Code : 3514 27 Hit

مسئلہ فلسطین دنیائے اسلام کا ناقابل فراموش مسئلہ ہے؛رہبر معظم کا یوم قدس کی مناسبت سے خطاب

رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے یوم قدس کی مناسبت سے ٹی وی پر اپنے براہ راست خطاب میں فرمایا: مسئلہ فلسطین دنیائے اسلام کا اہم اور ناقابل فراموش مسئلہ ہے اور اسرائیلی وائرس کا علاقہ کے مؤمن جوانوں کی ہمت سے خاتمہ ہوجائے گا۔

ولایت پورٹل:رہبر معظم آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے خطاب کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
بسم‌اللّه‌الرّحمن‌الرّحیم
و الحمد للّه ربّ العالمین و صلّی اللّه علی محمّد و آله الطّاهرین و صحبه المنتجبین و من تبعهم باحسان الی یوم الدّین
میں دنیا بھر میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں رمضان المبارک میں ان کی عبادات کے قبول ہونے کی دعا کرتا ہوں۔ عید سعید فطر کی آمد سے قبل مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس مہینہ میں اللہ تعالی کی ضيافت میں حضور کے سلسلے میں پروردگار کا سپاس اور شکر ادا کرتا ہوں۔
آج یوم قدس ہے یہ وہ دن ہے جسے حضرت امام خمینی (رہ) نے مدبرانہ حکمت عملی کے ذریعہ  فلسطینیوں اور بیت المقدس کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ اظہاریکجہتی اور ہم آواز ہونے کے لئے مقرر کیا۔؛ گذشتہ چند عشروں میں اس نے اپنا کردار ادا کیا اور آئندہ بھی کرےگا۔ ان شاء اللہ ، اقوام عالم نے یوم قدس کا شاندار استقبال کیا اور فلسطین کی آزادی کے پرچم کو ایک واجب کام کی طرح بلند رکھنے کا عزم کیا۔ سامراجی طاقتوں کی پالیسی مسلمانوں کے اذہان  میں مسئلہ فلسطین کو کمزور بنانے اور فراموش کرنے پر استوار تھی۔ سب سے اہم ذمہ د اری اس خيانت کا مقابلہ کرنا ہے۔ سامراجی طاقتوں کے سیاسی اور ثقافتی میدان میں سرگرم  آلہ کار اور ایجنٹ اسلامی ممالک میں اس خیانت کو رواج دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ  فلسطین جیسے عظیم اور با عظمت مسئلہ کو مسلمانوں کی عزت اور غیرت فراموش کرنے کی اجازت نہیں دےگی اور مسلمان مسئلہ فلسطین کے بارے میں پہلے کی نسبت کہيں زيادہ آگاہ اور ہوشیار ہیں ۔ امریکہ اور خطے میں موجود اس کے اتحادی کتنا بھی پیسہ کیوں نہ صرف کریں وہ فلسطین کے بارے میں اپنے ناپاک منصوبوں میں ناکام ہوجائیں گے۔
سب سے پہلی بات مملکت فلسطین کے غصب کر لئے جانے اور وہاں صیہونیت کا کینسر وجود میں آنے کے بڑے المیہ کی یادہانی کرانا ہے۔ ماضی قریب کے ادوار کے انسانی جرائم میں اس پیمانے اور اس شدت کا کوئی اور جرم رونما نہیں ہوا۔ ایک ملک کو غصب کر لینا اور وہاں کے لوگوں کو ہمیشہ کے لئے ان کے گھربار اور موروثی سرزمین سے بے دخل کر دینا وہ بھی قتل و جرائم،  زراعت اور نسلوں کی تباہی کی المناک ترین شکل میں  اور دسیوں سال تک اس تاریخی ستم کا تسلسل، حقیقت میں انسان کی درندگی اور شیطانی خصلت کا نیا ریکارڈ ہے۔
اس المیہ کے اصلی مجرم اور ذمہ دار مغربی ممالک اور ان کی شیطانی پالیسیاں تھیں۔ جس دن پہلی عالمی جنگ کی فاتح حکومتیں مغربی ایشیا کے علاقے یعنی حکومت عثمانیہ کی ایشیائي قلمرو کو سب سے اہم مال غنیمت کے طور پر پیرس کانفرنس میں آپس میں تقسیم کر رہی تھیں، اس علاقے پر اپنے دائمی تسلط کے لئے اس کے قلب میں ایک محفوظ جگہ کی ضرورت انھیں محسوس ہوئی۔ برطانیہ نے برسوں پہلے بالفور منصوبہ پیش کرکے اس کی راہ  ہموار کر دی تھی اور یہودی سرمایہ داروں کو ہم خیال بنا کر مشن کو آگے بڑھانے کے لئے صیہونزم نام کی بدعت تیار کر لی تھی۔
اب اس کے عملی مقدمات فراہم ہونے لگے تھے۔ انھیں برسوں سے بتدریج مقدمات ترتیب سے آمادہ کئے جا رہے تھے اور سرانجام دوسری عالمی جنگ کے بعد علاقے کی حکومتوں کی غفلت اور مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے اپنی ضرب لگائی اور ایک جعلی ، غاصب  اور بغیر قوم  کی حکومت کا اعلان کر دیا۔
اس ضرب کی زد پر سب سے پہلے فلسطین قوم  اور اس کے بعد علاقے کی تمام اقوام تھیں۔
علاقے میں بعد کے واقعات کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی حکومتوں اور یہودی سرمایہ داروں کا صیہونی حکومت کی تشکیل کا اصلی اور فوری مقصد مغربی ایشیا میں اپنے دائمی اثر و رسوخ اور موجودگی کے لئے ایک اڈا قائم کرنا اور علاقے کے ممالک اور حکومتوں کے امور میں دخل اندازی اور ان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لئے قریب سے رسائی کے امکانات حاصل کرنا تھا۔ اسی لئے جعلی و غاصب حکومت کو طاقت کے گوناگوں عسکری و غیر عسکری وسائل فراہم کئے گئے  یہاں تک کہ اسے ایٹمی ہتھیاروں سے بھی مسلح کر دیا گیا اور نیل سے فرات تک کے علاقے میں اس سرطان کی توسیع کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔
بد قسمتی سے بیشتر عرب حکومتوں نے ابتدائی مزاحمتوں کے بعد جن میں بعض قابل تعریف ہیں، بتدریج ہتھیار ڈال دیئے اور خاص طور پر اس مسئلے کے ذمہ دار کے طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے وارد ہو جانے کے بعد انھوں نے انسانی، اسلامی اور سیاسی فریضے کو بھی اور اپنی عربی غیرت و حمیت کو بھی بالائے طاق رکھ دیا اور موہوم امیدیں لگا کر دشمن کے اہداف کی تکمیل میں مدد کی۔ کیمپ ڈیوڈ اس تلخ حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔
مجاہد تنظیمیں بھی  ابتدائی سالوں میں فداکارانہ جدوجہد کے بعد رفتہ رفتہ غاصب قوت اور اس کے حامیوں سے بے نتیجہ مذاکرات میں مصروف ہو گئیں اور مزاحمت و جد وجہد کے  راستے کو ترک کر دیا جو فلسطین کی امنگیں پوری کر سکتا تھا۔ امریکہ اور دیگر مغربی حکومتوں اور بے اثر بین الاقوامی اداروں سے مذاکرات، فلسطین کا تلخ اور ناکام تجربہ ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں زیتون کی شاخ دکھانے کا نتیجہ اوسلو کے زیاں بار معاہدے کے علاوہ کچھ نہیں نکلا اور آخرکار یاسر عرفات کے عبرتناک انجام پر اختتام پذیر ہوا۔
ایران میں اسلامی انقلاب کے طلوع سے فلسطین کے لئے جہاد کا نیا باب کھل گیا۔ پہلے قدم کے طور پر صیہونی عناصر کو باہر بھگانے جو طاغوتی (شاہی) دور میں ایران کو اپنا محفوظ ٹھکانا شمار کرتے تھے اور صیہونی حکومت کے غیر رسمی سفارت خانے کو فلسطینی نمائندہ دفتر کو سونپنے اور تیل کی سپلائی بند کرنے سے لیکر بڑے کاموں اور وسیع سیاسی اقدامات تک ساری کاروائیوں کے نتیجے میں پورے علاقے میں مزاحمتی محاذ وجود میں آیا اور مسئلے کے حل کی امید پیدا ہوئی۔ مزاحمتی محاذ کے نمودار ہو جانے کے بعد صیہونی حکومت کا کام سخت سے سخت تر ہوتا گیا۔ البتہ مستقبل میں ان شاء اللہ اور بھی سخت تر ہو جائے گا۔ لیکن اس غاصب حکومت کے حامیوں اور ان میں سر فہرست امریکہ نے اس کا دفاع بھی شدت کے ساتھ بڑھا دیا۔ لبنان میں مومن، نوجوان اور فداکار حزب اللہ کی تشکیل اور فلسطین کی سرحدوں کے اندر جوش و جذبے سے معمور تنظیموں حماس اور جہاد اسلامی کی تشکیل نے صیہونی عمائدین ہی نہیں بلکہ امریکہ اور دیگر مغربی دشمنوں کو مضطرب اور سراسیمہ کر دیا تو انھوں نے غاصب حکومت کی فکری و عسکری حمایت کے بعد علاقے کے اندر اور خود عرب معاشرے کے اندر سے ایجنٹوں کی بھرتی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا۔ ان کی پیہم کوششوں کا نتیجہ آج بعض عرب حکومتوں کے عمائدین اور بعض خائن عرب سیاسی و ثقافتی کارکنوں کے روئے اور بیانوں میں نمایاں اور سب کی نظروں کے سامنے ہے۔
اس وقت مقابلہ آرائی کے میدان میں دونوں طرف سے گوناگوں سرگرمیاں نظر آ رہی ہیں، بس اس فرق کے ساتھ کہ مزاحمتی محاذ روز افزوں اقتدار و امید اور قوت کے عناصر کی فہرست میں مسلسل اضافے کی طرف گامزن ہے جبکہ اس کے برخلاف ظلم و کفر و استکبار کا محاذ روز بہ روز خالی ہاتھ، مایوس اور ناتواں ہوتا جا رہا ہے۔ اس خیال کی روشن دلیل یہ ہے کہ صیہونی فوج جو کبھی ناقابل تسخیر اور برق آسا سمجھی جاتی تھی اور جس نے دو حملہ آور ممالک کی بڑی افواج کو چند دنوں کے اندر روک سکتی تھی، آج لبنان اور غزہ میں عوامی مزاحمتی فورسز کے سامنے پسپا ہونے اور اعتراف شکست کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
اس کے باوجود مقابلہ آرائی کا میدان بہت خطرناک ہے، حالات کا رخ بدل جانے کا امکان ہے، دائمی نگرانی لازمی ہے اور اس مقابلہ آرائی کا موضوع حد درجہ اہم، فیصلہ کن اور حیاتی ہے۔ بنیادی تخمینوں میں کسی بھی طرح کی غفلت، سادہ فکری اور غلطی کے بڑے سنگین نقصانات ہوں گے۔
اس بنیاد پر میں ان تمام افراد کو جو مسئلہ فلسطین سے قلبی وابستگی رکھتے ہیں چند سفارشات کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ، راہ خدا میں جہاد، اسلامی مطالبہ اور فریضہ ہے۔ ایسی لڑائی میں فتح یقینی ہے، کیونکہ مجاہد شخص قتل ہو جانے کی صورت میں بھی 'احدی الحسنیین' (دو عظیم نیکیوں میں سے کسی ایک) تک رسائی ضرور حاصل کر لے گا۔ اس کے علاوہ بھی مسئلہ فلسطین ایک انسانی مسئلہ ہے۔ دسیوں لاکھ انسانوں کو ان کے گھر، کھیت، زندگی گزارنے اور کسب معاش کرنے کی جگہ سے بے دخل کر دینا وہ بھی قتل اور مجرمانہ اقدامات کے ذریعے، ہر صاحب ضمیر انسان کو آزردہ خاطر اور متاثر کرتا ہے اور ہمت و شجاعت ہونے کی صورت میں اسے مقابلے پر اٹھ کھڑے ہونے کے لئے آمادہ کرتا ہے۔ اس لئے اسے صرف فلسطین کا مسئلہ یا زیادہ سے زیادہ عربوں کا مسئلہ قرار دے دینا بہت بڑی بھول ہے۔
جو لوگ چند فلسطینی عناصر یا چند عرب ممالک کے حکام کی مصالحتی کوششوں کو اس اسلامی اور انسانی مسئلے کو اس کے حال پر چھوڑ دینے کا جواز سمجھتے ہیں، وہ اس مسئلے کے ادراک میں شدید غلطی بلکہ بسا اوقات اس میں تحریف جیسی خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
2۔ اس پیکار کا اصلی مقصد 'سمندر سے دریا تک' (یعنی بحیرہ روم سے دریائے اردن تک) پوری سرزمین فلسطین کی آزادی اور تمام فلسطینیوں کی وطن واپسی ہے۔ اس (عظیم مقصد) کو اس سرزمین کے کسی گوشے میں ایک حکومت کی تشکیل تک محدود کر دینا، وہ بھی اس تحقیر آمیز شکل میں جس کی بات بے ادب صیہونی کرتے ہیں، نہ حق جوئی کی علامت ہے اور نہ حقیقت پسندی کی نشانی۔ امر واقع یہ ہے کہ آج ملینوں فلسطینی فکر، تجربے اور خود اعتمادی کی اس منزل پر پہنچ چکے ہیں کہ اس عظیم جہاد کے لئے انھوں نے کمر ہمت باندھ لی ہے، البتہ انھیں نصرت خداوندی اور حتمی فتح کا یقین رکھنا چاہئے، کیونکہ ارشاد ہوا ہے؛ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُه إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ .. بے شک دنیا میں بہت سے مسلمان ہیں جو ان شاء اللہ ان کی مدد کریں گے اور ان کے درد میں شریک ہوں گے۔
3 ۔ اگرچہ اس لڑائی میں تمام حلال اور شرعی وسائل منجملہ عالمی حمایت سے استفادہ جائز ہے لیکن خاص طور پر مغربی حکومتوں اور ظاہری یا باطنی طور پر ان پر منحصر عالمی اداروں پر اعتماد کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ وہ ہر موثر اسلامی طاقت کے وجود کے دشمن ہیں۔ انھیں انسانوں اور اقوام کے حقوق کی کوئی پروا نہیں ہے۔ وہ خود مسلم امہ کو پہنچنے والے بیشتر نقصانات اور اس کے خلاف انجام پانے والے جرائم کے ذمہ دار ہیں۔ اس وقت کئی اسلامی و عرب ممالک میں جاری قتل عام، جنگ افروزی، بمباری یا مسلط کردہ خشکسالی کے سلسلے میں کون عالمی ادارہ یا جرائم پیشہ طاقت جوابدہ ہے؟
آج دنیا عالمی سطح پر کورونا سے ہونے والی اموات کو تو گن رہی ہے لیکن کسی نے نہیں پوچھا اور نہ پوچھے گا کہ جن ممالک میں امریکہ اور یورپ نے جنگ کی آگ بھڑکائی ہے وہاں لاکھوں افراد کی شہادت، قید اور گمشدگی کا ذمہ دار کون ہے؟ افغانستان، یمن، لیبیا، عراق، شام اور دیگر ممالک میں بہائے جانے والے اس خون ناحق کا ذمہ دار کون ہے؟ فلسطین میں جاری ان جرائم، غاصبانہ و تخریبی اقدامات اور مظالم کا ذمہ دار کون ہے؟ اسلامی ممالک کے دسیوں لاکھ مظلوم مردوں اور خواتین کو کوئی شمار کیوں نہیں کرتا؟ مسلمانوں کے قتل عام پر کوئی تعزیت کیوں نہیں دیتا؟ ملینوں فلسطینی ستر سال سے اپنے گھر بار سے دور جلا وطنی میں کیوں رہیں؟ مسلمانوں کے قبلہ اول کی کیوں توہین کی جائے؟ نام نہاد اقوام متحدہ اپنے فرائض پر عمل نہیں کر رہی ہے اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو موت آ گئی ہے۔'بچوں اور خواتین کے حقوق کے نعرے'کا اطلاق یمن اور فلسطین کے مظلوم بچوں اور خواتین پر نہیں ہوتا۔
دنیا کی ظالم مغربی طاقتوں اور ان سے وابستہ عالمی اداروں کی یہ حالت ہے۔ علاقے میں ان کی بعض ہمنوا حکومتوں کی رسوائی اور ذلالت کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔
تو غیور و دیندار مسلم معاشرے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اوپر اور اپنی داخلی توانائیوں پر تکیہ کرے، اپنا طاقتور ہاتھ آستین سے باہر لائے اور اللہ پر توکل اور اعتماد کرکے رکاوٹوں کو عبور کرے۔
4 ۔ اہم نکتہ جو عالم اسلام کی سیاسی و دفاعی شخصیات کی نظر سے پنہاں نہیں رہنا چاہئے، تصادم اور جھڑپوں کو مزاحمتی محاذ کی پشت پر پہنچانے کی امریکہ اور صیہونیوں کی سیاست ہے۔ شام میں خانہ جنگی شروع کروانا، یمن کی ناکہ بندی اور وہاں شب و روز قتل عام، عراق میں ٹارگٹ کلنگ، تخریبی اقدامات اور داعش کی تشکیل، علاقے کے بعض دیگر ممالک میں ایسے ہی واقعات، یہ سب مزاحمتی محاذ کو الجھا دینے اور صیہونی حکومت کو موقع دینے کے حربے ہیں۔ بعض مسلم ممالک کے سیاستدانوں نے نادانستگی میں اور بعض نے دانستہ طور پر دشمن کے ان حربوں کی مدد کی ہے۔ اس خبیثانہ سیاست کے نفاذ کا سد باب کرنے کا طریقہ پورے عالم اسلام میں غیور نوجوانوں کی طرف سے پرزور مطالبہ ہے۔ تمام اسلامی ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک میں نوجوانوں کو امام خمینی کی سفارشات کو نظر سے دور نہیں ہونے دینا چاہئے، جنہوں نے فرمایا: جتنا چیخنا ہے امریکہ پر اور بے شک صیہونی دشمن پر چیخئے۔
5۔ علاقے میں صیہونی حکومت کی موجودگی کو معمول کی بات بنا دینا ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سب سے بنیادی پالیسی ہے۔ علاقے کی بعض عرب حکومتیں جو امریکہ کے اشارے پر چلتی ہیں، اس کے لازمی مقدمات جیسے اقتصادی روابط قائم کرنے وغیرہ کا کام انجام دے رہی ہیں۔ یہ کوششیں سرے سے بے ثمر اور بے نتیجہ ہیں۔ صیہونی حکومت اس علاقے کے لئے ایک مہلک اضافہ اور سراپا نقصان ہے جو بلا شبہ ختم اور نابود ہو جائے گی اور ان لوگوں کے ہاتھ صرف ذلت اور بدنامی لگے گی جنہوں نے اپنے تمام وسائل اس استکباری سیاست کے لئے وقف کر رکھے ہیں۔ بعض اپنی اس پست روش کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ صیہونی حکومت علاقے کی ایک حقیقت ہے، انھیں یہ یاد نہیں کہ مہلک اور زیاں بار حقیقتوں سے لڑنا اور انھیں ختم کرنا ہوتا ہے۔ آج کورونا ایک حقیقت ہے اور سارے باشعور افراد اس کے خلاف جنگ کو لازمی جانتے ہیں۔ صیہونزم کا دیرینہ وائرس بلا شبہ اب زیادہ نہیں ٹکے گا اور نوجوانوں کی ہمت، قوت ایمانی اور حمیت اس علاقے سے اسے اکھاڑ پھینکے گی۔
6 ۔میری سب سے بنیادی سفارش ہے جدوجہد کا تسلسل، مجاہد تنظیموں کی مزید تقویت، ان کا باہمی تعاون اور جہاد کا دائرہ پورے فلسطینی علاقوں تک پھیلانا۔ اس مقدس جہاد میں سب ملت فلسطین کی مدد کریں۔ سب کو چاہئے کہ فلسطینی مجاہدین کو پوری طرح لیس اور اس کی پشت پناہی بڑھائيں۔ اس راہ میں ہم فخر سے وہ سب کچھ صرف کریں گے جو ہمارے پاس ہوگا۔ ایک موقع پر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ فلسطینی مجاہد کے پاس دین، غیرت اور شجاعت موجود ہے، اس کی واحد مشکل اسلحے کا نہ ہونا ہے۔ ہم نے نصرت و ہدایت خداوندی سے منصوبہ بندی کی اور نتیجہ یہ ہوا کہ فلسطین میں طاقت کا توازن بدل گیا اور آج غزہ صیہونی دشمن کی فوجی یلغار کے مقابلے میں کھڑا ہو سکتا ہے اور اسے مغلوب کر سکتا ہے۔ مقبوضہ فلسطین کہے جانے والے علاقے میں طاقت کے توازن کی تبدیلی مسئلہ فلسطین کو اس کی آخری منزل کے قریب کرے گی۔ اس مسئلے میں فلسطینی انتظامیہ کے دوش پر بہت سنگین ذمہ داری ہے۔ وحشی دشمن  سے صرف مقتدرانہ لہجے میں بات کرنا چاہئے اور اس قوت و طاقت کے لئے فلسطین کی شجاع اور مجاہد قوم کے اندر بحمد اللہ مقدمات فراہم ہیں۔ فلسطین نوجوان آج اپنی عزت نفس کے دفاع کے پیاسے ہیں۔ فلسطین میں حماس اور جہاد اسلامی نے اور لبنان میں حزب اللہ نے سب پر حجت تمام کر دی ہے۔ دنیا وہ دن نہ بھولی ہے اور نہ بھولے گی جب صیہونی فوج نے لبنان کی سرحد توڑی اور بیروت تک بڑھتی چلی گئی، اسی طرح وہ دن جب ایریئل شیرون نام کے مجرم نے صبرا و شتیلا میں خون کی ندیاں بہا دیں۔ اسی طرح وہ دن بھی نہ بھولی ہے اور نہ بھولے گي جب حزب اللہ کے زوردار حملوں کی وجہ سے اس فوج کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا اور وہ بہت بڑا نقصان اٹھا کر اور شکست کا اعتراف کرکے لبنان کی سرحدوں سے پیچھے ہٹی اور جنگ بندی کے لئے التجائیں کرنے لگی،اسلحہ سے لیس ہونے اور مقتدارانہ انداز کا یہ نتیجہ ہے، اس یورپی حکومت کی بات جانے دیجئے جسے صدام حکومت کو کیمیائی ہتھیار فروخت کرنے پر ہمیشہ شرمسار رہنا چاہئےاور وہ مجاہد و سرفراز حزب اللہ کو غیر قانونی قرار دیتی ہے، غیر قانونی تو امریکہ جیسی حکومت ہے جو داعش کو ایجاد کرتی ہے، غیر قانونی وہ یورپی حکومت ہے جس کے کیمیکل ہتھیاروں کی وجہ سے ایران کے بانہ اور عراق کے حلبچہ علاقوں میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔
7۔ آخری بات یہ ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس کے امور انھیں کے ارادے کے مطابق انجام  پذیر ہونے چاہیے، فلسطین کے تمام ادیان اور  اقوام کی شمولیت سے استصواب رائے کی جو تجویز ہم نے تقریبا دو عشرے قبل پیش کی ہے، وہ آج کے چیلنجوں اور فلسطین کے مستقبل کا واحد  راہ حل ہونا چاہیے۔ یہ تجویز ثابت کرتی ہے کہ یہودی دشمنی کے جو دعوے مغربی طاقتیں اپنے تبلیغاتی ذرائع کی مدد سے دہراتی رہتی ہیں، بالکل بے بنیاد ہیں، اس تجویز کے مطابق فلسطینی یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ استصواب رائے میں شرکت اور فلسطین کے لئے سیاسی نظام کا تعین کرنا ہے جسے ہر حال میں محو ہونا ہے وہ صیہونی نظام ہے اور صیہونیت خود دین یہود میں ایک بدعت اور اس سے بالکل بیگانہ ہے۔
آخر میں میں شیخ احمد یاسین، فتحی شقاقی، سید عباس موسوی سے لیکر اسلام کے عظیم سردار اور مزاحمتی محاذ کی ناقابل فراموش شخصیت  شہید قاسم سلیمانی اور عراق کے عظیم مجاہد شہید ابو مہدی المہندس اور دیگر شہدائے قدس کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور  رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ)  کی روح پر درود بھیجتا ہوں جنہوں نے عزت اور جہاد کا یہ راستہ ہمارے لئے  استوار کیا۔ اسی طرح برادر مجاہد  مرحوم حسین شیخ الاسلام کے لئے اللہ تعالی کی بارگاہ سے رحمت اور مغفرت طلب کرتا ہوں ،جنہوں نے برسوں اس راہ میں زحمتیں برداشت کیں۔
والسلام علیکم و رحمة الله
مہر


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین