سلامتی کونسل کی ایران مخالف امریکی اقدامات کی مخالفت

ستمبر کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چیئرمین نائجر نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف امریکی اقدامات کی مخالفت کی۔

ولایت پورٹل:روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چیئرمین نائجر نے منگل کے روز اعلان کیا کہ ہم اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں کہ "ٹرگر میکانزم" (ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی واپسی) کو چالو کرنے کی امریکی کوشش پر مزید کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے، نائجر کے نمائندے کے مطابق ، ایران مخالف کاروائیوں کی حمایت نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ 15 رکنی سلامتی کونسل میں اتفاق رائے نہیں ہے۔
اقوام متحدہ میں نائیجر کے سفیر عبدو اباری نے بھی اسنیپ بیک عمل کے تحت مسودہ قرارداد پیش کرنے کے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے ایران پر پابندیوں کی معافی میں توسیع کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں جس کا سلامتی کونسل کے چیئرمین نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا، تاہم اباری نے نوٹ کیا کہ سلامتی کونسل کا کوئی دوسرا ممبر ایسا کرسکتا ہے، امریکی خود  بھی کر سکتے ہیں ۔
دریں اثنا ، امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے 20 اگست کو ایران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں شکایت درج کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس نے 30 دن کے عمل کو ایران کے خلاف تمام بین الاقوامی پابندیوں پر دوبارہ لاگو کرنے کے لئے متحرک کیا ہے جسے اسنیپ بیک (ٹرگر میکانزم) کہا جاتا ہے لیکن اقوام متحدہ میں انڈونیشیا کی سفیر ، دیان ٹریسیہ دیجانی ، جنہوں نے اگست کے لئے سلامتی کونسل کی سربراہی کی ، نے کہا کہ وہ  مزید کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ سلامتی کونسل کے 13 ارکان نے مخالفت کا اظہار کیا ہے ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین