Code : 2475 102 Hit

انسانیت کے موجودہ تاریک دور میں تعلیمات نبی رحمت(ص) کے اجالے کی ضرورت

جاہلیت کی سر زمین کو قیصر و کسری و روم کے لئے قابل رشک بنانے والی ذات کو قرآن کریم نے پوری کائنات کے لئے رحمت قرار دیا:’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ اور انسانیت کے لئے اس ذات کو نمونہ عمل بنایا ’’ولکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ ‘‘۔ اسلام کے ظہور کو چودہ سال گزر جانے کے باوجود آج بھی دنیا اسی قدر اسکی تعلیمات کی محتاج ہے جتنا روز اول تھی۔

ولایت پورٹل: آج کے اس ترقی یافتہ دور میں متمدن دنیا جس چیز کا ماتم کر رہی ہے وہ نابود ہوتے ہوئے انسانی اقدار ہیں ، روز بروز ترقی کی طرف گامزن انسان معاشرہ میں جرائم و قتل و غارت گری کی شرح کے اضافہ نے دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ انسان جس طرح آگے بڑھ رہا ہے اسکو دیکھتے ہوئے انسانی معاشرہ کا مستقبل کیا ہوگا ؟ اس لئے کہ جتنا جتنا یہ مادی طور پر ترقی کر رہا ہے اتنا ہی انسانی سماج اپنے تشخص کے بحران میں مبتلا ہو کر نفسیاتی طور پر مریض ہوتا چلا جا رہا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کی کرشما سازیوں اور ہنر آفرینیوں کے باوجود آج انسانی اقدار روز بروز کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں اور اسکی مثال وہ ترقی یافتہ ممالک ہیں جو اقتصادی اور مالی و رفاہی اعتبار سے دنیا میں سر فہرست ہیں ۔انکی جیسی ٹکنالوجی کسی کے پاس نہیں، انکے جیسے جنگی آلات کسی کے پاس نہیں انکا جیسا مضبوط مواصلاتی سسٹم کسی کے پاس نہیں، انکے جیسے ذرائع ابلاغ کسی کے پاس نہیں وہ رفاہی اور مالی اعتبار سے آج مثال بننے کے باوجود اپنے عوام کو سکون مہیہ کرانے میں ناکام ہیں اور ماہرین نفسیات جب بھی سروے کرتے ہیں تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ بے چینی اور (depression) میں بھی سب سے آگے یہی ممالک ہیں۔ معتبر رپورٹوں کے مطابق سب سے زیادہ خود کشی کی شرح بھی انہیں ممالک میں پائی جاتی ہے۔
خود کشی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ جب انہیں سکون نصیب نہیں ہوتا اور زندگی بیزار سی لگنے لگتی ہے تو اس بیزاری کاا ٓخری حل خود کشی کے طور پر سامنے آتا ہے اور نہ صرف خود کشی بلکہ تدریجی اور خاموش موت کے ذمہ دار بھی یہی ممالک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ’’افغانستان ‘‘اور’’ کولمبیا ‘‘جیسے منشیات کی پیداوار کے ممالک کا سب سے بڑا بازار بھی امریکہ اور یورپ کے ترقی یافتہ ممالک ہیں جہاں دنیا کی سب سے زیادہ منشیات سپلائی ہوتی ہیں۔ اگر یہ باتیں افریقا کے قحط زدہ علاقوں، ہندوستان ،پاکستان بنگلا دیش، یا دیگر غریب و فقیر ممالک کے لئے کہی جاتیں تو بات کچھ سمجھ میں آسکتی تھیں کہ فقیری ، غربت یا بیکاری سے تنگ آکر لوگ منشیات کا استعمال کر رہے ہیں یا خود کشی کے ذریعہ خود کو ہلاک کر رہے ہیں مگر طرہ تو یہ ہے کہ جس طرح کی منشیات یہ ترقی یافتہ ممالک استعمال کرتے ہیں ان کو استعمال کا سوچ کر ہی غریب آدمی کوہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے کیونکہ انکی قیمت بھی ایک عام آدمی اپنا سب کچھ لٹا کر بھی ادا نہیں کر سکتا ۔اسکا مطلب یہ ہے کہ غربت یا فقیری منشیات کے استعمال اور خود کشی کی علت نہیں ہے بلکہ اسکی وجہ کچھ اور ہے۔
ان ممالک کے تجزیاتی مطالعہ کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مادیت کی چکا چوند میں یہ بھول گئے ہیں کہ جس طرح انسان کے جسم کو رشد و نمو کے لئے غذا کی ضرورت ہے اسی طرح انسان کی روح بھی بغیر غذا کے رشد و نمو حاصل نہیں کر سکتی اور روح اس وقت تک پرسکون نہیں ہوسکتی جب تک اسکے معنوی تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے۔
انہوں نے جسمانی تقاضوں کی تسکین کے وسائل پر تو افراط کی حد تک توجہ کی لیکن روح کے تقاضوں کو بھول گئے اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ مادی اعتبار سے تو بہت آگے ہیں لیکن روحی اعتبار سے قحط زدہ علاقوں میں بسنے والے ننگے بھوکوں سے بھی زیادہ بھوکے ہیں یہ اپنی روحانیت کی بھوک مٹانے کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پیر مارتے ہیں اور جب کہیں سکون نہیں ملتا تو موت سے ہم آغوش ہو جاتے ہیں ہماری اس بات کا ثبوت وہ جدید تحقیقات ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شراب اور دوسری منشیات کا استعمال مذہبی افراد میں دوسروں سے کم ہے۔
آج تیزی کی ساتھ ترقی کی منزلوں کی طرف گامزن قافلہ انسانی گرچہ ظاہری ترقی کے زیوروں سے خود کو آراستہ کئے ایک دلفریب نظارہ پیش کر رہاہے اور اپنے حسن و جمال ،اپنی رعنائیوں اور دلربا ادواؤں سے ہر ایک کو مسحور کئے ہوئے انسانی ذہن کی کرشماتی صلاحیتوں کے بل پر داد تحسین حاصل کرکے خود میں مست مگن ہے اگرچہ اپنی ظاہری کامیابیوں پر ناز کرتا نظر آرہا ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو نہ جانے کتنے ایسے ز خم ہیں جو اس انسانی قافلہ کی زخمی روح میں پھیلتے چلے جا رہے ہیں اور اسے انکی خبر بھی نہیں، مادیت کے جھلماتے حسین اور دبیز پردوں نے اسکی آنکھوں کی پتلیوں میں ایسا جال تان دیا ہے کہ یہ چاہ کر بھی حقیقتوں کا سامنا نہیں کر سکتا۔
یہ چاہتے ہوئے بھی مچلتی ہوئی روح کے زخموں سے رستا ہوا لہو نہیں دیکھ سکتا، یہ چاہتے ہوئے بھی نالہ و شیون کرتی ہوئے انسانی اقدار کی چیخ پکار کو نہیں سن سکتا ۔یہ بھوک و افلاس سے تڑپتے ہوئے ناداروں کو دیکھتا ہے تو اسکی روح بے چین ہو جاتی ہے لیکن ایک ہی لمحے میں منظر بدل جاتا ہے ،پردہ ذہن پر بننے والی بے یار و مدد گار ننگے بھوکے دو روٹی کے محتاج لوگوں کی تصویر ابھی اس کے قرطاس دل پر ٹھہر نہیں پاتی کہ موسیقی کے دھن پر تھرکتے ہوئے بدن اسکے ذہن و دل و دماغ پر مسلط ہو کر اسے بھی زمانے کے ساتھ تھرکنے پر مجبور کر دیتے ہیں، جذبہ ہم دردی سسکیاں لے کر دم توڑ دیتا ہے بے یار و مددگار فقیر و نادار لوگ اپنی آنکھوں میں مایوسیوں کے بادل لئے پیٹ پر پتھر باند کر سو جاتے ہیں اور یوں روح کے تقاضوں کا گلا گھونٹ کر روح و جسم کے مابین متضاد خواہشات کا طلاطم تھم جاتا ہے۔ یہ ظلم و ستم کی چکی میں پستے ہوئے یتیم ،لاوارث غریب ،پسماندہ اور ناتواں لوگوں کی فریادوں کو سنتا ہے لیکن اس سے پہلے کہ اسکی انسانیت ،اسکا ضمیر انکے لئے کچھ کرنے پر وادار کرے چھلکتے جاموں کی کنھکھناہٹ اور کیف و سرور میں مدہوش نغموں کی مترنم آوازیں اسے اپنے ساتھ اتنی دور لے جاتی ہیں جہاں یہ خود اپنی روح کی چیخ پکار بھی نہیں سن پاتا جو انسانیت کی دہائی دے کر اسے من مانی کرنے سے روکتی ہے لیکن یہ ہر حد کو پار کرتے ہوئے حیوانیت و درندگی کاپجاری بن جاتا ہے اور جب حیوانیت کے دیو کے چرنوں میں اپنا سر رکھ کر اٹھاتا ہے تو اسکی نس نس میں درندگی جاگ اٹھتی ہے۔
اب یہ ظاہر میں تو انسان ہوتا ہے لیکن حلال و حرام کی تمیز نہیں رہتی اس لئے اندر سے خنزیر بن جاتا ہے، اپنے پیٹ کے لئے ہر ایک سے لڑتا ہے ظاہر میں انسان ہوتا ہے لیکن اندر سے سگ آوارہ بن جاتا ہے، مظلوموں پر ظلم کرتا ہے اور کوئی روکے ٹوکے تو بھونکتا ہوا کاٹنے ڈوڑتا ہے، چھین جھپٹ کر اپنے پیٹ کی آگ بجھاتا ہے، ظاہری طور پر تو انسان نظرآتا ہے لیکن اندر سے بھیڑیا بن جاتا ہے یہ کہیں سانپ ،کہیں بچھو، کہیں گرگٹ بنتا ہے لیکن انسان کہیں نہیں رہتا یہی وجہ ہے کہیں باپ اور بیٹی کے مقدس رشتہ کی دھجیاں اڑاتا ہے تو کہیں بہن بھائی کے تقدس کو سر بازار نیلام کردیتا ہے۔
مختصر یہ کہ جو انسان چاند اور سورج پر کمندیں ڈال رہا تھا اگر اسکے پاس واضح اور روشن اخلاقی نمونے نہ ہوں تو وہ خود اپنے وجود کے حصار سے باہر نہیں نکل پاتا بلکہ جتنا زیادہ دنیاوی علم و ٹکنالوجی کو استعمال میں لاتا ہے اتنا ہی زیادہ بڑی تباہی کو بھی وجود میں لاتا ہے۔
دنیا چاہے جتنا بھی قافلہ انسانی کی ترقی کے گن گائے لیکن یہ بات کسی بھی صاحب بصیرت کی نظروں سے پوشیدہ نہیں کہ جتنا علم و صنعت کی کرشما سازیاں انسانیت کو بام عروج پر پہونچا رہی ہیں اتنا ہی انسانیت اخلاق و معنویت کے بحران میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے۔
دنیا میں تمام تر ترقیوں کے باوجود ، جرائم ، فساد، تباہی ، قتل ، خود کشی  کی شرحوں میں اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمناؤں کے ہجوم اور آرزؤوں کے حصول کے سیلاب میں کوئی بھی ایسا ساحل امن نہیں جہاں انسانیت خود کومحفوظ سمجھ سکے۔
انسان کی سرکش روح جب سرکشی پر آمادہ ہو جائے اور اسکی بلا خیز تمناؤں میں جب طغیانی آجائے تو علم وصنعت کی یہ روز افزوں ترقی بھی تخریب میں تیزی کا باعث بن جاتی ہے اور آج یہی ہو رہا ہے۔ شہید مطہری نے سالہا سال پہلے انسانیت کے درد کو سمجھتے ہوئے انہیں باتوں کے پیش نظر کہا ہوگا: ’’ اسی لئے آج کا انسان اس قدر علمی کامیابیوں کے باوجود درد انگیز نالے بلند کر رہا ہے ،یہ کیوں نالہ کناں ہے ؟ اس میں کس پہلو سے کمی اور نقص پایا جاتا ہے ؟ کیا اخلاق و عادات اور انسانیت کے بحران کے علاوہ بھی اس میں کوئی کمی پائی جارہی ہے ؟ آج انسان علمی اور فکری اعتبار سے اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اب وہ آسمانوں پر سفر کا ارادہ رکھتا ہے، سقراط اور افلاطون جیسے لوگ اسکی شاگردی کا اعزاز قبول کرنے کو تیار ہیں لیکن روحانیت و اخلاق اور عادات و اطوار کے اعتبار سے وہ ایک شمشیر بدست وحشی کی مانند ہونے سے زیادہ کچھ نہیں ہے اگرچہ انسان نے حتی الامکان اپنے ارد گرد کے ماحول کو تبدیل کیا ہے لیکن اپنے آپ کو اور اپنے انداز فکر کو اپنے جذبات و رجحانات کو تبدیل نہیں کر سکا آج کے انسان کی مشکلات کی جڑ اسی جگہ تلاش کرنا چاہئے۔
آج کے انسان نے علم و فن میں اپنی تمام ترکرشمہ ساز ترقیوں کے باوجود آدمیت اور انسانیت کے اعتبار سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا ہے بلکہ وہ اپنے تاریک ترین دور کی جانب پلٹ گیا ہے‘‘ .. سوال یہ ہے کہ اس انسان کو اسکے تاریک دور سے واپس آج کی دنیا میں کیسے لایا جائے ؟ علامہ اقبال اسکا حل یوں بیان کرتے ہیں ’’انسانیت کو آج تین چیزوں کی ضرورت ہے ، دنیا کی روحانی تعبیر، فرد کی روحانی آزادی اور دنیا پر اثر انداز ہونے والا ایسا بنیادی اصول جو روحانی بنیاد پر انسانی سماج کے کمال تک پہونچنے کی نہج اور اسکے مبنا کو بیان کر سکے‘‘ ۔ یہ تینوں چیزیں صرف دین کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہیں ’’مختلف مکاتب ، ادیان اور مذاہب کے درمیان صرف اسلام ہے جو ان تینوں ضروریات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آج انسانیت کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ معنویت اور اخلاق ہے ۔ در حقیقت انسان اپنے گم شدہ وجود کی تلاش میں سرگرداں ہے جو بغیر اخلاق و معنویت کے متصور نہیں ہے ،انسان کی پیاسی روح کو شدت کے ساتھ الہامی تعلیمات کے ان برستے بادلوں کی ضرورت ہے جو ذہن و دل و دماغ کی مرجھائی کلیوں کے ہونٹوں پر بھی زندگی کی مسکراہٹ بکھیر دیں اور یہ کام عقل محض کے خشک جھلستے بیابانوں میں صحرا نوردی سے ممکن نہیں، چنانچہ علامہ اقبال فرماتے ہیں: ’’ شک نہیں کہ جدید یورپ نے نظریاتی اور مثالی نظام مدون کئے ۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ جو حقیقت صرف اور صرف عقل محض کے رستہ حاصل کی جائے اس میں زندہ اعتقاد کی حرارت نہیں ہو سکتی جو صرف الہام سے ہوتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ عقل محض نے نوع بشر پر کوئی اثر نہیں ڈالا جبکہ دین ہمیشہ لوگوں کی ترقی اور انسانی معاشرے میں تبدیلی کا باعث رہا ہے اسی لئے یورپ کی کارگزاریوں کا نتیجہ ایک حیران’’ میں ‘‘ کی صور ت میں سامنے آتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ناہم آہنگ جمہوریتوں کے درمیان اپنی تلاش میں سرگرداں ہے۔
چنانچہ آج کا یورپ انسانیت کے اخلاق کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ ساحل نجات جہاں یہ’’ میں ‘‘ دریائے حیرت میں غوطہ ور ہونے سے بچ کر ابدی سکون سے ہم کنار ہو سکتا ہے ، اخلاق و معنویت ہے۔ لیکن آج پوری دنیا اسی بحران کا شکار ہے معنویت و اخلاق کا یہ بحران اس وقت تک نہیں حل ہو سکتا جب تک بنی نوع بشر اپنی پیاسی روحوں کو ایمان کے چشمہ طمانیت سے سیراب نہ کرے اور ان تعلیمات سے آشنا نہ ہو جائے جہاں روح و جسم دونوں کے تقاضوں کے مد نظر ان جامع اصولوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو انسان کو انسان بناتے ہیں۔
آج دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ اخلاق اور معنویت کے اس بحران سے کیسے مقابلہ کیا جائے ایسے میں ضرورت ہے اس اخلاق کے پیکر کو ساری دنیا کے سامنے پیش کرنے کی جس نے جاہلی رسموں اور خود ساختہ سماجی زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس عرب کے جاہلی سماج کی علم و اخلاق و تہذیب کے بل پر تعمیر کرکے جینے کے لائق بنا دیا جو فتنہ و فساد کی آگ میں جل رہا تھا، خرافات اور اوہام پرستی کی خار دار جھاڑیوں میں اپنا وجود کھو چکا تھا جھلستے ہوئے بیابانوں ، لق و دق صحراؤں اور ریگزاروں میں رہنے والے لوگوں کے درمیان اخلاق و معنویت کانمونہ بن جانا قبائلی نظام میں اخلاقی انحطاط و تنزلی کے باوجود اسی نظام کے اندر سے اخلاق و معنویت کے نمونوں کو پیش کرنا معمولی کارنامہ نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جاہلیت کی سر زمین کو قیصر و کسری و روم کے لئے قابل رشک بنانے والی ذات کو قرآن کریم نے پوری کائنات کے لئے رحمت قرار دیا:’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ اور انسانیت کے لئے اس ذات کو نمونہ عمل بنایا ’’ولکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ ‘‘۔ اسلام کے ظہور کو چودہ سال گزر جانے کے باوجود آج بھی دنیا اسی قدر اسکی تعلیمات کی محتاج ہے جتنا روز اول تھی۔ جس دن ان ضروریات کا احساس عام ہو جائیگا اس دن انسان کے پاس اپنے آپ کو اسلام کی آغوش میں ڈال دینے کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہوگا‘‘ ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان تعلیمات کو کس طرح عام کریں جنکی تشنگی آج ہرمعاشرہ محسوس کر رہا ہے۔کل اگر بدو عرب پیغمبر اسلام(ص) کی شخصیت سے حاصل ہونے والے دروس کے سرچشمہ سے فیضیاب ہوکر انسانی اقدار پر مشتمل سماج کی تشکیل دے سکتے ہیں تو یقیناً آج ہم پوری دنیا میں تعلیمات نبی رحمت(ص) کی روشنی پھیلا کر انسانیت کے مستقبل کے خطوط کو یقیناً روشن کر سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ سیری در سیرۂ نبوی ، مجموعہ آثار جلد ۱۶ ۔ ص، ۲۷ ۔
2۔ سیری در سیرہ نبوی ، مجموعہ آثار جلد ۱۶ ص ۲۵۔
3۔ احیاء فکر دینی در اسلام ۔ ص ۲۰۳۔ ۲۰۴۔
4۔احیاء فکر دینی در اسلام ۔ ص ۲۰۳۔ ۲۰۴۔
5۔ سیرۂ نبوی ،مجموعہ آثار جلد ۱۶ ص،۲۷ ۔

تحریر :مولانا سید نجیب الحسن زیدی صاحب



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम