لبنان میں آل سعود کی شرارتیں

لبنان کی القوات اللبنانیه پارٹی کے ایک رہنماکے ہاتھوں و ایندھن کی ذخیرہ اندوزی کا انکشاف ہونے کے کچھ ہی عرصے کے اندر اسی شخص کے ہاتھوں امونیم نائٹریٹ کا ذخیرہ ملا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے  کہ وہ بیروت کی بندرگاہ میں دھماکہ خیز مواد سے ملتا جلتا ہے۔

ولایت پورٹل:رواں مہینے کے شروع میں لبنان کی سکیورٹی فورسز نے زحلہ شہر میں38  ٹینکوں میں تقریبا 20 لاکھ لیٹر پٹرول ضبط کرنے کا اعلان کیا تھا  جس میں بعد کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ ذخیرہ اندوزی کا مرتکب سعودی عرب سے وابستہ جماعت القوات اللبنانیه کے رہنما ابراہیم الصقر کا بھائی مارون الصقر ہے۔
واضح رہے کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ لبنان کو ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں،دوسری طرف لبنان کے بعلبک شہر میں 20 ٹن امونیم نائٹریٹ پر مشتمل ایک ٹرک کو کل پکڑ کر محفوظ علاقوں میں لے جایا گیا۔اس حوالے سے لبنان ڈیبٹ نے اطلاع دی ہے کہ دریافت ہونے والا امونیم نائٹریٹ سعد اللہ الصلح نامی شخص کا ہے۔
الصلح نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا کہ اس نے کھیپ ریاض کے علاقے میں مارون اور ابراہیم الصقر فارمز سے حاصل کی،درایں اثنالبنانی صحافی غسان سعود نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سیکورٹی فورسز کو الصقر برادران کے قبضہ میں کچھ امونیم نائٹریٹ کا علم تھا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ضبط شدہ امونیم نائٹریٹ جس میں ایندھن کے تیل کی زیادہ مقدار ہے ، اسی امونیم نائٹریٹ سے ملتا جلتا ہے جس کی وجہ سے بیروت کی بندرگاہ پر دھماکہ ہوا،دوسری جانب مروان الصقر کے وکیل جورج الخوری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے موکل کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ان لوگوں کے خلاف مقدمہ کریں گے جنہوں نے اس کا دعویٰ کیا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین