لبنانی کابینہ تشکیل نہ پانے کی بنیادی وجہ آل سعود کی مداخلت ہے؛النشرہ کی رپورٹ

متعدد لبنانی ذرائع ابلاغ اس ملک کی کابینہ کی تشکیل نہ ہونے  میں سعودی عرب کے منفی کردارکو بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔

ولایت پورٹل:النشرہ نیوز چینل کی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ بہت سارے لبنانی مبصرین یہ انتظار کر رہے کہ ٹرمپ کی جگہ امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے سے لبنانی کابینہ تشکیل دینے کے عمل پر کیا اثر پڑے گا؟النشرہ کے مطابق  سعودی عرب نے لبنان کو ایک منفی پیغام دیا ہے جیسا کہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ  لبنان  سیاسی اصلاحات اور حزب اللہ سے اسلحہ لیے بغیر ترقی نہیں کر سکے گا،مذکورہ سائٹ کے مطابق ، اس پیغام کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ لبنانی کابینہ کے تشکیل دینے والے امیدوار سعد الحریری کے ریاض کے ساتھ سیاسی تعلقات ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
رپورٹ کے مطابق  ریاض کابینہ کے قیام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرسکتا ہے، تاہم ، کچھ جماعتیں کابینہ کی تشکیل کے بحران کو حل کرنے کے منصوبے پیش کرتی ہیں نیز یقینا  متحدہ عرب امارات کے سفر کے بعد ، الحریری نے آنے والے دنوں میں عرب ممالک کی ضمانت کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے ،ذرائع کا کہنا ہے  کہ لبنان میں متعدد داخلی منصوبے پیش کردیئے گئے ہیں ، جن میں سب سے اہم لبنان کے پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل عباس ابراہیم کامنصوبہ ہےجنہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ لبنانی کابینہ کے قیام کے لئے غیر ملکی حالات سازگار ہیں۔
ذرائع کے مطابق  اگر لبنانی کابینہ کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹیں داخلی ہوتی تو یہ منصوبہ کئی دیگر داخلی منصوبوں کے ساتھ ہی اس بحران کو حل کرسکتا تھا ، لیکن ریاض کا منفی پیغام بھی ایک رکاوٹ ہے، تاہم نئی امریکی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس خطے کی عمومی نوعیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین