Code : 3977 27 Hit

ماہ ذی الحجہ عیدوں اور عبادتوں کا مہینہ

تمام مہینوں میں ماہ ذی الحجہ بھی ایک خاص عظمت کا حامل ہے اس مہینہ میں حج جیسی عظیم عبادت کا انجام پانا ہی اس کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس کے علاوہ اس مہینہ میں دیگراذکار وعبادات کی بہت فضیلت ہے جس کی تفصیل کے لئے مفاتیح الجنان اور بعض دوسری کتابوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے پہلی ذی الحجہ کو روزہ رکھے اس دن کے روزہ کا ثواب ۸۰ مہینوں کے روزے کے برابر ہے اس کے علاوہ ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اعمال کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔

ولایت پورٹل: کسی بھی امر میں کامیابی کے لئے وقت کا پہچاننا سب سے اہم ہوتا ہے زمان اور مکان کے اعتبار سے انسان کے اعمال وکردار کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انسان مقدس مقامات پر جاکر عبادت کرنا چاہتا ہے یا اسی طرح دعا کی قبولیت کے اوقات میں دعا ومناجات کا خواہشمند ہوتاہے چنانچہ مہینوں میں ماہ رمضان ،دنوں میں روز جمعہ راتوں میں شب قدر وغیرہ بہترین مواقع ہیں جن میں ہر مسلمان  اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری اور اس کی عبادت ضروری سمجھتا ہے    خداوندعالم نے تمام مہینوں بلکہ تمام دنوں کو کوئی نہ کوئی خصوصیت ضرور بخشی ہے جیسا کہ ہر مہینے کے اعمال ، فضائل وبرکات یا ہفتے کے دنوں کی الگ الگ دعائیں اور زیارتیں اسی امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
چنانچہ تمام مہینوں میں ماہ ذی الحجہ بھی ایک خاص عظمت کا حامل ہے اس مہینہ میں حج جیسی عظیم عبادت کا انجام پانا ہی اس کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس کے علاوہ اس مہینہ میں دیگراذکار وعبادات کی بہت فضیلت ہے جس کی تفصیل کے لئے مفاتیح الجنان اور بعض دوسری کتابوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے پہلی ذی الحجہ کو روزہ رکھے اس دن کے روزہ کا ثواب ۸۰ مہینوں کے روزے کے برابر ہے اس کے علاوہ ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اعمال کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔
۔۔امام ابو جعفر علیہ السلام سے مروی ہے کہ خداوندعالم نے جبرئیل امین کے ذریعہ پانچ تحفے جناب عیسیٰ (ع) کے پاس بھیجے اور فرمایا کہ ان کے ذریعہ سے دعا کرو خداوندعالم کے نزدیک ان ایام میں ان سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں ہے :
۱۔اشہد ان لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک لہ ،لہ  الملک ولہ الحمد بیدہ الخیر وھو علی کل شی قدیر
۲۔اشہد ان لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک لہاحداً صمداًلم یتخذ صاحبۃً ولا ولداً
۳۔اشہد ان لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک لہ احداً صمداًلم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواً احد
۴۔اشہد ان لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک لہلہ الملک ولہ الحمدیحیی ویمیت وھوحی لا یموت بیدہ الخیر وھو علی کل شیء قدیر
۵۔حسبی اﷲ وکفی سمع اﷲ لمن دعا لیس وراء ﷲ منتہی اشھد ﷲ بما دعا وانہ بری ممن تبراوان ﷲ الآخرۃ والاولیٰ
جناب عیسیٰ(ع) کے حواریوں نے پوچھا ان کلمات کا ثواب کیا ہے تو آپ نے جواب دیا کہ:پہلے فقرہ کو کہنے والے کیلئے تمام زمین والوں میں کسی کا عمل اس سے بہتر نہ ہوگا اور قیامت کے دن تمام بندوں کے اعمال سے زیادہ اعمال کا حامل ہوگا۔
جو شخص دوسرے فقرے کو سو بار اپنی زبان پر جاری کرے اس کو بارہ مرتبہ توریت وانجیل کی تلاوت کا ثواب ملے گاجس کے ثواب کے بارے میں جبرئیل نے جناب عیسیٰ(ع) سے بیان کیا کہ کوئی فرشتہ توریت کے ایک حرف کی تلاوت کے ثواب کا بارنہیں اٹھاسکتا سوائے میرے اوراسرافیل کے اسلئے کہ اسرافیل پہلے فرشتے ہیں جنہوں نے لا حول ولا قوۃ الا باﷲ اپنی زبان پر جاری کیا۔
جو شخص تیسرا فقرہ سو بار پڑھے خداوندعالم اس کے نامۂ اعمال میں دس ہزار نیکیاں لکھے گا اور دس ہزار گناہ مٹا ئے گا اس کے ہزار درجات بلند کرے گا اور ستر ہزار فرشتوں کو نازل کرے گا جو ہاتھ اٹھا کر اس کے اوپر صلوات پڑھتے رہیں گے۔
جناب عیسیٰ (ع) نے پوچھا کیا فرشتے انبیاء کے علاوہ بھی کسی پر صلوات بھیجتے ہیں تو جبرئیل نے کہا کہ اگر کوئی انبیاء الٰہی کے ذریعہ لائی جانے والی چیزوں پر ایمان رکھے اور اس میں کوئی تبدیلی نہ کرے تو اسے انبیاء کا ثواب ملتا ہے۔
جو شخص چوتھے فقرہ کو سو بارپڑھے تو وہ اس فرشتہ سے متعلق ہوتا ہے جس کا خدا سے رابطہ ہے اور خدا اس پر رحمت کی نظر ڈالتا ہے اورجس پر خدا رحمت کی نظر ڈالے وہ کبھی بدبخت نہیں ہو سکتا جناب عیسیٰ(ع) نے جبرئیل(ع) سے پوچھا پانچویں فقرہ کا ثواب کیا ہے تو جناب جبرئیل نے کہا کہ یہ میری دعاہے اوراس کی وضاحت کا مجھے حق نہیں ہے۔
البتہ تمام اعمال کے حقیقی ثواب کا حصول ان کے شرائط پر موقوف ہے جن میں اہم ترین شرط محبت اہل بیت علیہم السلام  کے ساتھ ان کلمات کی معنویت پرایمان واعتقاد ہے جب تک انسان ان تمام معنی کی گہرائی پر اعتقاد رکھتے ہوئے انہیں اپنی زبان پر جاری نہ کرے اس وقت تک اس کی برکتوں سے کما حقہ بہرہ مند ہونا ممکن نہیں ہے۔لہذا صدق دل سے ایمان و اعتقاد کے ساتھ مذکورہ اعمال و عبادات کی انجام دہی اور اپنے پردگار کے تئیں حسن ظن یقیناً اس تمام اجر و ثواب کا حقدار بناسکتا ہے جس کا اسلامی روایات میں وعدہ کیا گیا ہے۔
غم و الم کے کے دن
۷ذی الحجہ با قر العلوم امام محمد باقر علیہ السلام کی المناک شہادت کی تاریخ ہے آپ کی حیات بابرکت کے مُختلف پہلوؤں اور آپ کے ارشادات اور تعلیمات پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ آپ کی عزاداری کا خاص اہتمام ضروری ہے آپ واقعہ کربلا کے مصایب و آلام کی آخری یادگار تھے جنھوں نے تین برس کے سن میں پیاس اقرباء کی جدائی اسیری اور اس میں ڈھائے جانے والے تمام مصایب برداشت کیے جس میں ماؤں بہنوں کی اسیری اور باپ کا زنجیروں میں جکڑا جانا وغیرہ سب کچھ شامل ہے ۔
روز عرفہ
یعنی ۹؍ذی الحجہ جناب مسلم(ع) کی شہادت پر آنسو بہانے کے علاوہ اس دن بہت سے اعمال واذکار وارد ہیں اس دن کی عظمت کے سلسلہ میں روایت میں ہے کہ ایک شخص کو امام(ع) چہارم نے عرفہ کے دن لوگوں سے سوال کرتے دیکھا تو اسے ڈانٹ کر کہا: حیف ہے کہ تو آج کے دن بھی غیر خدا سے سوال کر رہا ہے جب کہ آج کے دن رحمت خدا شکم مادر میں رہنے والے بچوں کو بھی شامل ہوتی ہے۔اس دن روزہ ۹۰ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے لیکن اس کے باوجود روایات میں ہے کہ اگر روزہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوری عبادت میں مانع ہو تو روزہ نہ رکھے اور دعائیں پڑھتا رہے۔ عرفہ کے دن زیارت امام حسین(ع) کے ثواب کے بارے میں امام جعفر صادق(ع) سے روایت ہے کہ خداوندعالم میدان عرفات میں حاجیوں پر نظر ڈالنے سے پہلے زائر امام حسین(ع) پر نظر رحمت ڈالتا ہے ان کی حاجتوں کوپورا کرتا ہے ان کے گناہوں کومعاف کرتا ہے پھر میدان عرفات میں موجود حاجیوں کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کرتا ہے روزعرفہ امام حسین (ع) کی زیارت کے بارے میں روایت ہے کہ جو شخص عرفہ کے دن امام حسین (ع) کی زیارت کرے اسے قائم آل محمد(ع) کے ساتھ دس لاکھ حج کا ثواب رسول خداؐ کے ساتھ دس لاکھ عمر ے کا ثواب دس لاکھ غلام آزاد کرنے کا ثواب اور دس لاکھ گھوڑوں پر لدے ہوئے مال واسباب کو راہ خدا میں خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اس کے بعد خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے میرے سچے بندے میرے وعدے پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ امام کی زیارت کا طریقہ دعا وزیارت کی کتابوں میںموجود ہے جس کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ عرفہ کے دن بہت سے اعمال، نمازیں ،دعائیں وارد ہوئی ہیں جن کا پڑھنا بہترین اجر وثواب اور سعادت دارین کا سبب ہے خاص طور پر سرکار سید الشہداء (ع) کی مشہور دعائے عرفہ جو معرفت کا ایسا بحر ناپیدا کنارہے جس کی وسعتوں کا اندازہ نا ممکن ہے۔
عید الاضحی
نماز عید، قربانی اور دیگر اعمال واوراد کے علاوہ زیارت امام حسین (ع) ان تمام اعمال کی تفصیل مفصل کتابوں میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے:
عید غدیر  
مسلمانوں کی سب سے بڑی عید ہے دین اسلام کی بقا کی، ضمانت کی عید،رضایت الٰہی کے حصول کی عید،دین الٰہی کے پسندیدہ دین قرار دئیے جانے کی عید، غرض کہ ولایت امیر المومنین(ع) کی عید اس بابرکت دن کی عظمت وفضیلت قلم و زبان کی وسعتوں سے باہر ہے ہر عمل کا ثواب لاکھوں گنا ہے۔ اعمال غدیر میںزیارت امیر المومنین(ع)، دو رکعت نماز بہتر ہے ظہر سے نزدیک پڑھی جائے اس کے بعد شکر خدا کے لئے سجدہ بجا لائے جس میں سو مرتبہ شکراً ﷲ کہے اس کے بعد ان دعاؤں کا سلسلہ ہے جس کی ابتداء:’’اللھم انی اسئلک بان لک الحمد‘‘ سے ہوتی ہے۔ اس نماز کے پڑھنے والے کی تمام حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ نماز کی ساری تفصیل اقبال الاعمال ومفاتیح الجنان میں مذکور ہے۔
عید مباہلہ
دنیائے مسیحیت پر اسلام کی فتح کی عید ہے غدیر کی طرح اس دن بھی اعمال واوراد مذکور ہیں جن کا پڑھنا عظیم اجر وثواب کا حامل ہے اس مضمون کا مقصد صرف اس مہینہ کی عظمت واعمال کی طر ف متوجہ کرنا تھا ورنہ ساری تفصیل ادعیہ واعمال کی کتابوں میں موجود ہےجس کی طرف توجہ ان ایام کی برکتوں سے بہر مندی کا بہترین موقع ہے اور غفلت کی صورت میں سوائے پچھتاوے کے اور کچھ ہاتھ لگنے والا نہیں۔
خداوندعالم سب کو ان اعمال کے بجالانے اوران کی برکتوں سے بہرہ مند ہونے کی توفیق دے۔


تحریر:سید حمیدالحسن زیدی
    مدیر
الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین