مسلمانوں کے لئے واحد راہ نجات، اسلامی اتحاد اور استقامت ہے: آیت اللہ خامنہ ای

مسلمان قوموں کے لئے ضروری ہے کہ اس طرح کے کاموں کے نابکار محرکات کو پہچانیں جن کی پشت پناہی میں بڑے شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے نابکار ہاتھ کار فرما ہیں، انہیں چاہیٔے کہ اس طرح کے خیانت کاروں کو برملا کریں۔ وہ لوگ جو کچھ سادہ لوح مسلمانوں کے نزدیک درخواست اور سر جھکانے اور گٹھ جوڑ کی راہیں پیش کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی مسلمانوں کی مشکلوں کو حل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان کی نجات کا سامان فراہم کرسکتاہے، اس کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے مسلمانوں کا اتحاد ،نیز اسلام اور اس کی قدروں اور اصولوں پرکاربند رہنا اور دشمن پر طویل المدت دباؤ اور ان پر عرصۂ حیات کو تنگ کرنا ہے۔

ولایت پورٹل: اسلامی ملکوں میں یورپی سامراج کی آمد کے وقت سے ہی سامراجیوں کی ایک حتمی سیاست مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی رہی ہے۔ یہ لوگ اس سیاست کو کبھی فرقہ و قومیت وغیرہ کے حربے کے ذریعہ ہوا دیتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اصلاح پسندوں اور اتحاد کے منادیوں کے ذریعہ آواز اٹھائے جانے کے باوجود آج بھی دشمن کا یہ حربہ امت اسلامیہ کے پیکر پروار کرنے اورچوٹ پہنچانے میں کسی حد تک کامیاب رہا ہے۔
شیعوں اور سنیوں کے درمیان اختلاف کو ہوا دینا عرب و عجم، ایشیاء و افریقہ اور عرب قومیت و تورانی و فارسی کے درمیان قوم پرستی کو بڑھاوا دینے کا سلسلہ اگرچہ غیر ملکیوں کے ذریعہ شروع ہوا، لیکن بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج کے دور میں ان نام نہاد اپنوں کے ذریعہ جو کہ اپنی نادانی یا غیر ملکیوں کی غلامی کے سبب دشمن کو فائدہ پہنچانے میں سرگرم ہیں، یہ سیاست جاری ہے۔ کبھی تو اس انحراف کا دائرہ یہاں تک وسیع ہوجاتا ہے کہ بعض مسلمان حکومتیں دولت خرچ کرکے اسلامی مذاہب یا اسلامی قوموں کے درمیان اختلاف وجود میں لانے کی کوشش کرتی ہیں۔یا بعض زرخرید اور نام نہاد علماء ان اسلامی فرقوں کے خلاف جن کا درخشاں ماضی تاریخ اسلام میں واضح ہے، کفر کا فتویٰ صادر کردیتے ہیں۔مسلمان قوموں کے لئے ضروری ہے کہ اس طرح کے کاموں کے نابکار محرکات کو پہچانیں جن کی پشت پناہی میں بڑے شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے نابکار ہاتھ کار فرما ہیں، انہیں چاہیٔے کہ اس طرح کے خیانت کاروں کو برملا کریں۔ وہ لوگ جو کچھ سادہ لوح مسلمانوں کے نزدیک درخواست اور سر جھکانے اور گٹھ جوڑ کی راہیں پیش کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی مسلمانوں کی مشکلوں کو حل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان کی نجات کا سامان فراہم کرسکتاہے، اس کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے مسلمانوں کا اتحاد ،نیز اسلام اور اس کی قدروں اور اصولوں پرکاربند رہنا اور دشمن پر طویل المدت دباؤ اور ان پر عرصۂ حیات کو تنگ کرنا ہے۔اور آج عالم اسلام پورے اسلامی ملکوں میں غیرت مند جوانوں کی طرف امید کی نگاہیں جمائے ہوئے ہے کہ یہ لوگ اسلام کی حیثیت کا دفاع کرتے ہوئے اپنا تاریخی کردار نبھائیں گے۔


۱۷ مئی ۱۹۹۳ ء ،   عظیم حج کانفرنس کے موقع پر پیغام   سے اقتباس ۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین