Code : 2965 152 Hit

لفظ شیعہ کے لغوی معنیٰ

مذکورہ عبارتوں میں غور کرنے سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ لغت کے اعتبار سے لفظ شیعہ کے تین معنی ہیں اور ان تین معانی میں سے کوئی ایک معنی ضرور مراد ہوتے ہیں ۔ ۱۔اطاعت و پیروی ۲، نصرت و مدد، ۳۔اجتماع و موافقت ۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! لفظ ’’شیعہ ‘‘عربی لغت میں کسی فرد یا افراد کی دوسرے فرد یا افراد کے اتباع اور پیروی کرنے، کسی کی نصرت و حمایت کرنے، نیزقول یا فعل میں موافقت و مطابقت کے معنی میں ہے ۔ ذیل میں چند معروف لغات  کے اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں۔
۱۔القاموس :’’شیعۃ الرجل اتباعہ و انصارہ ، الفرقۃ علی حدۃ و یقع علی الواحد و الاثنین و الجمع و المذکر و المونث‘‘۔(۱)کسی شخص کے شیعہ اس کے پیرو اور مددگار ہوتے ہیں۔ ایک فرقہ پر بھی شیعہ کا اطلاق ہوتا ہے یہ لفظ واحد ، تثینہ ، جمع ، مذکر ، مونث سب کے لئے ایک ہی صور ت میں استعمال ہوتا ہے۔
۲۔لسان العرب :’’الشیعہ : القوم الذین یجتمعون علی الامر و کل قوم اجتمعوا علی امر فھم شیعہ ، و کل قوم امرھم واحد یتبع بعضھم رای بعض فھم شیعۃ‘‘۔(۲)
شیعہ وہ گروہ ہے جو کسی امر پر مجتمع ہو ، جو گروہ کسی امر پر اجتماع کرے وہ شیعہ ہے ، ہر وہ گروہ جو ایک امر پر متفق ہو اور ان میں سے بعض ،بعض کی پیروی کرے وہ شیعہ ہے۔
۳۔معجم المقائیس:’’الشین و الیاء و العین اصلان یدل احدھما علی المعاضدۃ و مساعفۃ و الی آخر علی بث و اشادۃ و الشیعۃ الانصار و الاعوان‘‘۔(۳)ش، ی، ع، اس کی لغتاً دو اصل ہیں ۔ ایک اصل نصرت و امداد پر دلالت کرتی ہے اور دوسری نشر و پراکندہ ہونے پر ۔۔۔شیعہ یعنی مددگار ، اعوان و انصار۔
۴۔المصباح المنیر :’’الشیعہ: الاتباع و الانصار ، و کل قوم اجتمعوا علی امر فھم شیعۃ‘‘۔(۴)شیعہ پیرو اور انصار کو کہا جاتا ہے جو گروہ بھی کسی بات پر اتفاق کرے وہ شیعہ ہے ۔
۵۔اقرب الموارد:’’شیعۃ الرجل اتباعہ و انصارہ ، شیع و اشیاع ‘‘۔(۵)کسی شخص کے شیعہ اس کے پیرو اور مددگار ہیں ، شیعہ کی جمع شِیَعْ اور اشیاع ہے۔(۶)
۶۔النہایۃ : ’’اصلھا من المشایعۃ و ھی المتابعۃ و المطاوعہ‘‘(۷)شیعہ کی اصل مشایعت ہے یعنی دوسرے کی پیروی کرنا۔
مذکورہ عبارتوں میں غور کرنے سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ لغت کے اعتبار سے لفظ شیعہ کے تین معنی ہیں اور ان تین معانی میںسے کوئی ایک معنی ضرور مراد ہوتے ہیں ۔ ۱۔اطاعت و پیروی ۲، نصرت و مدد، ۳۔اجتماع و موافقت ۔
قرآن کریم میں لفظ شیعہ یا اس کے مشتقات (شیع ، اشیاع)اپنے لغوی معنی میں ہی استعمال  ہوئے ہیں یعنی ایسا گروہ جو ایک بات پر متفق ہو ، کسی خاص مذہب و مکتب کی پیروی کرنا ، بعض کا بعض کی پیروی کرنا، جیسے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو جو قبطی سے جھگڑ اکررہا تھا قرآن نے اسے موسیٰ کا شیعہ کہا ہے:{فَوَجَدَ فِیہَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلاَنِ ہَذَا مِنْ شِیعَتِہِ}’’انھوںنے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوںمیں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے ‘‘(۸)
مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک بنی اسرائیل اور دوسرا قبطی تھا اس لئے کہ بنی اسرائیل خود کو ابراہیم، یعقوب اور اسحاق کا پیرو سمجھتے تھے اگرچہ ان انبیاء کرام کی شریعت میں تبدیلیاں آچکی تھیں لیکن ان انبیاء کا پیرو ہونے کی بنیاد پر بنی اسرائیل کے شخص کو موسیٰ کا شیعہ کہا گیا یعنی اس دین و شریعت کا پیرو جس دین پر حضرت موسیٰ تھے ۔(۹)
اسی طرح حضرت ابراہیم کے بارے میں اعلان ہوتا ہے{ وَإِنَّ مِنْ شِیعَتِہِ لَإِبْرَاہِیمَ} ’’نوح کے شیعوں میں سے ایک ابراہیم تھے‘‘(۱۰)
مراد یہ ہے کہ توحید ، عدل اور حق کی پیروی کے سلسلہ میں حضرت ابراہیم کی وہی راہ و روش تھی جو راہ و ہیروش حضرت نوح کی تھی ۔(۱۱)اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایک دوسرے کی پیروی کرتے تھے کہ ایک امام و رہبر اور دوسرا ماموم و پیرو ہو بلکہ یہاں پر مراد راہ و روش اور دین میں اتحاد و ہم آہنگی ہے اسی لئے اس میں زمانہ کے تقدم و تاخر کا کوئی دخل نہیں ہے ۔(۱۲)چنانچہ قرآن مجید کبھی سابقین کو متاخرین کا شیعہ کہتا ہے    { وَحِیلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَہُونَ کَمَا فُعِلَ بِأَشْیَاعِہِمْ مِنْ قَبْل}’’اور ان کے اور ان چیزوں کے درمیان جن کی یہ خود خواہشیں رکھتے تھے پردے حائل کر دئے گئے ہیں جس طرح ان کے پہلے والوں کے  ساتھ کیا گیا تھا‘‘۔(۱۳)  
اس آیۂ کریمہ میں گذشتہ امتوں کے کفار کو عہد رسالت کے کفار کا شیعہ کہا گیا ہے مقصود یہ ہے کہ دونوں کفر و الحاد میں متحد و متفق اور ایک دوسرے کے مانند ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔القاموس المحیط ج۳، ص۴۷،کلمۂ’’شَاعَ‘‘
۲۔لسان العرب ج۱، ص۵۵، کلمہ’’شَیَعَ‘‘
۳۔معجم المقائیس اللغۃ ص ۵۴۵، کلمۂ’’شَیَعَ‘‘
۴۔المصباح المنیر ج۱، ص۳۹۸
۵۔اقرب الموارد ج، ۱ ، ص۶۲۶
۶۔المصباح المنیر میں فیومی کا قول ہے اشیاع ، شیع کی جمع ہے اس طرح اشیاع جمع الجمع ہے
۷۔ابن الاثیر ، النہایۃ ، ج۲، ص۵۱۹
۸۔قصص/۱۵
۹۔المیزان ، ص/۱۶،۱۷
۱۰۔صافات/۸۳
۱۱۔ ’’یعنی انہ علی منہاج و سنۃ فی التوحید و العدل و اتباع الحق‘‘، مجمع البیان ج۴، ص۴۴۹
۱۲۔’’کل من وافق غیرہ فی طریقتہ فھو من شیعتہ تقدم او تاخر‘‘المیزان ج۱۷، ص۱۴۷
۱۳۔سبا: ۵۴۔





0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम