ایرانی لڑکی کی موت کے خلاف مظاہروں کے پس پردہ اغراض و مقاصد

ایرانی پولیس ہیڈکوارٹر میں مہساامینی نامی لڑکی کی موت مظاہروں کو جنم دینے کا ایک بہانہ بنا جو اب تک جاری ہیں جبکہ موت کی وجہ ابھی تک نامعلوم ہے جب تک کہ طبی معائنہ کار کے ذریعہ اس کا تعین نہیں کیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں پہلے تو سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ اسے پولیس نے مارا ہے لیکن ایران ٹی وی نے اس کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں دکھایا گیا کہ وہ محکمہ پولیس میں اس کے ساتھ معمول کا مطابق برتاؤ کیا جاتا ہے لیکن اچانک اس کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے جس کے بعد لڑکی کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی بالکل صحت مند تھی جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا نے ایسی دستاویزات شائع کیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اکثر نیورولوجسٹ کے پاس جاتی تھی یہاں تک کہ 8 سال کی عمر میں اس کا دماغی آپریشن بھی ہوا تھا،قابل ذکر ہے کہ مہساامینی کے خاندان کی جانب سے بات کرنے والوں میں اس کا خالہ زاد بھائی بھی شامل ہے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اس عسکری گروپ کا رکن ہے جو کردستا

ولایت پورٹل:مہسا امینی کی پراسرار موت ایران میں حزب اختلاف کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے درکار ہر چیز موجود ہے، یہ کرد اور سنی اقلیت سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی ہے۔
 پہلے تو اسلامی جمہوریہ کے کچھ مسلح اور غیر مسلح مخالفین نے کچھ لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر احتجاج شروع کیا اور وہ سوشل میڈیا میں پروپگنڈوں کے ذریعے کچھ لوگوں کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوئے لیکن بہت ہی جلد مہسا کی موت کے خلاف مظاہروں نے ایک الگ رنگ اختیار کیا یہاں تک کہ انہوں نے ریڈیکل شکل اختیار کر لی، یہیں سے احتجاج کی اصل شکل ظاہر ہوئی، کچھ لوگ جنہوں نے پہلے کہا تھا کہ ان کے احتجاج کی وجہ انسانی حقوق کے مسائل یا خواتین کے حقوق کا تحفظ ہے، ایسے اقدامات کیے جو ان کے دعووں پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں جیسے قرآن کو جلانا، مذہبی اور دینی علامات جیسے مساجد کو جلانا اور خواتین کے سروں سے حجاب اتارنے جیسی حرکتیں۔
 متذکرہ مظاہرین کے ساتھ، علیحدگی پسند ملیشیا، تکفیری گروہوں کے ارکان، - مجاہدین خلق گروپ کے  بعض کارندوں کی موجودگی - جو ایران کے مخالف اور غیر مخالف دونوں میں مقبول نہیں ہیں - نے تشدد کو کئی گنا بڑھا دیا، احتجاج کی تازہ ترین مثال میں سیستان و بلوچستان کے مرکز زاہدان میں "جنداللہ" گروپ کی فوجی کارروائی میں صرف ایک رات میں 19 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے جس کے بعد مولوی عبدالحمید سمیت علاقے کے سنی عمائدین نے بھی اس حملے کی مخالفت کی۔
 دریں اثناء امریکی حکومت کی جانب سے اس معاملے کی اعلانیہ حمایت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، نیویارک ٹائمز اس بارے میں لکھتا ہے کہ صدر بائیڈن نے فوری طور پر ایران میں مظاہرین کی حمایت کی،یاد رہے کہ ایران کو 13 سال پہلے بھی جب اسی طرح کی بدامنی کا سامنا کرنا پڑا تھا تو امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اس طرح کا زبردست طریقہ کار الٹا جواب دے گا، نیویارک ٹائمز نے 2009 کے فسادات میں سی آئی اے کے کردار پر زور دیتے ہوئے لکھا کہ سی آئی اے نے خفیہ طور پر بدامنی کو ہوا دی تھی، اب جبکہ امریکی صدر اس بار کھلے عام حمایت کر رہے ہیں تو اس ملک کی جاسوسی  کے کردار کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟
 اس تناظر میں جب ایران نے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کے جواب میں ان کے ٹھکانوں پر حملے کیے تو امریکی حکومت نے ان حملوں میں اپنے ایک شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی تاہم اس کی شناخت نہیں بتائی، اس کے علاوہ اس معاملے میں اسرائیل کے قدموں کے نشانات بھی دیکھے جا سکتے ہیں، صیہونی وزیر اعظم نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ اسلامی جمہوریہ  ایران کو "ہزار زخموں سے موت" کی حکمت عملی کی شکل میں کمزور کرنے کے درپے ہیں، اس اعلان کے پس منظر میں عراقی کردستان میں اسرائیلی ایجنٹوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا، حالانکہ دو مواقع پر ایران نے اعلان کیا کہ اس نے اسرائیلی حکومت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس کی تصدیق بعض امریکی میڈیا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے کی۔
قابل ذکر ہے کہ میں احتجاج کے لیے امریکہ کی حمایت پابندیوں تک جا پہنچی ہے، تاہم اس سلسلہ میں دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ایران کو اپنے لوگوں کو مرنے سے روکنے کے لیے ویکسین کی اشد ضرورت تھی یا پابندیوں کی وجہ سے خاص بیماریوں والے افراد مشکل سے دوچار تھے تو امریکہ نے پابندیوں میں نرمی نہیں کی لیکن ایران میں بدامنی کے دوران امریکہ نے انٹرنیٹ کمپنیوں کو چھوٹ دینے کی کوشش کی ہے تاکہ اس طرح آزادی اظہار کے بہانے تشدد کی سطح کم نہ ہونے پائے، اس کے بدلے میں امریکی حکومت نے ایران کی کچھ فوجی قوتوں پر پابندیاں لگا دیں۔
 لیکن برطانوی وزیر خارجہ کے مؤقف نے ایران میں مہسا امینی کی موت کے بہانے شروع ہونے والے احتجاج کی نوعیت پر سوالیہ نشان لگا دیا، AFP نے لکھا کہ برطانیہ کے خارجہ سکریٹری نے ایران کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ ایک اور راستہ کا انتخاب کریں  جیسے جوہری معاہدے کو قبول کرلیں کیونکہ ایرانی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی ایک نوجوان لڑکی کی موت کے بعد ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران میں تشدد  کی حقیقت سے واقف لوگوں کے مشاہدوں کے مطابق بہت سے شہروں میں لوگ اپنی معمول کی زندگی گزار رہے ہیں، ایران کے سوشل میڈیا میں ایک لطیفہ ہے کہ سوشل میڈیا میں ہر رات اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ ہو جاتا ہے جبکہ حقیقی دنیا میں ایسا کچھ نہیں ہوتا بلکہ تشدد اور احتجاج عموماً چند سڑکوں تک محدود ہوتا ہے،مبصرین حتیٰ وہ لوگ جو ایران کے خلاف ہیں، کا خیال ہے کہ یہ احتجاج ختم ہو جائیں گے، تل ابیب یونیورسٹی کے سینئر مشرق شناس پروفیسر ایال زیسر کہتے ہیں کہ یہ معاشرے کے اہم حصوں میں ایرانی حکومت کی گہری مخالفت ہے، شاید یہاں اکثریت نہ ہو اور شاید وہ نہ ہوں جو حکومت میں تبدیلی لانے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن یہ اہم ہیں۔ حصے، وہ مزید کہتے ہیں کہ ایران میں ابھی تک ایک عوامی احتجاج نہیں ہے، یہ ابھی تک پھیل نہیں سکا ہے اس لیے حکومت کچھ طریقوں سے پرسکون ہو سکتی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین