Code : 2213 173 Hit

مؤمن کے صبر کا انداز

جب ہم اپنے معاشرے کے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں دو طرح کے افراد نظر آتے ہیں کچھ وہ مؤمنین ہیں کہ جن کی زندگی اسلام کے اصول و فروع کے محور پر آگے بڑھتی ہے اور وہ مشکلات کو عمیق اور معنٰی خیز نظر سے دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو چونکہ حکیم جانتے ہیں اسی لئے ہر مشکل کے مقابل یہ لوگ صبر کرتے ہیں اور ان مصیبتوں سے سبق لیتے ہیں اور انہیں اپنے لئے باعث عبرت سمجھتے ہیں تاکہ اپنی آخرت کا توشہ فراہم کرسکیں۔

ولایت پورٹل: صبر ایک نفسانی حالت ہے جس کے سبب انسان بڑی سے بڑی مشکل و مصیبت کے سامنے سینہ سپر ہوجاتا ہے۔(1) چنانچہ حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے:’’ وَالصَّبْرُ زِینَةُ الْبَلاءِ‘‘۔(2) صبر بلا و مصیبت کی زینت ہے۔یعنی مصیبتیں اور مشکلات اس مادی زندگی میں ناگزیر ہیں لہذا انسان کو اپنے وجود میں جوہر صبر کو پیدا کرنا چاہیئے تاکہ مصیبتوں اور مشکلات کے سامنے چٹان بن جائے اور صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرسکے۔
سورہ بقرہ کی 177 ویں آیت میں اللہ تعالیٰ نیک کام کرنے والوں کی کچھ خصوصیات بیان کررہا ہے:’’ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِینَ فِی الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِینَ الْبَأْسِ أُولَٰئِکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَأُولَٰئِکَ هُمُ الْمُتَّقُونَ‘‘۔(دراصل) نیک لوگ تو وہ ہوتے ہیں کہ جب کوئی عہد کر لیں تو اپنا عہد و پیمان پورا کرتے ہیں اور تنگ دستی ہو یا بیماری اور تکلیف ہو یا ہنگام جنگ ہو وہ بہرحال ثابت قدم رہتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو (سچے) ہیں اور یہی متقی و پرہیزگار ہیں۔
چنانچہ جب ہم اپنے معاشرے کے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں دو طرح کے افراد نظر آتے ہیں کچھ وہ مؤمنین ہیں کہ جن کی زندگی اسلام کے اصول و فروع کے محور پر آگے بڑھتی ہے اور وہ مشکلات کو عمیق اور معنٰی خیز نظر سے دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو چونکہ حکیم جانتے ہیں اسی لئے ہر مشکل کے مقابل یہ لوگ صبر کرتے ہیں اور ان مصیبتوں سے سبق لیتے ہیں اور انہیں اپنے لئے باعث عبرت سمجھتے ہیں تاکہ اپنی آخرت کا توشہ فراہم کرسکیں۔
لیکن وہ لوگ جن کی زندگی دین کی بنیاد پر استوار نہیں ہوتی وہ ہمیشہ اللہ سے بدگمان رہتے ہیں فقط انہیں مشکلات کا ظاہری پہلو( کہ جو بہت سخت اور گھناؤنا ہے) نظر آتا ہے اور انہیں ان کا باطن دکھائی نہیں دیتا لہذا وہ مصیبت سے کچھ سیکھنا نہیں چاہتے اور نہ ہی انہیں آخرت میں عبرت کا ذریعہ بناتے ہیں وہ مشکلات کو صرف اس لئے دور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے مادی سکون و آرام میں مُخل ہوگئی ہیں اور بس۔
چنانچہ جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے سورہ مؤمنون کی 75، 76 اور 77ویں آیات میں ارشاد ہوتا ہے:’’ وَلَوْ رَحِمْنَاهُمْ وَکَشَفْنَا مَا بِهِم مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّوا فِی طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُونَ . وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُونَ . حَتَّىٰ إِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِم بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیدٍ إِذَا هُمْ فِیهِ مُبْلِسُونَ‘‘۔
ترجمہ: اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جس تکلیف میں مبتلا ہیں وہ بھی دور کر دیں تو بھی یہ لوگ اپنی سرکشی میں اندھا دھند بڑھتے جائیں گے۔اور ہم نے انہیں سزا میں گرفتار بھی کیا مگر وہ پھر بھی اپنے پروردگار کے سامنے نہ جھکے اور نہ تضرع و زاری کی۔یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو وہ ایک دم ناامید ہو جائیں گے۔
جب انسان اپنے مال یا اولاد کو کھو دیتا ہے یا اس کے جسم کو کوئی نقصان ہوتا ہے وہ اداس ہوجاتا ہے اور اس کی طبیعت ملول ہوجاتی ہے۔ یہ ایک طبیعی امر ہے۔لیکن مصیبت و مشکل سے روبرو ہونے کا مؤمن و غیر مؤمن کا انداز الگ ہوتا ہے ۔مؤمن کا غم، دکھ و درد وقتی ہوتا ہے چونکہ اس کا دامن صبر سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور وہ خدا پر توکل کرتا ہے لیکن چونکہ کافر کا اللہ پر اعتقاد نہیں ہوتا تاکہ وہ صبر کرسکے اور اسے دنیا و آخرت میں اس کی بھرپائی کا خیال نہیں ہوتا اور نہ خدا انہیں اپنے خدا پر توکل نہیں ہوتا۔
صبر ایمان کا پیمانہ
مصیبت کے وقت صبر کرنے سے انسان کا یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ شخص کتنا با ایمان ہے چونکہ صبر کا ایمان سے گہرا رابطہ ہوتا ہے جیسا کہ حضرت امیر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:’’الصَّبْرُ مِنَ الْإِیمَانِ بِمَنْزِلَهِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، فَمَنْ لاصَبْرَ لَهُ لا إیمانَ لَهُ‘‘۔ایمان سے صبر کی وہی نسبت ہے جو جسم کی سر سے ہوتی ہے۔پس جس کے پاس صبر نہیں اس کے پاس ایمان نہیں ہوتا۔(3)
جس طرح انسان کی پہچان اس کے سر سے ہوتی ہے اسی طح ایمان کو صبر سے پہچانا جاتا ہے اگر انسان کے جسم سے سر غائب ہوجائے تو اسے پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے اسی طرح اگر کسی کے پاس صبر نہ ہو اس کے بارے میں یہ دریافت کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ صاحب ایمان ہے بھی کہ نہیں۔
اور اسی حقیقت کی طرف صادق آل محمد کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے:’’الصَّبْرُ مِنَ الْإِیمَانِ بِمَنْزِلَهِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، فإذا ذَهَبَ الرَّأسُ ذَهَبَ الجَسَدُ، کذلکَ إذا ذَهَبَ الصَّبْرُ ذَهَبَ الایمانُ"۔
پس ان مذکورہ روایات کی روشنی میں ایمان و صبر کے درمیان کیا رشتہ ہے یہ معلوم ہوگیا اور آخری حدیث نے تو بالکل واضح ہی کردیا کہ اگر صبر چلا گیا تو پھر ایمان بھی باقی نہیں بچے گا جس طرح سر کے چلے جانے کے بعد جسم کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ویسے ہی صبر کے رخصت ہوجانے کے بعد ایمان کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔
کن جگہوں پر صبر کرنا چاہیئے؟
چونکہ صبر کرنے کے مقامات اور جگہیں متفاوت و مختلف ہیں لہذا ہمیشہ انسان کو یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ بے صبری نہ کرے چونکہ صبر صرف مشکلات، یا جانی و مالی نقصان، مصیبت و بیماری ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ سرکار رسالتمآب(ص) کی حدیث کے تناظر میں صبر کرنے کے 3 مقامات ہوتے ہیں: مصیبت کے وقت صبر،اطاعت خداوند عالم کرتے وقت صبر اور گناہ سے بچتے وقت انسان کو صبر کی ضرورت پڑتی ہے۔
اور صبر کی سر سے تشبیہ ہمیں بہت سی چیزیں سوچنے پر وادار کررہی ہے کہ انسان کے اکثر حواس کا دار و مدار سر سے وابستہ ہے مثال کے طور پر آنکھیں جن سے انسان دیکھتا ہے وہ سر میں ہوتی ہیں ،کان جن سے انسان سنتا ہے وہ سر میں ہوتے ہیں ، زبان جس سے انسان اچھے برے ذائقہ کو چکھتا ہے وہ سر میں ہوتی ہے اور مغز جو تمام بدن کے اعضاء کا سردار ہوتا ہے لہذا اگر انسان کے بدن سے اس کا سر جدا ہوجائے تمام اعضائے بدن اپنا کام کرنا چھوڑ دیں گے پس صبر بھی ایمان کی بنسبت ایسے ہی جیسے جسم کی نسبت سر اگر انسان کے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ جائے نہ وہ مصیبتوں کے مقابل سینہ سپر رہ سکتا ، نہ گناہ کے مقابل صبر کرسکتا اور نہ ہی اطاعت خدا کے لئے صبر کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ پیام امام امیر المومنین(ع)، مکارم شیرازی، ناصر، ج۳، ص۲۴۰.
2۔ بحارالانوار، مجلسی، محمد تقی، مؤسسة الوفاء، ج۷۸، ص۸۰.
3۔ سابق حوالہ، ص۹۵.
4۔بحارالانوار، ج۸۲، ص۱۳۹.



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम