Code : 2943 72 Hit

منافق کو پہچاننے کی ضرورت

قرآن مجید چونکہ قیامت تک کے لئے بشریت کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے لہذا بہت ہی کم مقامات پر قرآن مجید نے اشخاص کے نام بتلائے ہیں بلکہ اکثر اوقات تو قرآن مجید نے کرداروں کا تعارف کروایا ہے تاکہ ہر دور میں قابل تطبیق ہوسکے۔ پس اس قرآن مزاج کے تناظر میں ہمیں نفاق کی علامتوں کی پیچاننے کی ضرورت ہے تاکہ ہم انہیں ہر دور میں اس ملاک و میعار رکھنے والوں پر منطبق کرسکیں۔اور ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں، فریب اور دھوکہ سے خود کو اور اپنے معاشرے کو محفوظ رکھ سکیں۔

ولایت پورٹل: منافق ایک دینی اور قرآنی اصطلاح ہے لہذا قرآنی زبان میں منافق ایسے شخص کو کہتے ہیں جو حقیقی اور واقعی طور پر تو کافر ہو لیکن دوسروں کے سامنے اپنے کو مسلمان ظاہر کرے:’’یَقُولُونَ بِأَفْواهِهِمْ ما لَیْسَ فِی قُلُوبِهِمْ‘‘۔(آل عمران: ۱۶۷)۔ وہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ سب کہتے ہیں جس پر ان کے دل نہیں جمتے(یعنی عقیدہ نہیں رکھتے)۔
شیخ طبرسی(رح) منافق کی وجہ تسمیہ کے سلسلہ میں رقمطراز ہیں: منافق مؤمنین میں آکر باایمان بن جاتا ہے اور کافروں کے سامنے اپنا اصلی رنگ(کفر) ظاہر کردیتا ہے۔ نیز ایک دوسرے مقام پر تحریر کرتے ہیں:منافق کو منافق اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ ایمان سے کفر کی طرف چلا جاتا ہے۔(۱)
ایمان کو ظاہر کرنا اور کفر کو چھپانا ہی نفاق ہے
قرآن مجید چونکہ قیامت تک کے لئے بشریت کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے لہذا بہت ہی کم مقامات پر قرآن مجید نے اشخاص کے نام بتلائے ہیں بلکہ اکثر اوقات تو قرآن مجید نے کرداروں کا تعارف کروایا ہے تاکہ ہر دور میں قابل تطبیق ہوسکے۔ پس اس قرآن مزاج کے تناظر میں ہمیں نفاق کی علامتوں کی پیچاننے کی ضرورت ہے تاکہ ہم انہیں ہر دور میں اس ملاک و میعار رکھنے والوں پر منطبق کرسکیں۔اور ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں، فریب اور دھوکہ سے خود کو اور اپنے معاشرے کو محفوظ رکھ سکیں۔ چنانچہ قرآن مجید کی رو سے نفاق کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ ان کا ایمان جھوٹ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔چونکہ منافقین خود کو مؤمن ظاہر کرتے ہیں لیکن ان کے دل میں کہیں بھی ایمان کا گذر نہیں ہوتا ۔یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر ان کی شناخت بہت دشوار ہوتی ہے۔اور اسی لئے قرآن مجید نے منافقین کے دو مختلف پہلوؤں کا تعارف کروایا ہے اور اپنی پیروی کرنے والوں سے ان دونوں کی طرف توجہ مبذول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔لہذا کہیں قرآن مجید نے ان کی زبان کی بات کی ہے تو کہیں ان کی قلبی اور دلی کیفیات کا تذکرہ کیا ہے۔
منافق کے کلام میں نفاق: صاحبان ایمان سے ملاقات کے وقت ان کے زبانی لقلقہ’’وَإِذَا لَقُوا الَّذِینَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا‘‘۔(۲) اور اپنے ہم فکر اور شیطان صفت لوگوں سے ملاقات کے وقت ان کا اصلی رنگ:’’وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَیَاطِینِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَکُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ‘‘۔(۳) اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ اتنے بڑے جھوٹے ہوتے ہیں کہ خود پیغمبر اکرم (ص) کے حضور بھی آکر وہ جھوٹ سے اجتناب نہیں کرتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ اس طرح ان کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتا ہے:’’إِذَا جَاءَکَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّکَ لَرَسُولُ اللَّـهِ وَاللَّـهُ یَعْلَمُ إِنَّکَ لَرَسُولُهُ وَاللَّـهُ یَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَکَاذِبُونَ‘‘۔(۴)
ان کے دلوں میں نفاق: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ان کے دل میں نور ایمان کے نہ ہونے اور ان میں مرض و وبا ہونے کی طرف اس طرح اشارہ کرتا ہے:’’وَمَا هُم بِمُؤْمِنِینَ‘‘۔(۵) ، "فِی قُلُوبِهِم مَّرَضٌ‘‘۔(۶)
ویسے تو منافقین اتنی میٹھی زبان میں مؤمنین سے ہمکلام ہوتے ہیں کہ اگر توجہ نہ کی جائے یا بصیرت کی کمی ہو تو ان کی سازش سے بچنا مشکل امر ہوتا ہے۔ جبکہ ان کا دل ان کے کلام کی تصدیق و تأئید نہیں کرتا لہذا منافق کا دل اس کی زبان کے برخلاف ہوتا ہے اسی طرح منافق کے اعمال کبھی اس کی زبان کے موافق ہوتے ہیں لیکن قلب و عقیدہ کے مخالف ہوتے ہیں اور کبھی اس کے عقیدہ کے عین مطابق ہوتے ہیں لیکن اس کے کلام سے میل نہیں کھاتے ہیں۔
منافقین کے متعلق قرآن مجید کی کچھ جامع تعبیرات
منافقین ہی فاسد ہیں:’’إِنَّ الْمُنَافِقِینَ هُمُ الْفَاسِقُونَ‘‘۔(۷)
منافقین جھوٹے ہیں:’’وَاللَّـهُ یَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَکَاذِبُونَ‘‘۔(۸)
منافقین ناسمجھ ہوتے ہیں:’’وَلَـکِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَا یَفْقَهُونَ‘‘۔(۹)
منافقین نادان ہوتے ہیں:’’وَلَـکِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَا یَعْلَمُونَ‘‘۔(۱۰)
اللہ منافقین کو تباہ کردے:’’’قَاتَلَهُمُ اللَّـهُ أَنَّى یُؤْفَکُونَ‘‘۔(۱۱)
منافقین جہنم کے نچلے طبقوں میں رہیں گے:’’إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‘‘۔(۱۲)
مال و منصب کی محبت نفاق کی سب سے بڑی وجہ
کوئی بھی چیز خود بخود وجود میں نہیں آتی یہ دنیا عالم سبب و مسبب پر استوار ہے لہذا ہمیں اگر نفاق سے بچنا ہے تو یہ تلاش کرنا ہوگا کہ اس کے سب سے بڑے عامل کون سے ہیں چنانچہ قرآن مجید اور اولیائے کرام کی تعلمات کی روشنی میں مال و منصب کی محبت ہی نفاق کے وجود میں آنے کا سبب بتلائے گئے ہیں۔ لہذا انسان کو ہمیشہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیئے اور اپنے دل کے شیشہ کو ہمیشہ صاف رکھیں تاکہ کہیں نفاق کا زنگ اس پر نہ لگ جائے ۔چونکہ نفاق ایک قلبی اور اندرونی بیماری ہے اور مال و مقام کی محبت بھی باطنی امور میں سے ہیں لہذا ان دونوں کے درمیان موجود رابطہ کو پہچان کر انہیں اپنے سے دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی کو نفاق کا عارضہ نہ لگ جائے۔چنانچہ رسول اللہ(ص) کا ارشاد ہے:’’حُبُّ الْجاهِ وَ الْمالِ ینْبِتُ النِّفاقَ فِی الْقَلْبِ، کما ینْبِتُ الْماءُ الْبَقْل‘‘۔(۱۳) منصب و مال کی محبت نفاق کے پودے کو دل میں اگاتے ہیں جس طرح پانی سبزی جات کو اگانے کا سبب بنتا ہے۔
قارئین کرام! کوئی یہ تصور نہ کرے کہ ہمارے پاس تو مال ہے یا ہمارے پاس تو کوئی مقام و منصب ہے تو کیا خدانخواستہ ہم نفاق کے راستہ پر گامزن ہیں؟
نہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ مال و منصب کے حوالہ سے چار عقلی فرض متصور ہیں:
۱۔ممکن ہے کسی شخص کے پاس کوئی مقام، منصب اور پوسٹ ہو اور وافر مقدار میں مال بھی اس کے پاس موجود ہو اور ساتھ ساتھ وہ ایک متدین اور مہذب انسان ہو اس طرح کے یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اس کے دل کے کسی گوشہ میں مال و مقام کی ذرہ برابر محبت نہ ہو ۔ اگر واقعاً ایسا ہے تو اسلام میں ایسے شخص کی مذمت نہیں کی گئی چونکہ مال و منصب کا رکھنا کوئی مذموم امر نہیں ہے بلکہ اگر کسی کے دل میں مال کی طمع بڑھ جائے یا عہدہ میں ترقی کا لالچ اسے بے چین کرتا رہے تو اسے ضرور فکرمند ہونا چاہیئے کہ کہیں خدا نخواستہ وہ نفاق کے راستہ پر تو نہیں چل پڑا ہے؟
۲۔ دوسرا فرض یہ ہے کہ نہ کسی شخص کے پاس مال ہو اور نہ کوئی عہدہ و منصب ۔اور نہ اس کے دل میں مال و مقام کا کوئی لالچ ہو۔ یہ امر بھی مذموم نہیں ہے چونکہ اسلامی روایات و تعلیمات کے تناظر میں ان دونوں سے محبت کرنا لائق مذمت امر ہے۔
۳۔ایک فرض یہ ہے کہ کسی کے پاس نہ مال ہو اور نہ کوئی عہدہ، لیکن اس کے دل میں مال کثیر کو جمع کرنے کی ہوس اور کسی عہدے تک رسائی کے خواب موجود ہوں ۔ ایسا شخص دقیق طور پر اپنا محاسبہ کرے چونکہ اسی کی اسلام میں مذمت ہوئی ہے۔
۴۔اس تعلق سے چوتھا فرض یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس مال و مقام ہو  اور وہ ان کو دوست بھی رکھتا ہو تو یہ لائق مذمت چیز ہے چونکہ ان دونوں سے  وابستگی اور تعلق رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ قاموس قرآن، قرشی، سید علی اکبر، ج۷، ص۹۸.
۲۔سوره بقره، آیه ۱۴.
۳ سوره بقره، آیه ۱۴.
۴۔سوره منافقون، آیه ۱.
۵۔سوره بقره، آیه ۸.
۶۔سوره بقره، آیه ۱۰.
۷۔ سوره توبه، آیه ۶۷.
۸۔ سوره منافقون، آیه ۱.
۹۔سوره منافقون، آیه ۷.
۱۰۔سوره منافقون، آیه ۸.
۱۱۔ سوره منافقون، آیه ۴.
۱۲۔ سورہ نساء، آیہ ۱۴۵۔
۱۳۔بحار الانوار، علامه مجلسی، ج۷۵، ص۲۰۵.


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین