نئے برطانوی ویزاعظم بھی کسی کام کے نہیں:جرمن اخبار

برطانوی کنزرویٹوز کو امید تھی کہ رشی سنک کی تقرری سے جانسن اور ٹیرس کے وزرائے اعظم کے دوران پائی جانے والی کئی مہینوں کی افراتفری اور ہنگامہ آرائی کے بعد کچھ راحت ملے گی لیکن اب سنک کی اہلیت کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

ولایت پورٹل:جرمن اخبار وینر زیتونگ نے اپنی ایک رپورٹ میں اپنے پیشرو بورس جانسن اور لِز ٹرس کی تخریب کاری کی تلافی کے لیے ڈیڈ لائن اور چالبازی کے میدان اور نئے برطانوی وزیرِ اعظم رشی سوناک کی کم کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ برطانوی قدامت پسندوں کو امید تھی کہ گزشتہ مہینوں کی افراتفری کے بعد پارٹی اور حکومت کے نئے رہنما کے آنے سے کچھ سکون ہو جائے گا لیکن سنک کے بارے میں رائے بدلتی جارہی ہیں۔
اخبار نے مزید لکھا کہ جب رشی سنک اقتدار میں آئے تو ویسٹ منسٹر میں ان کے ساتھی مہم جو کسی بھی چیز سے زیادہ ایک چیز چاہتے تھے، نئے وزیر اعظم سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ بورس جانسن اور لِز ٹیرس کی طرف سے شروع کی گئی برطانوی منڈیوں کی مہینوں سے جاری تخفیف اسلحہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی افراتفری کا خاتمہ کریں گے۔
انہیں توقع تھی کہ سنک انہیں بھولنے کے لیے کچھ کریں گے، ، پریشان ذہنوں کو پرسکون کریں گے اور اپنی کنزرویٹو پارٹی  بلکہ پورے ملک میں نئے اور مستحکم حالات کا آغاز کریں گے قدامت پسند حکومتی کاروبار کو ایک پرسکون مالیاتی ماہر کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے تھے، خاص طور پر نئے معاشی بحران میں۔
یاد رہے کہ جب ایک ماہ قبل پارلیمانی دھڑے نے سنک کو پارٹی اور حکومت کا سربراہ منتخب کیا تھا  تو انہوں نے خود سنجیدگی سے انصاف اور ذمہ داری کا وعدہ کیا تھا، تاہم سنک کے اس دعوے کے سلسلہ میں بہت کم وقت میں شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین