Code : 1426 46 Hit

صلح انقلاب بھی لاسکتی ہے

امام حسن علیہ السلام کا یہ سبز انقلاب تھا جس کی آغوش میں کربلا کا سرخ انقلاب پروان چڑھا۔ اور پھر اس نرم انقلاب نے اس سرخ انقلاب کے ساتھ ملکر امام باقر و صادق علیہما السلام کے لئے اس سنہرے مواقعایجاد کئے اور امت میں بیداری کی ایسی لہر اٹھی کہ بنی امیہ کو تاریخ میں منھ چھپانے کی جگہ نہ ملی اور اسلام آہستہ آہستہ تشیع میں مجسم ہوتا گیا اور آج ایسے تناور درخت میں تبدیل ہوچکا ہے کہ ’’اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء‘‘۔ کا مصداق کامل بن گیا۔

ولایت پورٹل: پیغمبر اکرم(س) کے خاندان میں سب سے پہلا بچہ ۱۵ شوال سن ۳ ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوا جس کا نام حسن رکھا گیا یہ ایسا نام ہے کہ طول تاریخ میں حسن نام کا کوئی شخص نہیں گذرا۔ اسی طرح ان کی کنیت ابو محمد رکھی گئی کہ جو صرف امام حسن علیہ السلام کی مخصوص کنیت تھی۔امام حسن علیہ السلام کے القاب میں سید،زکی سبط کے علاوہ مجتبیٰ آپ کا سب سے مشہور لقب تھا۔
امام حسن مجتبٰی(ع) نے بچپن سے ہی رسول اللہ(ص) کی عطوفت و مہربانی کو درک کیا اور اپنے جد بزرگوار کی آغوش رحمت میں تربیت پائی۔
پیغمبر اکرم(ص) سے ان دونوں بھائیوں(امام حسن و حسین(ع) کے بارے میں بڑے مناقب علماء نے نقل کئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے:میرے یہ دونوں بیٹے امام ہیں چاہے کھڑے ہوں یا بیٹھے۔
امام حسن خلافت سے صلح تک
۲۱ رمضان المبارک سن ۴۰ ہجری کو امیرالمؤمنین(ع) کی شہادت کے بعد لوگ امام حسن(ع) کی بیعت کے لئے جمع ہوئے اور ایک عظیم اجتماع نے حضرت کے ہاتھ پر بیعت کی ۔اس وقت امام(ع) منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔خطبہ کے اختتام پر عبد اللہ بن عباس نے لوگوں کو امام علیہ السلام کی بیعت کے لئے بلایا۔ امام حسن علیہ السلام نے عراقیوں سے اس شرط پر بیعت قبول کی ہم جس کے ساتھ جنگ کریں گے تمہیں جنگ کرنا ہوگی اور اگر ہم کسی کے ساتھ صلح کریں تو تمہیں مصالحت سے رہنا ہوگا۔
جبکہ امام حسن علیہ السلام کے اس قول کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ آپ کا معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کا اردہ ہے اور نہ ہی اس کا مطلب  یہ تھا کہ آپ اس سے جنگ کرنے والے ہیں ۔لیکن جو لوگ معاویہ سے جنگ کرنے پر تیار تھے انہوں نے حضرت کے کلام سے سمجھنے کی کوشش کی کہ امام حسن(ع) صلح کرنے کا اردہ رکھتے ہیں چنانچہ وہ سب امام حسین(ع) کی طرف چلے گئے لیکن جب وہ امام حسین(ع) کے پاس گئے انہیں شرمندگی ہوئی چونکہ آپ اپنے بھائی سے سوفیصدی موافق تھے لہذا انہیں واپس لوٹنا پڑا اور امام حسن(ع) کے ہاتھ پر بیعت کرنا پڑی۔اس طرح پوری اسلامی حکومت،عراق، حجاز اور ایران میں امام حسن علیہ السلام کی خلافت کا رسمی اعلان ہوگیا۔اور بیعت کرنے والوں میں شام سے اس لئے لوگ نہیں تھے چونکہ دمشق پر امیر شام کی نحوست کا سایہ تھا۔
بعض روایات کی بنیاد پر امام علی(ع) کی شہادت کے تقریباً ۵۰ دن تک امام حسن(ع) نے جنگ کرنے یا معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کے سلسلہ میں کوئی اقدام نہیں کیا۔ بلکہ ۵۰ دن کے بعد جو پہلا قدم اٹھایا تو وہ جنگ کے لئے تھا۔
امام حسن(ع) کی صلح
امام حسن(ع) کی زندگی کا سب سے اہم حادثہ معاویہ کا آپ کے ساتھ صلح کرنا تھا۔اس صلح اور اس کے اسباب و عوامل کو سمجھنا بہت ضروری ہے چونکہ امام (ع) اس صلح کو دوسروں پر حجت سمجھتے تھے یعنی امام حسن مجتبٰی(ع) کی حکمت عملی اور بصیرت ایک مسلمان کو یہ سکھاتی ہے کہ جب حالات اتنے خراب ہوجائیں اور جنگ کرکے بھی مقصد کا حصول ممکن نہ ہو تو صلح  کرکے حتیٰ المقدور زیادہ نقصان سے بچنا ہی عقلمندی ہے۔
صلح کے شرائط ،حالات  اور تقاضوں نیز اس کی کیفیت اور اس میں تحریر شدہ شرائط کی اگر تحقیق کی جائے تو ظاہر یہی ہوگا کہ یہ صلح اگرچہ ظاہر میں کچھ تلح محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے فوائد اور خوشگوار نتائج اہل حق اور صاحبان نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں۔اور اس صلح سے باطل محاذ کو ایسی شکست ہوئی ہے کہ رہتی دنیا تک ، حسنی تدبیر کے آگے اس کی کمر خمیدہ نظر آتی رہے گی۔لہذا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام حسن علیہ السلام کا یہ سبز انقلاب تھا جس کی آغوش میں کربلا کا سرخ انقلاب پروان چڑھا۔ اور پھر اس نرم انقلاب نے اس سرخ انقلاب کے ساتھ ملکر امام باقر و صادق علیہما السلام کے لئے اس سنہرے مواقعایجاد کئے اور امت میں بیداری کی ایسی لہر اٹھی کہ بنی امیہ کو تاریخ میں منھ چھپانے کی جگہ نہ ملی اور اسلام آہستہ آہستہ تشیع میں مجسم ہوتا گیا اور آج ایسے تناور درخت میں تبدیل ہوچکا ہے کہ ’’اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء‘‘۔ کا مصداق کامل بن گیا۔
امام حسن(ع) صلح سے شہادت تک
صلح کے بعد امام حسن(ع) کی ساری توجہ اس امر کی طرف تھی کہ صلح سے متوقع نتائج و فوائد امت کو ضرور حاصل ہوں لہذا آپ نے اس پورے دور میں اپنے مخلص و باوفا چاہنے والوں سے رابطہ برقرار رکھا اور خستہ حال و تھکی ہوئی روح کے لوگوں کو اپنی ہمنشینی سے دور کردیا ۔آپ نے اسلام کی اس طرح صحیح تفسیر بیان کی کہ دشمن کے سارے حربے ٹوٹنے لگے آخرکار امیر شام ،آپ کو شہید کرنے کی سازشیں رچنے لگا۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम