Code : 4735 20 Hit

آیت اللہ خامنہ ای کے بیان کی روشنی میں امامت کا مفہوم

شیعوں کی نظر میں امامت کے مفہوم کی بنا پر کسی معاشرے کا امام وہ بالاتر قوت کا مالک ہے جو اس معاشرے کی اجتماعی اور انفرادی حرکت کی وضاحت اور رہنمائی کرتا ہے اور ایک ہی وقت میں وہ دین و اخلاق کا معلم بھی ہوتا ہے اور ان کی روزمرہ کی زندگی اور جدوجہد کا فرمانروا بھی۔ اس بیان کی روشنی میں پیغمبر(ص) بھی امام ہیں کیونکہ وہ معاشرہ جس کی خود انہوں نے بنیاد رکھی اس کی فکری وسیاسی رہبری بھی ان کے ہاتھ میں تھی اور پیغمبر(ص)کے بعد بھی امت کو ایک امام کی ضرورت ہے تاکہ ان کا جانشین (خلیفہ) اور اُن کی ذمہ داریوں (جن میں سیاسی قیادت بھی شامل ہے) کو اٹھانے والا بن سکے۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ یہ جانشینی پیغمبر(ص) کی تصریح کے مطابق علی ابن ابی طالب(ع) اور ان کے بعد ان کے خاندان کے معصوم آئمہ(ع) کے لئے ہے۔

ولایت پورٹل: مکتب تشیع (جو کہ اپنے پیروکاروں کے لحاظ سے فکرِ اسلامی کا خالص ترین سلسلہ ہے) میں بھی امامت سے یہی معنی اخذ کئے جاتے تھے اور امامت کے بارے میں اس مکتب کے نظریہ کو اس طرح خلاصہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی معاشرے کا قائد اور حکمران خدا کی جانب سے معین ہونا اور پیغمبر کی طرف سے اس کاتعارف کرایا جاناچاہیئے اور اسے فکری رہنما، مفسر قرآن اور دین کے تمام رموز اور باریکیوں سے آگاہ ہوناچاہیے نیز اسے خَلقی وخُلقی اور سببی لحاظ سے ہر عیب و نقص سے مبرا اور پاک و معصوم ہوناچاہیے اور اس کی ولادت پاکیزہ خاندان میں ہونی چاہیۓ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ اور اس طرح سے امامت جو کہ پہلی اور دوسری صدی کے مسلمانوں کی نظر میں سیاسی رہبری کے معنی میں تھی، وہ شیعوں کے خاص نقطۂ نظر میں سیاسی رہبری کے علاوہ فکری و اخلاقی رہبری بھی اپنے مفہوم میں رکھتی تھی۔
جب شیعہ کسی کو امام کے طور پر جانتے تھے تو نہ صرف سیاسی و اجتماعی امور کے انتظام و انصرام بلکہ اس سے فکری رہنمائی، دینی تعلیم اور اخلاقی تزکیہ کی بھی توقع رکھتے تھے اور اگر یہ ذمہ داریاں اس کےلئے ممکن نہیں ہوتی تھیں تو اسے ’’برحق امام‘‘ نہیں سمجھتے تھے اور اچھا سیاسی نظم و ضبط، عسکری طاقت کا مظاہرہ، جنگ و جدل اور کشور کشائی (جو دوسروں کی نظر میں کافی معیارات شمار کئے جاتے تھے) شیعہ صرف ان ہی پر قناعت نہیں کرتے تھے۔
شیعوں کی نظر میں امامت کے مفہوم کی بنا پر کسی معاشرے کا امام وہ بالاتر قوت کا مالک ہے جو اس معاشرے کی اجتماعی اور انفرادی حرکت کی وضاحت اور رہنمائی کرتا ہے اور ایک ہی وقت میں وہ دین و اخلاق کا معلم بھی ہوتا ہے اور ان کی روزمرہ کی زندگی اور جدوجہد کا فرمانروا بھی۔ اس بیان کی روشنی میں پیغمبر(ص) بھی امام ہیں کیونکہ وہ معاشرہ جس کی خود انہوں نے بنیاد رکھی اس کی فکری وسیاسی رہبری بھی ان کے ہاتھ میں تھی اور پیغمبر(ص)کے بعد بھی امت کو ایک امام کی ضرورت ہے تاکہ ان کا جانشین (خلیفہ) اور اُن کی ذمہ داریوں (جن میں سیاسی قیادت بھی شامل ہے) کو اٹھانے والا بن سکے۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ یہ جانشینی پیغمبر(ص) کی تصریح کے مطابق علی ابن ابی طالب(ع) اور ان کے بعد ان کے خاندان کے معصوم آئمہ(ع) کے لئے ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین