Code : 2211 123 Hit

امام سجاد(ع)کے دور کی سب سے بڑی مشکل سربرآوردہ شخصیات کا مادی تمناؤں کے جال میں الجھا ہونا تھا: رہبر انقلاب

لہٰذا پوری دنیا شدید خوف و ہراس میں ڈوب گئی۔ صرف کوفہ تھوڑا بچا تھا وہ بھی توابین کی برکت سے اور بعد میں جناب مختار کی برکت سے، ورنہ یہ خوف و ہراس جو واقعۂ کربلا سے پیدا ہوا تھا وہ مدینہ اور عالم اسلام کی دوسری جگہوں پر(یہاں تک کہ مکہ میں بھی خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔ یہ فکری، اخلاقی اور سیاسی فساد بھی ایک دوسرا عامل تھا۔ اکثر سربرآوردہ لوگ مادی تمناؤں کے جال میں الجھے ہوئے تھے، ان کی خواہشیں اور ضرورتیں حکومت کے کارندوں کے ذریعہ پوری ہوتی تھیں۔

ولایت پورٹل: امام زین العابدین علیہ السلام کے دور کا نہایت ہی سختی و دشواری کے ساتھ آغاز ہوتا ہے، واقعۂ عاشورہ سے ارکان شیعہ (بلکہ پورے عالم اسلام) میں ایک تزلزل پیدا ہوگیا تھا، انہیں قتل کیا جاتا، ان کا تعاقب کیا جاتا انہیں ظلم و شکنجہ کا شکار بنایا جاتاتھا لیکن فرزند رسول(ص) کو قتل کرنا، آل رسول(ص) کو اسیر کرکے شہر بہ شہر پھرانا جگر گوشۂ بتول کا سر نیزہ پر چڑھانا (سنگدلی کی انتہا تھی) حالانکہ (اس وقت تک ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے رسول(ص) کو امام حسین(ع) کے دہن کو چومتے دیکھا تھا) یہ ایسی چیز تھی جس سے دنیائے اسلام مبہوت ہو کے رہ گئی تھی، کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ نوبت آگئی ہے۔ اگر یہ شعر جو کہ جناب زینب کی طرف منسوب ہے صحیح ہے:
                                                                      مَا تَوَہَمْتُ یا شَقِیْقَ فُؤَادِی
                                                                        کَانَ ھٰذَا مُقَدَّراً مَکْتُوبًا
تو اسی بات کی طرف اشارہ ہے اور سارے لوگوں کا یہی خیال ہے۔ اچانک لوگوں کو یہ محسوس ہوا کہ سیاست کچھ اور ہی ہے، ظلم و ستم خیال و تصور سے کہیں زیادہ ہے۔
جن مصائب و آلام کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا وہ متصور ہوگئے اور وجود میں آگئے۔ لہٰذا پوری دنیا شدید خوف و ہراس میں ڈوب گئی۔ صرف کوفہ تھوڑا بچا تھا وہ بھی توابین کی برکت سے اور بعد میں جناب مختار کی برکت سے، ورنہ یہ خوف و ہراس جو واقعۂ کربلا سے پیدا ہوا تھا وہ مدینہ اور عالم اسلام کی دوسری جگہوں پر(یہاں تک کہ مکہ میں بھی خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔ جہاں چند دنوں کے بعد عبداللہ بن زبیر نے قیام کیا) یہ فکری، اخلاقی اور سیاسی فساد بھی ایک دوسرا عامل تھا۔ اکثر سربرآوردہ لوگ مادی تمناؤں کے جال میں الجھے ہوئے تھے، ان کی خواہشیں اور ضرورتیں حکومت کے کارندوں کے ذریعہ پوری ہوتی تھیں۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम