Code : 4831 26 Hit

اللہ کی معرفت کا سبق

اگر ہم چشم بصیرت سے غور وفکرکے ساتھ دیکھیں تو خداوند عالم کے علم و حکمت کی نشانیاں ہمیں کائنات میں ہر جگہ نظر آتی ہیں، ہم اسے پہچانتے ہیں، دل سے اسے چاہتے ہیں، اور اس کی قدرت و عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اس کے الطاف اور بے شمار نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اس کی مقدس محبت ہمارے وجود کے ہر حصہ میں پیوست ہے، ہم صرف اسی کو عبادت و دعا کے لائق سمجھتے ہیں اور صرف اور صرف اسی کے حکم کو مانتے ہیں اور اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل: ہمارے سامنے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں: کیا آنکھ کو اپنی اہمیت اور باریکی کی خبر تھی؟ جو اس نے آنکھ کے گڑھے کو امن و امان کی جگہ سمجھ کر اپنے لئے منتخب کیا ہے؟ یا وہ اتفاقیہ طور پراس پرامن جگہ پر آگئی ہے؟ یا کسی دوسرے نے اس کے لئے ایسی پر امن جگہ بنائی ہے؟
کیا خود آنکھ، پسینہ کو اپنے اندر آنے سے روکتی ہے؟ اپنے اوپر ا ٓبرو (Eye brow) ناتی ہے؟ یا یہ کہ ابرووں کو اس کی ضرورت کی خبر تھی اس لئے وہ خود اس کی مددکے لئے آگئی ہیں؟ یا کسی دوسرے شخص نے ابرووں کو آنکھ کے اوپر بنادیا ہے؟
کیا پلکیں اتفاقیہ طور سے آنکھوں کی حفاظت اور انہیں نرم رکھنے اور دھونے کے لئے یونہی بن گئی ہیں؟ کیا پلکوں کو آنکھوں کی صحت کی ضرورت تھی کہ جو وہ آنکھ کے ڈھیلے پر چربی ملتی رہتی ہیں اور اپنی تیز حرکت سے آنکھ کو دھوتی رہتی ہیں، یا یہ کہ کسی خالق علیم و قدیر نے انہیں اس انداز سے ڈھالا ہے؟
کیا آنسووں کا غدہ (Lacrimalglands)آنکھ کے کونے میں اچانک پیدا ہوگیا؟ اس جراثیم کش (بیکٹیریا کے قاتل) سیال کامرکب کس نے تیار کیا ہے؟ کیا آنسووں کے غدودکو یہ معلوم تھا کہ آنکھ کے بیکٹیریا کو مارنے کے لئے انہیں نمکین پانی کی ضرورت ہے؟ کیا آنکھ کے گوشہ کا سوراخ (DACRIOSIST) (جس سے اضافی آنسو باہر نکل جاتے ہیں) اتفاقاً بن گیا ہے یا خود آنکھ نے اس سوراخ کو بنایا ہے؟ کیا آنکھ کو ناک اور سانس کے سسٹم میں رطوبت کی ضرورت کی خبر تھی کہ جس کی وجہ سے وہ اپنی ضرورت سے زیادہ آنسووں کو ناک کی طرف منتقل کردیتی ہے؟ یا یہ کہ خدائے علیم و قدیر نے ان سب کو بنایا ہے؟
کیا پلکوں میں چربی نکلنے کے سوراخ خود بخود اور اچانک پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ کہ آنکھ کو چونکہ ان کی ضرورت تھی اس لئے اس نیخود انہیں بنایا ہے؟ کیا پلکوں کو یہ خبر تھی کہ اس طرح چربی چھوڑنے سے وہ آنکھ کی صحت مندی میں کتنا اہم کردار ادا کررہی ہیں؟یا آنکھ اور پلکوں کے ماہیچے اس عجیب و غریب انداز میں خود بخود اور اتفاقی طور پر پیدا ہوگئے؟ یا ان کو آنکھ نے بنایا ہے، یا کسی دوسرے نے ان کو اس انداز سے بنایا ہے؟
کیا بینائی کے اعصاب اپنی تمام ظرافتوں اور باریکیوںکے ساتھ خود بخود آنکھ کو دماغ میں موجود بصارت کے مرکز سے جوڑ دیتے ہیں؟ یا یہ کہ کسی صاحب علم ہستی نے انہیں جوڑا ہے۔
ایک جملہ میں یہ کہ یہ منظم و مرتب مجموعہ جس کے تمام اعضا آپس میںایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں سب کا ایک مقصد (دیکھنا) ہے کیا یہ اتفاقاً اور اچانک پیدا ہوسکتے ہیں؟
جی ہاں! ہر صاحب عقل انسان یہ جواب دے گا کہ ایسے منظم و مرتب مجموعے ( جس میں سینکڑوں قانون اور ہزاروں باریکیاں اور عجائبات پائے جاتے ہیں) کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے کہ یہ اتفاقی طور پر اور اچانک خود بخود پیدا ہوگیا ہے، بیشک اس کو کسی جاننے والے اور صاحب قدرت نے بنایا ہے۔
صحیح جواب بھی یہی ہے، جب ہم آنکھ کی پیچیدہ عمارت کو دیکھتے ہیں اور جب آنکھ سے اس کے فرعی اعضا کے رابطہ اور ان سب کا دماغ سے رابطہ اور ان اجزا کا پورے بدن سے رابطہ اور پورے بدن کا اس کائنات سے رابطہ کا انداز دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ پوری دنیا ایک منظم اکائی(Unit) کی طرح مربوط اورجڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس میں نظم ہی نظم ہے او رہمیں اچھی طرح یہ دکھائی دیتا ہے کہ اس دنیا کو ایک عظیم خالق نے بنایا ہے جو علیم و قدیر ہے اور وہی اس کے نظام کو چلا رہا ہے۔
اگر ہم چشم بصیرت سے غور وفکرکے ساتھ دیکھیں تو خداوند عالم کے علم و حکمت کی نشانیاں ہمیں کائنات میں ہر جگہ نظر آتی ہیں، ہم اسے پہچانتے ہیں، دل سے اسے چاہتے ہیں، اور اس کی قدرت و عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اس کے الطاف اور بے شمار نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اس کی مقدس محبت ہمارے وجود کے ہر حصہ میں پیوست ہے، ہم صرف اسی کو عبادت و دعا کے لائق سمجھتے ہیں اور صرف اور صرف اسی کے حکم کو مانتے ہیں اور اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین