Code : 2230 101 Hit

سطح سمندر تیزی سے بلند ہو رہی ہے؛عالمی محکمہ موسمیات کی تحقیق

موسمیات کے عالمی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق سن 2014 سے لے کر سن 2019 تک کا پانچ سالہ عرصہ ریکارڈ کے اعتبار سے سب سے گرم تھا۔اسی مدت کے دوران سطح سمندر کے اضافے میں نمایاں طور پر تیزی آئی ہے کیونکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں کو فوری طور پر تیز کرنا ہوگا۔

ولایت پورٹل: نیویارک میں اقوام متحدہ کے اہم مذاکرات سے قبل آب و ہوا میں تبدیلیوں پر شائع ہونے والی تازہ ترین تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عالمی حدت کی علامات اور اثرات تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔
موسمیات کے عالمی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق سن 2014 سے لے کر سن 2019 تک کا پانچ سالہ عرصہ ریکارڈ کے اعتبار سے سب سے گرم تھا۔اسی مدت کے دوران سطح سمندر کے اضافے میں نمایاں طور پر تیزی آئی ہے کیونکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں کو فوری طور پر تیز کرنا ہوگا۔
یہ بیان حالیہ برسوں میں عالمی حدت میں بے مثال اضافے کی وجوہات اور اثرات پر ہونے والی تازہ ترین سائنسی تحقیق کا مجموعہ ہے۔
تحقیق میں تسلیم کیا گیا کہ سن 1850 کے بعد سے عالمی درجۂ حرارت میں 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے اور وہ سن 2011 سے 2015 کے درمیان 0.2 سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا ہے۔
سب سے پریشان کن اعداد و شمار شاید سطح سمندر میں اضافے کے ہیں۔
سن 1993 کے بعد سے اب تک اضافے کی اوسط شرح ہر سال 3.2 ملی میٹر ہے۔ تاہم مئی سن 2014 سے 2019 تک یہ اضافہ ہر سال پانچ ملی میٹر تک بڑھ گیا ہے۔ سن 2007 سے 2016 کے دس برسوں کی مدت میں یہ اضافہ اوسطاً ہر سال چار ملی میٹر کے حساب سے دیکھا گیا ہے۔
ڈبلیو ایم او کے سیکریٹری جنرل پیٹیری تالاس کہتے ہیں:’’سطح سمندر کا اضافہ تیز ہوا ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ انٹارکٹک اور گرین لینڈ کی برف کی تہوں میں اچانک کمی مستقبل میں سمندر کی سطح کو تیزی سے اونچا کر دے گی۔جیسا کہ ہم نے رواں برس اس کے تباہ کن اثرات بہاماس اور موزمبیق میں دیکھے کہ اس سے سطح سمندر میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے ٹراپیکل طوفان آئے جو انسانی المیے اور معاشی تباہی کا باعث بنے‘‘۔
اس تحقیق میں سمندروں کو لاحق خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلیوں کے باعث حدت میں ہونے والے اضافے کا 90 فیصد سمندروں میں جاتا ہے۔ ڈبلیو ایم او کے تجزیے کے مطابق سن 2018 میں ریکارڈ کی گئی سمندری حدت ماضی کے اعداد و شمار کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
اس تحقیق میں اس حقیقت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ آپ جہاں بھی نظر ڈالتے ہیں، ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ آب و ہوا پر ہونے والے اثرات انسانوں کی اپنی وجہ سے ہوئے ہیں اس کی بڑی مثال شدید موسم ہیں جن کی وجہ سے گرمی کی لہروں اور جنگل میں آگ لگنے جیسے واقعات میں اضافہ ہونا ہے۔
امپیریل کالج لندن کے گرانتھم انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین اور یونیورسٹی آف ریڈنگ میں محکمۂ موسمیات کے پروفیسر برائن ہاسکنز کا کہنا ہے کہ:’’ہماری وجہ سے موسمیاتی تبدیلی تیز ہو رہی ہے جو ایک انتہائی خطرناک راستہ ہے۔ہمیں سکول کے بچوں کی جانب سے آنے والی تیز آوازیں سننی چاہیئے۔
یہ ایک ہنگامی صورت حال ہے جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور مکمل خاتمے اور آب و ہوا میں ناگزیر تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے فوری اقدامات کی متقاضی ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम