دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ

21 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ کی پٹی 15 سال سے صیہونی حکومت کی زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی کی زد میں ہے۔

ولایت پورٹل:الجزیرہ چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2.1 ملین آبادی پر مشتمل غزہ کی پٹی 15 سال سے صیہونی حکومت کی زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی کی زد میں ہے، چند روز قبل صیہونی حکومت اور فلسطینی جہاد اسلامی تحریک کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں غزہ پر غاصب بیت المقدس حکومت کی 3 روزہ بمباری ختم ہوئی تھی، اس جارحیت کے نتیجے میں اب تک 15 فلسطینی بچوں سمیت 46 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور کم از کم 350 شہری زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ گذشتہ جمعے سے صیہونی جارحیت کے آغاز کے بعد سے اس حکومت نے غزہ پر شدید بمباری کی ہے، عمارتوں کو زمین بوس کیا ہے اور پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بھی بمباری کی ، ان جارحیتوں کے جواب میں جہاد اسلامی نے مقبوضہ علاقوں میں تقریباً ایک ہزار راکٹ داغے اور بالآخر صیہونی حکومت کی جانب سے اس تحریک کی شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی قائم ہوئی۔
 رپورٹ کے مطابق 2008 سے صیہونی حکومت نے فلسطینی علاقوں میں چار جنگیں کیں جن میں ہزاروں افراد جن میں زیادہ تر عام شہری تھے شہید ہوئے، مئی 2021 میں غزہ پر ہونے والے چوتھے حملے میں اقوام متحدہ کے مطابق 67 بچوں سمیت کم از کم 261 افراد شہید اور 2200 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، اس 11 روزہ حملے میں یروشلم کی قابض حکومت نے کم از کم 51 تعلیمی مراکز کو نقصان پہنچایا، جن میں 46 اسکول ، اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین(UNRWA) کے تعلیمی مرکز اور غزہ میں اسلامی یونیورسٹی کے کچھ حصے شامل ہیں۔
ادھر صیہونی حکومت اور مصر دونوں نے اپنی سرحدیں بڑی حد تک بند کر رکھی ہیں اور غزہ کی پٹی میں ابتر معاشی اور انسانی صورت حال کے مزید بگاڑ کے ذمہ دار ہیں جبکہ غزہ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تباہی اور بے پناہ انسانی مصائب کا منظر بن گیا ہے اور اسے اب بھی اکثر "دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل" کہا جاتا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین