Code : 2182 117 Hit

امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں شمولیت اور حسینی بننے کا موقع

اگرچہ ہم سن 61 ہجری میں اس دنیا میں نہیں تھے اور سرکار سید الشہداء علیہ السلام کے ہمراہ آپ کی نصرت کرنے والوں میں ہمارا شمار نہیں تھا لیکن ہمیں عصر غیبت اور منجی بشریت سرکار ولیعصر(عج) کے زمانہ میں ان اصولوں پہ زندگی گذارنی چاہیئے کہ ہمارے کردار سے حسینی خوشبو آئے ۔اور اگر ہم نے زندگی کے تمام شعبہ جات جیسا کہ انفرادی، اجتماعی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی میں حسینی ہونے کے تمام معیاراور اصول کا اتباع کیا تو یقینی طور پر ہم اپنی اس دیرینہ آرزو تک پہونچ جائیں گے جس کی ہر شیعہ تمنا کرتا ہے:’’ یا لیتنا کنا معکم فنوز فوزاً عظیماً‘‘۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اگرچہ ہم سن 61 ہجری میں اس دنیا میں نہیں تھے اور سرکار سید الشہداء علیہ السلام کے ہمراہ آپ کی نصرت کرنے والوں میں ہمارا شمار نہیں تھا لیکن ہمیں عصر غیبت اور منجی بشریت سرکار ولیعصر(عج) کے زمانہ میں ان اصولوں پہ زندگی گذارنی چاہیئے کہ ہمارے کردار سے حسینی خوشبو آئے ۔اور اگر ہم نے زندگی کے تمام شعبہ جات جیسا کہ انفرادی، اجتماعی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی میں  حسینی ہونے کے تمام معیاراور اصول کا اتباع کیا تو یقینی طور پر ہم اپنی اس دیرینہ آرزو تک پہونچ جائیں گے جس کی ہر شیعہ تمنا کرتا ہے:’’ یا لیتنا کنا معکم فنوز فوزاً عظیماً‘‘۔
سن 61 ہجری کا گذر جانے اور ہمارے اس زمانے کو درک نہ کرنے کو  کہیں ہم اپنے لئے بہانا نہ بنا لیں کہ آج ہماری گردن پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔اور کہیں یہ فکر نہ کرنے لگ جائیں کہ امام حسین علیہ السلام نے صرف صحرائے کربلا میں موجود افراد سے نصرت کا مطالبہ کیا تھا   اور ہم سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اور ہمارے لئے تو یہی کافی ہے کہ جب محرم آئے ہم فرش عزا بچھا کر چند مرثئے پڑھیں اور کچھ دیر نوحہ و ماتم میں مصروف رہ کر سے سوچنے لگیں کہ حق ادا ہوگیا، نہیں! بلکہ یہ راستہ آج بھی کھلا ہوا ہے اور امام حسین علیہ السلام کی صدائے نصرت آج بھی گونج رہی ہے جو امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والوں اور اپنے دل میں نصرت کا جذبہ رکھنے والوں کو آج بھی اپنے لشکر میں شامل ہونے کی دعوت دے رہی ہے :’’ هَلْ مِنْ ذَابٍّ یَذُبُّ عَنْ حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ ص هَلْ مِنْ مُوَحِّدٍ یَخَافُ اللَّهَ فِینَا هَلْ مِنْ مُغِیثٍ یَرْجُو اللَّهَ بِإِغَاثَتِنَا هَلْ‌ مِنْ‌ مُعِینٍ‌ یَرْجُو مَا عِنْدَ اللَّهِ‌ فِی‌ إِعَانَتِنَا‘‘۔(اللهوف على قتلى الطفوف،ص116) کیا کوئی ہے جو رسول اللہ (ص) کے حرم سے دفاع کرے ؟ کیا کوئی موحد اور خدا پرست ہے جو ہمارے سلسلہ میں اللہ سے ڈرے؟  کیا کوئی فریاد سننے والا ہے کہ اللہ سے اجر لینے کے لئے ہماری آواز پر لبیک کہے؟؟ کیا کوئی مدد کرنے والا ہے جو اس ثواب و اجر کی بنیاد پر ہماری مدد کرے جو اللہ کے پاس ہے؟  
چنانچہ اگر ہم نے حسینی بننے کے تمام معیاروں پر پر اپنی زندگی کو ڈھال لیا تب یہ امید کی جاسکتی ہے ہم امام حسین(ع) کے لشکر کا حصہ بن گئے اور ہمیں حضرت کی نصرت کی توفیق نصیب ہوگئی چونکہ امام حسین علیہ السلام کو اپنے چاہنے والوں اور دوستوں سے یہی امید ہے کہ وہ ہماری پیروی کریں اور ہمارے دکھائے ہوئے راستے پر چلیں۔ جیسا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’ مَنْ‌ أَحَبَّنَا فَلْیَعْمَلْ‌ بِعَمَلِنَا وَ یَسْتَعِنْ بِالْوَرَع‌ ‘‘۔(تحف العقول، ص104) جو ہم سے محبت کرتا ہے اسے ہماری طرح عمل کرنا چاہیئے اور ورع و پرہیزگاری سے مدد حاصل کرنا چاہیئے۔
حسینی بننے کے  محکم اصول
1)  عبادت کو اہمیت دینا
حسینی بننے کی ایک بارز اور برجستہ صفت یہ ہے کہ ہم اللہ سے راز و نیاز اور اس کی عبادت و بندگی کے لئے اپنے وقت کا سب سے اہم حصہ مختص کریں ۔اگرچہ بہت سے لوگ اہل عبادت و بندگی ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی نمازوں کو ایسے وقت میں پڑھتے ہیں جب انہیں کوئی دوسرا کام نہیں ہوتا اور اکثر و بیشتر ایسے اوقات کو نماز کے لئے رکھا جاتا ہے جو مردہ اور بے خاصیت اوقات ہوتے ہیں اور یہ لوگ اپنی نمازوں کو اتنی تاخیر کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ جب بلکل خستہ حال ہوجاتے ہیں اور وہ بھی نہایت عجلت میں فریضے کی ادائیگی کریتے ہیں جب کہ ہمیں امام حسین علیہ السلام کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ آپ نماز ، عبادت اور بندگی کے عاشق تھے ۔( الإرشاد فی معرفة حجج الله على العباد ؛ ج‌2 ؛ ص90) اور یہاں تک کہ دشمن کے ساتھ جنگ کے عالم میں بھی نماز کو پڑھنے کی فرصت تلاش کررہے تھے۔ آپ نماز کو اس کے اول وقت میں ادا فرماتے تھے اور نماز کی طرف امام حسین(ع) کی توجہ اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ عاشور کے دن، ظہر کی نماز کو جنگ کے عالم میں بھی تأخیر سے پڑھنا گوارا نہ کیا۔( وقعة الطف، ص229)
2) دوسروں کی حاجت روائی کرنا
امام حسین علیہ السلام کی زندگی کا ایک جلوہ بخشش اور ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا تھا اور یہ وہ صفت ہے جو قرآنی تعلیم سے لی گئی ہے لہذا امام حسین(ع) کی پوری زندگی میں یہ صفت نہایت ہی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے اور خاص طور پر شیعہ روائی منابع میں دوسروں کی حاجتوں کو پورا کرنا اور ضرورتمندوں کی ضرورتوں کی تکمیل کرنے کو خود سرکار امام حسین(ع) کی زبانی بہت سی جگہوں پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے چنانچہ آپ کا یہ عظیم جملہ احادیث کی کتب میں موجود ہے جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ امام حسین(ع) دوسروں کی حاجت روائی کو کتنا عظیم کام شمار کرتے تھے:’’ مَن‌ نَفَّسَ‌ کُربَةَ مُؤمِنٍ‌ فَرَّجَ‌ اللّهُ‌ عَنهُ‌ کُرَبَ‌ الدُّنیا وَ الآخِرَةِ، و مَن أحسَنَ أحسَنَ اللّهُ إلَیهِ، وَ اللّهُ یُحِبُّ المُحسِنین‘‘۔(نزهة الناظر و تنبیه الخاطر ص82)
جو شخص کسی مؤمن کا غم دور کرے اللہ اسے دنیا و آخرت کے غموں سے نجات دے دیتا ہے اور جو دوسروں کے ساتھ بھلائی کرے اللہ اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
یا ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:’’جان لو کہ لوگوں کا تم سے کچھ طلب کرنا اللہ کی نعمت ہے لہذا کسی کی حاجت روائی کرنے سے دل برداشتہ نہ ہونا کہ کہیں تم خود اس بلا میں گرفتار نہ ہوجاؤ۔(نزهة الناظر و تنبیه الخاطر ص81)
3) معاف اور درگذر کرنا
امام حسین علیہ السلام کی ایک بارز صفت خطاکار کی خطا کو معاف کردینا ہے چنانچہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کو قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اس اہم اخلاقی صفت کو پیدا کرنے کی دعوت دی ہے:’’ وَ لْیَعْفُوا وَ لْیَصْفَحُوا أَ لا تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّهُ لَکُمْ وَ اللَّهُ غَفُورٌ رَحیمٌ‘‘۔(سورہ نور:22)
ترجمہ:انہیں چاہئے کہ یہ لوگ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟ اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
اور اگر ہم دقیق طور پر آج اپنے معاشرے کی اجتماعی و گھریلو زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں اس عنصر کا فقدان نظر آتا ہے ۔اور حقیقت میں اگر انسان اپنی گھریلو اور مشترکہ زندگی میں چشم پوشی اور نظر انداز کرنے سے کام لے اور در گذر کرنے کی مہارت رکھتا ہو تو آج ہمارے معاشرے کی بہت سی مشکلات خود بخود ختم ہو جائیں گی۔
معاف کرنا اور در گذر کرنا تمام آئمہ کرام(ع) کی ایک نمایاں صفت تھی چنانچہ امام حسین علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے:’’ إنَّ أعفَى النّاسِ مَن عَفا عِندَقُدرَتِهِ‘‘۔(بحار الأنوار (ط - بیروت)، ج‌71، ص400) سب سے زیادہ معاف کرنے اور در گذر کرنے والا شخص  وہ ہوتا ہے جو کسی کی خطا کو اس وقت معاف کردے جب وہ کمال کی طاقت و قدرت رکھتا ہو۔
لہذا ہم آئمہ علیہم السلام کی زندگی میں پاتے ہیں کہ آپ حضرات خود اپنی شأن میں گستاخی کرنے والوں کو کتنی آسانی سے معاف کردیا کرتے تھے کیا کربلا میں حر کا جرم کم تھا؟ جس نے امام علیہ السلام کا راستہ روکا اور کربلا تک امام حسین(ع) کو گھیر کر لایا لیکن جیسے ہی صدق دل سے توبہ کی آپ نے اسے معاف کردیا۔
4) حسن حلق
بہت سے محققین اس نظریہ کے قائل ہیں کہ آج انسانی معاشرہ کسی حد تک بدخلقی اورتند مزاجی جیسی بیماری میں مبتلا ہوچکا ہے اور یہ ایک ایسا موذی مرض ہے جس کے سبب آج سڑکوں، گلیوں اور یہاں تک کہ گھروں میں بھی افراتفری مچی ہوئی ہے معاشرے میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان اسی کے سبب ہے اور اس کے برعکس خوش اخلاقی اور دوسروں پر رحم کرنا ایسی صفت ہے جو انسانی دلوں کو مسخر کرلیتی ہے اور انسان کو بد اخلاقی کے برے نتائج سے بچا سکتی ہے چنانچہ ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ’’وَ جَنَى غُلَامٌ لَهُ جِنَایَةً تُوجِبُ الْعِقَابَ عَلَیْهِ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ یُضْرَبَ فَقَالَ یَا مَوْلَایَ- وَ الْکاظِمِینَ الْغَیْظَ قَالَ خَلُّوا عَنْهُ فَقَالَ یَا مَوْلَایَ‌ وَ الْعافِینَ عَنِ النَّاسِ‌ قَالَ قَدْ عَفَوْتُ عَنْکَ قَالَ یَا مَوْلَایَ‌ وَ اللَّهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ‌ قَالَ أَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ وَ لَکَ ضِعْفُ مَا کُنْتُ أُعْطِیکَ ‘‘۔( بحار الأنوار ؛ ج‌44 ؛ ص195)
امام حسین علیہ السلام کا ایک غلام کسی ایسے جرم کا مرتکب ہوگیا تھا جو سزا کا مستحق تھا چنانچہ آپ نے فرمایا کہ اسے تنبیہ کیا جائے لیکن غلام نے کہا: میرے مولا و آقا!اے غصہ کو پی جانے والے، امام نے فرمایا اسے چھوڑ دو! پھر غلام نے کہا: میرے مولا! لوگوں سے درگذر کردینے والے! آپ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا۔ پھر غلام نے عرض کیا:اے میرے مولا! اللہ تعالیٰ نیکیاں کرنے والوں کو پسند کرتا ہے! امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے تجھے اللہ کی راہ میں آزاد کیا اور جو میں تجھے پہلے دیا کرتا تھا اس کا دو گُنا تجھے عطا کرتا ہوں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम