صدر صدام ملعون پہنچا اور اس نے شہید آیت اللہ باقر الصدر سے پوچھا :’’کیا تم عراق میں حکومت بنانا چاہتے ہو؟اور اس کے ساتھ ہی صدام نے ان کے چہرے اور جسم پر لوہے کی ایک راڈ سے تشدد کرنا شروع کر دیا۔
اس کے بعد آیت اللہ سید باقر الصدر نے صدام کو جواب دیا کہ میں حکومت کو تمہارے لئے چہوڑرہا ہوں لیکن تم ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کی برکتوں کو نہیں روک سکوگے ،اس پر صدام کوغصہ آیا اور اس نے اپنے گارڈز کو کہا کہ ان پر تشدد کرو۔صدام ملعون نے کہا کہ سیدہ آمنہ بنت الہدی ٰ کو لایا جائے جو کہ قید میں تھیں اور دوسرے کمرے میں ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا ،جب شہید باقر الصدر کی شہیدہ بہن آمنہ بنت الہدیٰ کو لایا گیا تو ان کی حالت انتہائی خراب تھی ،جس پر شہید آیت اللہ باقر الصدر غصے میں آئے اور انہوں نے صدام سے کہا۔اگر تم انسان ہو تو انسان کی طرح پیش آؤ۔اس کے بعد صدام نے لوہے کی راڈ سے شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔۔۔۔۔۔۔۔اس پر سید باقر الصدر شدید غصے کی حالت میں صدام سے بولے کہ اگر تم مرد ہو تو آؤ مجھ سے مردوں کی طرح لڑو اور میری بہن کو جانے دو۔اس کے بعد صدام نے اپنی پستول نکال کر سید باقر الصدر اور ان کی بہن آمنہ بنت الہدیٰ کو گولی کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہ شہید ہوگئے ،اور صدام ملعون وہاں سے چلا گیا،عراق میں صدام کی ڈکٹیٹر حکومت کے خاتمے کے بعد شہید آیت اللہ باقرالصدر کی قبر کا پتہ چلا اور گمنامی میں دفنائے جانے والی اس عظیم ہستی کی قبر پر ان کے عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے۔
آیت اللہ شہید باقر الصدر(رح) کے علمی آثار
شھید صدر نے مختلف موضوعات پر متعدد علمی کتابیں تألیف کی ہیں متعدد موضوعات پر آپ کی قلم فرسائی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مختلف سماجی، دینی، سیاسی، اقتصادی اور فلسفی میدانوں میں وسیع النظر اور صاحب رائے تہے ۔ آپ نے ان تمام موضوعات پر گرانقدر کتابیں تألیف کی ہیں کہ جن میں درج ذیل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
۱۔اقتصادنا ۔(یعنی ہماری اسلامی معاشیات) اس کتاب میں شہید نے واضح کر دیا کہ اسلام کا اپنا ایک معاشی نظام ہے جو دنیا کے مادی نظاموں سوشلزم،سرمایہ دارانہ نظاموں اور کمیونزم سے لاکہوں درجہ بہتر اور قابل عمل ہے۔
۲۔الاسس المنطقیۃ للاستقراء(یہ کتاب متعدد مرتبہ چھپنے کے علاوہ فارسی میں ترجمہ ہو چکی ہے جس کا فارسی نام " مبانی منطقی استقراء ‘‘ہے اور مترجم جناب سید احمد فھری ہیں۔
۳۔ الاسلام یقود الحیاۃ۔اس مجموعہ کے کل چھ جزء ہیں جو سن ۱۳۹۹ھ میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی مناسبت سے ایران میں چھپ چکی ہیں اس کے چھ جز ہیں۔
۴۔ البنک الربوی فی الاسلام۔
۵۔بحوث فی شرح العروۃ الوثقی۔
۶۔بحوث حول المھدی (عج) (یہ کتاب متعدد بار چھپ چکی ہے اور فارسی میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے پہلے یہ کتاب سید محمد صدر کی کتاب’’تاریخ الغیبۃ الصغریٰ‘‘۔ کے اوپر مقدمہ کی حیثیت سے تحریر کی گئی تھی لیکن بعد میں مستقل طور کتاب کی شکل میں طبع ہوئی اس کے فارسی ترجمہ کا نام ’’امام مھدی حماسہ ای از نور‘‘ ہے۔
۷۔بحث حول الولایۃ۔
۸۔’’بلغۃ الراغبین‘‘ آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد رضا آل یاسین کے رسالہ عملیہ پر شھید صدر کا تعلیقہ
۹۔’’دروس فی علم الاصول‘‘۔یہ کتاب تین مرحلہ میں’’حلقات‘‘ کے نام سے لکھی گئی ہے جس کا حلقہ سوم خود دو حصوں پر مشتمل ہے۔
۱۰۔’’فدک فی التاریخ‘‘۔ اس کتاب میں صدر اسلام کے اھم ترین حادثات میں سے ایک واقعہ پر بحث کی گئی ہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد رونما ہوا۔ اور آنحضرت کے بعد اسلام کی سیاسی و سماجی نظام کی تشکیل کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے۔
۱۱۔فلسفتنا۔ یہ کتاب ان اسلامی فلسفہ کے مباحث پر مشتمل ہے جنہیں دوسرے جدید مادی مکاتب فکر خاص طور سے مارکسیزم کے ساتھ موازنہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔
۱۲۔غایۃ الفکر فی علم الاصول۔
۱۳۔المعالم الجدیدۃ للاصول۔
۱۴۔المدرسۃ الاسلامیۃ۔یہ کتاب دو حصوں میں چھپ چکی ہے ،پہلاحصہ: الانسان المعاصر و المشکلۃ الاجتماعیۃ، دوسرا حصہ: ماذا تعرف عن الاقتصاد الاسلامی ہے۔
۱۵۔منھاج الصالحین،حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن الحکیم کے رسالۃ عملیہ پر آپ کا تعلیقہ ہے۔
۱۶۔موجز احکام الحج
آیت اللہ شہید باقر الصدر ایک ایسے مفکر اور اسلام کے رہنما تہے کہ جنہوں نے مسلمانوں کو سکھایا کہ وہ اسلام دشمن پالیسیوں اور اسلام دشمن ثقافت کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں۔آیت اللہ باقر الصدر ایک ایسے رہنما تہے کہ جنہوں نے نے نوجوانوں کے دلوں کو اسلام کی محبت سے مالا مال کر دیا۔
 


1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम