نئے برطانوی بادشاہ بھی نسل پرست

نئے برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے بھی اپنے نسل پرست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ملکہ کی آخرسی رسومات میں شریک ایک سیاہ فام شخص کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا۔

ولایت پورٹل:برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس ملک کی ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پروگرام کے کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برطانیہ کے نئے بادشاہ بکنگہم پیلس کے باہر موجود اجتماع سے ہاتھ ملا رہے ہیں لیکن جب ایک سیاہ فام شہری ہاتھ ملانے کے لئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے تو چارلز نسل پرستانہ رویہ اپناتے ہوئے اسے نظرانداز کرتے ہیں اور اس کے بعد قطار میں کھڑے لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ کے نئے بادشاہ کے اس اقدام پر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر منفی ردعمل دیکھا جا رہا ہے اور دنیا بھر کے لوگ اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کنگ چارلز سوئم کو ایک نسل پرست شخص قرار دے رہے ہیں۔
قبل از ایں دس ستمبر کی ایک ویڈیو میں بھی دیکھا گیا تھا کہ چارلز سوئم اپنے خادموں سے بدسلوکی سے پیش آرہے ہیں ، تاریخی شواہد کے مطابق، ملکہ  الزبتھ دوم کے اجداد کا غلاموں کی تجارت میں اہم کردار رہا ہے جس کے لئے نہ انہوں نے اور نہ ہی بادشاہی خاندان کے کسی فرد نے اب تک معافی مانگی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین