Code : 1111 61 Hit

حضرت امام حسین(ع) سے رسول اللہ(ص) کی محبت

پیغمبرِ اسلام (ص)کی گود میں جو اسلام کی تربیت کا گہوارہ تھی اب دن بھر دو بچّوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسن دوسرے حسین اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہے تھے۔ ایک طرف پیغمبرِ اسلام(ص) جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے تیسری طرف فاطمہ زہرا(س) جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس نورانی ماحول میں حسین کی پرورش ہوئی۔

ولایت پورٹل: حضرت امام حسین علیہ السلام پیغمبر اکرم(ص) کے چھوٹے نواسے اور علی بن ابی طالب و فاطمہ زہرا(ع) کے چھوٹے بیٹے تھے۔ آپ کی کنیت ابو عبد اللہ ہے۔ آپ کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے:’’حسین منی و انا من الحسین‘‘۔ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں(1)
ہجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان پنجشنبہ کے دن آپ کی ولادت ہوئی۔ اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالت مآب(ص) تشریف لائے، بیٹے کو گود میں لیا، داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منھ میں دے دی۔ پیغمبر کا مقدس لعاب دہن حسین علیہ السّلام کی غذا بنا۔ ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔ آپ کی پیدائش سے تمام خاندان میں خوشی اور مسرت کی لہر تھی ، مگر آنے والے حالات کا علم پیغمبر کو تھا، اس لئے آپ کی آنکھوں میں آنسو برسنے لگے۔ اور اسی وقت سے حسین کے مصائب کا چرچا اہلیبت رسول(ص) کی زبانوں پر آنے لگا۔(2)
پیغمبرِ اسلام (ص)کی گود میں جو اسلام کی تربیت کا گہوارہ تھی اب دن بھر دو بچّوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسن دوسرے حسین اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہے تھے۔ ایک طرف پیغمبرِ اسلام(ص) جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے تیسری طرف فاطمہ زہرا(س) جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس نورانی ماحول میں حسین کی پرورش ہوئی۔
رسول کی محبت
سرکار رسالتمآب(ص) اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے۔ سینہ پر بیٹھاتے تھے۔ کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تأکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو۔ مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ خاص امتیاز رکھتے تھے۔ ایسا ہوا ہے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسین پشت مبارک پر آگئے تو سجدہ میں طول دیا۔ یہاں تک کہ بچہ خود سے بخوشی پشت  سے اتر گیا۔ اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حسین مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول اکرم(ص) نے اپنا خطبہ قطع کر دیا منبر سے اتر کر بچے کو زمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ:’’دیکھو یہ حسین ہے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو‘‘۔ رسول اللہ(ص)نے  امام حسین(ع) کے لئے یہ الفاظ بھی خاص طور سے فرمائے تھے کہ:’’حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں‘‘۔ مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دُنیا میں حسین کی بدولت قائم رہے گا۔
انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ص) سے عرض کی:’’ أی اھل بیتک أحب الیک؟ فقال :الحسن والحسین ‘‘۔ کہ آپ کی اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ(ص) نے فرمایا حسن اور حسین اور آپ(ص) عائشہ سے کہا کرتے تھے کہ میرے بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ اور آپ(ص) حسنین کریمین کو سونگھتے اور اُن کو سینے سے لگا لیتے تھے۔(3)
أنس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:’’حسین منی وأنا من حسین ، أحب اللّٰہ من أحب حسینا، حسین سبط من الأسباط ‘‘۔ حسین مجھے سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو شخص حسین سے محبت کرے اللہ تعالی اس کے ساتھ محبت فرمائے، حسین میری اولاد میں سے میرے ایک بیٹے ہیں۔
براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم(ص) نے حسنین کریمین(ع) کو دیکھا اور فرمایا:’’اللّٰہم انی احبھمافأحبھما‘‘۔ اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔(4)
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:’’من أحبھما فقد أحبنی ومن أبغضھما فقد أبغضنی‘‘۔ جس نے ان دونوں سے محبت کی پس تحقیق اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا بتحقیق اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم(ص) نماز پڑھ رہے تھے جب آپ(ص) سجدہ کے لے تشریف لے جاتے تو حسن وحسین آپ کے کندھے پر چڑھ جاتے جب صحابہ کرام نے ارادہ کہ ان کو منع کریں تو نبی اکرم(ص) نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ ان دونوں کو چھوڑ دو پس جب نبی اکرم(ص) نماز سے فارغ ہوئے تو آپ  نے ان دونوں کو گود میں اُٹھا لیا اور فرمایا:’’من أحبنی فلیحب ھذین‘‘۔جو مجھے سے محبت کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ ان دونوں سے محبت کرے۔(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:
۱۔کنز العمال جلد 6 صفحہ 223
۲۔سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:122
۳۔سنن الترمذی، أبواب المناقب، باب مناقب أبی محمدالحسن بن علی، ج:6، ص:123
۴۔ سنن النسائی ، کتاب الفضائل ، مناقب الحسن والحسین ، ج:7، ص:317
۵۔ سنن النسائی ، کتاب الفضائل ، مناقب الحسن والحسین ، ج:7، ص:317


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम