Code : 2901 89 Hit

جنرل قاسم سلیمانی کا قتل جنگی جرم تھا: یورپی پارلیمنٹ کے سابق ممبر

یورپی پارلیمنٹ کے سابق ممبرنےجنرل سلیمانی کے قتل کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سامراج اپنی اس کاروائی سے ایران کو صرف ایک دھچکا نہیں بلکہ مزاحمتی تحریک کی مکمل تباہی کی تلاش میں ہے۔

ولایت پورٹل:ایک ماہ قبل یورپی پارلیمنٹ میں اپنی رکنیت ختم کرنے والے جیویر کوسو نےلبنانی چینل المیادین کو دیے جانے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا  ہے کہ سامراج  نے  قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو شہید کرکے پورے خطے میں مزاحمت کو ختم کرنے کی کوشش کی  ہے  نہ  کہ صرف ایران کو ایک دھچکا لگانے کی۔
یورپی یونین کے سابقہ خارجہ تعلقات کمیٹی کے نائب صدر نے اس سلسلہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیمانی کا قتل "واضح جنگی جرم" تھا۔
کوسو نے مزید کہا کہ جو حادثہ پیش آیا اس میں ایک  ملک کے فوجی کمانڈر کھلے عام حملہ کیا گیا تھا  اور انھیں عراق میں غدارانہ طور پر قتل کیا گیا تھا۔
حملہ کرنے والے جانتے تھے کہ وہ یہ شخص عراق میں ہماری سرخ لکیریں عبور کرکے کاروائیں انجام دے سکتے ہیں ۔
انہوں نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا جو دہشت گردی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔
انہوں نے اس سلسلہ میں مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سلیمانی دہشت گردی سے دوچار اقوام کی ایک پیاری شخصیت تھےاور وہ دہشت گردی کے ابتدائی اوقات میں شام کی حمایت کرنے والے پہلے شخص تھے۔
یورپی پارلیمنٹ کے سابق ممبرنےمزید کہا کہ ہم ایک بڑی جنگ کے دہانے پر تھے اور ہمیں ایران کو اپنے اوپر قابو کرنے اور انتظار کرنے کے قابل ہونے پر مبارکباد پیش کرنا چاہیے کہ  اس نے ایک ملی میٹر حملہ کیا ، یہ ایسا حملہ تھا جو ایک انتباہ تھا ۔
ایران نے عملی طور پر  ثابت کردیا ہے کہ اس نے امریکی غاصبوں کو دنیا کے اس حصے سے نکالنے کی ایک طویل المدتی پالیسی تیار کر رکھی ہے۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین