Code : 2402 9 Hit

پیغمبر اکرم(ص) کی ولادت اور بشریت کا فکری سرمایہ

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کے نزدیک ان ایام میں اپنے سماج و معاشرہ کے بارے میں سوچیں اور غور کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ کیا ملک میں جہاں پر ہم کھڑے ہیں یہ وہی مقام ہے جس کو دیکھ کر ہمارے آخری نبی خوش ہونگے کہ بہت خوب میرے ماننے والوں تم نے بہت اچھا کیا یا پھر ایسا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف شاید دیکھنا بھی گوارا نہ کریں کہ تم نے نہ صرف فکر و تعقل سے کام نہ لیا بلکہ خود کو ایک مذاق بنا لیا اور آج لوگ تم سے کھیل رہے ہیں اور تم محکوم بن کر لوگوں کے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچ رہے ہو ۔ امید ہے کہ ولادت سرکار رسالت مآب(ص) کے ان مبارک و مسعود ایام میں ہم بہتر طور پر آپ(ص)کے فکری معارف کو اپنے وجود میں اتارنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! فکری سرمایہ ایک بڑا سرمایہ شمار ہوتا ہے اگر فکر نہ ہو تو انسان کی زندگی حیوانی تو ہو سکتی ہے انسانی زندگی کا اطلاق اس پر نہیں ہو سکتا  اسی لئے وہ زندگی لا یعنی ہے جس میں ایک فکر متحرک نہ ہو ، علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: "شک نہیں کہ انسان کی زندگی ایک فکری زندگی سے عبارت ہے ، فکر وادراک سے پرے ، ہم زندگی کا تصور نہیں کر سکتے، زندگی کی ضروریات میں سے ایک فکر  کرنا بھی ہے جس قدر فکر بہتر اور اچھی ہوگی زندگی بھی اتنی ہی اچھی اور خوشگوار بن جائےگی"۔(1) یہی وجہ ہے کہ انسان کو اسکے اعلی ہدف تک پہنچانے کے لئے پروردگار نے جو سلسلہ ہدایت قائم کیا اس میں کوئی بھی شخصیت ایسی نہیں ملے گی جو فکری سرمایہ سے خالی ہو بلکہ انکی شناختی علامتوں میں  ايك اہم علامت انکا فکر میں مشغول رہنا نظر آئے گا چنانچہ حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں شیخ عباس قمی  ابن ابی ہالہ  سے نقل کرتے ہیں کہ حضور سرورکائنات(ص) ہمیشہ فکر میں ڈوبے رہتے  تھے اور کبھی آپکو بے فکر نہیں دیکھا گیا۔(2) آپکی صفات میں ملتا ہے کہ آپکو کبھی آسانی و راحت میسر نہ تھی اس لئے کہ ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچا کرتے ،خاموش رہتے اور فکرمیں مشغول رہتے تھے اس  طرح کہ لوگ آپ کو دائم الفکر شخصیت کے حیثیت سے پہچانتے تھے۔(3) آپکی زندگی کے نشیب و فراز پر نظر ڈال کر ہر انسان یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ آپ کس قدر فکر و تعقل کے ساتھ اپنے امور کو انجام دیتے تھے، یہ آپکی فکر رسا اور آپکے  دور اندیشانہ طرز تبلیغ کے سبب ہی ممکن ہو سکا کہ وہ لوگ جو جہالت کی آگ میں جھلس رہے  ہوں ،اپنے اوپر فخر کرنے کو باعث عزت سمجھتے  ہوں، قتل و غارت گری پر افتخار کرتے ہوں ، وہ لوگ جنکے پاس خرافات کے سوا کچھ نہ تھا نہ سوچ تھی نہ فکر، ایسے لوگوں نے آ پ کی فکر کو بھی تسلیم کیا آپ کی باتوں کو بھی مانا۔  یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فکر  ہی کا کمال تھا کہ کل کے جاہل دنیا میں عدالت و انصاف کے پرچم دار قرار پائے۔(4)آپ نے اپنے دین کو پہنچانے سے پہلے بھی لوگوں کو فکر و تعقل کی دعوت دی اور اس کے بعد بھی دینداری کے معیار کو فکر و تعقل  قرار دیا اور فرمایا: جب تم کسی بڑے نمازی اور کثرت کے ساتھ روزہ رکھنے والے کو دیکھو تو اس پر مباہات نہ کرو مگر یہ کہ اسکی عقل کو دیکھو کیسی ہے۔(5) اسکا مطلب یہ ہے کہ انسان کی عقل اور اسکی فکر، معیار انسانیت ہے ،کثرت صوم و صلاۃ نہیں ۔ ایک دوسرے مقام پر آپ ہی نے اس مفہوم پر مشمتل حدیث ارشاد فرمائی کہ:’’اگر  کسی کے حسن حال کے بارے میں تم تک کوئی بات پہنچے اور تم دیکھنا چاہو اورپرکھنا  چاہو تو اسکی حسن عقل  کو دیکھو‘‘۔(6)علاوہ از ایں  آپکی حیات طیبہ کے مختلف گوشوں میں فکر و تدبر کی دعوت نظر آتی ہے لیکن افسوس! جس قدر ہمارے آخری نبی(ص) نے فکر و تعقل و تدبر کی بات کی ،جس قدر ہمیں قرآن کریم نے فکر کی طرف پکارا ،تفکر و تعقل پر زور دیا ،ہم اتنا ہی اس سے غافل ہوتے جار ہے ہیں اور اسی بنا پر ہمارے ملک میں ہماری کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے ، کسی بھی مسئلہ میں سوچنے اور سمجھنے سے پہلے اٹھ کر چل دینے کی عادت آج ہمیں لے ڈوبی ہے کوئی سیاسی پارٹی ہو یا حکومتی لابی ،ہم غور و فکر کئے بغیر کسی بھی جگہ اٹھ کر چل دیتے ہیں بعد میں پچھتاوے کے سوا ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔آج نہ صرف ہمیں غور و فکر کے ساتھ آنے والے کل کی منصوبہ بندی  کرنےکی ضرورت ہے بلکہ اپنے افکار کو پختہ رنگ دینے کی بھی ضرورت ہے ، ہماری بڑی مشکل یہ ہے کہ ایک طرف فکر کا فقدان ہے تو دوسری طرف ایسے افکار ہیں جو راہ کو منحرف کرنے کا سبب بن رہے ہیں جبکہ معاشرہ میں فکر کی مثال انسان کے متحرک وجود میں گردش کرتے  ایسے خون کی سي ہے جو انسانی زندگی کی بقا کی ضمانت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے عروج اور اسکے ارتقائی خطوط پر گامزن رہنے کا سبب بھی ہوتا ہے   ۔انسان کی رگوں میں دوڑتا ہوا خون، جتنا سالم اور امراض سے پاک ہوگا انسانی پیکر وجودی میں اتنا ہی نکھار پیدا ہوتا جائے گا اور نشاط و شادابی اسکے چہرے سے عیاں ہوگی ۔اگر کسی انسان کے جسم میں فاسد خون ہے توجتنی جلدی اسے تبدیل کر دیا جائے اتنا ہی انسان  کی حیات کے لئے بہتر ہے اسی طرح سماج اور معاشرے کے پیکر میں اگر فاسد فکرگردش کر رہی ہو  تو اسکا بھی علاج یہی ہے کہ یا تو ان جرثوموں پر کنڑول کیا جائے جو فکر کو فاسد بنا رہے ہیں اور اس طرح فاسد فکر کو رائج ہونے سے روکا جائے یا پھر کوئی ایسا قدم اٹھایا جائے کہ سماج کے فرسودہ افکار کو اسکے پیکر سے نکال کر اسے تازہ دم اور نشاط آور فکر سے آشنا کیا جائے تاکہ سماج کی زندگی بھی محفوظ ہو سکے اور معاشرہ ارتقائی منزلوں کو بھی کیف و سرور کے ساتھ طے کر سکے ،جس طرح فاسد خون انسان کے جسم کو لاغر اور ناتواں وبے جان کر دیتا ہے ، انسان کے چہرے سے شادابی ،فرحت ،اور طراوت کو چھین لیتا ہے اسی طرح فاسد فکر بھی سماج اور معاشرے کو لاغر اور ناتواںو بے جان بنا دیتی ہے سالم فکرسے عاری معاشروں میں طراوت و شادابی کی جگہ اضمحلال و پژمردگی نظر آتی ہے ۔ فاسد فکر کے مضر اثرات کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ ہم اپنے افکار کو کسی ایسے معیار پر پرکھیں جو ہمیں ہماری فکر کے رجحانات کے ساتھ اسکے منفی اور مثبت پہلوؤں کی نشان دہی کر سکے اس لئے کہ فکر ہی کے بل پر اپنے وجود کو منوایا جا سکتا ہے فکر ہی کی بنیاد پر آگے بڑھا جا سکتا ہے اور سالم فکر ہی کے آئینہ میں قوم و ملت کی بکھری ہوئی زلفوں کو سنوارا جا سکتا ہے ۔ ہمارا فکری معیار یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکےبرحق جانشینوں کا چھوڑا ہوا فکری سرمایہ ہے ، یا یوں کہا جائے: ہمارا فکری سرمایہ قرآن و اہلبیت اطہار علیہم السلام سے عبارت ہے جسے حضور سرورکائنات(ص) نے ثقلین سے تعبیر فرمایا تھا ، اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اس سرمایہ سے کتنا استفادہ کرتے ہیں ، یہ وہ سرمایہ ہے جس کے بل پر ہم اپنی فکر کو بھی پختہ بنا سکتے ہیں اور اپنے معاشرہ کو بھی اسکے حقوق دلا سکتے ہیں لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ پہلے مرحلہ میں ہم خود اپنے فکر کے دریچوں کو کھولیں ، اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم فکر ی پرواز کرنا سیکھیں  اس لئے کہ    یہ فکر ہی کا کمال ہے کہ آسمان والے زمیں والوں کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرتے نظر آتے ہیں اور اپنے لئے فخر کا باعث سمجھتے ہیں کہ ان زمین کے باسیوں کے افکار کو آسمان میں رائج کیاجائے ۔ بلندیِ فکر، انسان کو زمین پر رہتے ہوئے بھی آسمان پر پہونچا دیتی ہے تو سطحی فکر آسمان پر ررہنے والے کو بھی زمیں گیر بنا دیتی ہے ۔چاہے وہ زمینی فاصلے ہوں یا آسمانی، انسان ان فاصلوں کو طے کر بھی لے تو ایک جگہ سے بس دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے لیکن فکر کے ذریعہ جو فاصلے طے ہوتے ہیں انسان اس میں ایک ہی جگہ بیٹھ کر دوسرے مقام پر اپنا  قبضہ جما لیتا ہے اسی  لئے کہنے والے کہتے ہیں کہ در حقیقت انسان ان فاصلوں کو طے  نہیں کرتابلکہ یہ فکر ہے جو نہ صرف زمینی اور آسمانی فاصلوں کو طے کرتی ہے  بلکہ انسان کے مختصر سے وجود میں زمین و آسمان کی وسعتوں کو سمیٹ کر اسے  ہمیشہ باقی رہنے والا بنا دیتی ہے ۔’’ زندہ رہو صرف زندہ رہنے کی خاطر‘‘ یہ بھی ایک فکر ہے ۔ اب چاہے کیڑوں مکوڑوں کی طرح ہی کیوں نہ زندگی گزارنی پڑے۔’’ ایک بوجھ سمجھ کے جی لو کہ مجبور ہو جینے کے لئے‘‘یہ بھی ایک فکر ہے۔ اور ’’زندہ رہو دوسروں کو زندہ رکھنے اورحصول مقصد کی خاطر‘‘ یہ بھی ایک فکر ہے لیکن  ان تینوں  میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔جینا صرف اسلئے کہ زندگی ہے تو جی رہے ہیں یہ  در حقیقت موت کی آواز ہے ۔ حصول مقصد کی خاطر  اور دوسروں کو زندہ رکھنے کی خاطر جینا  یہ زیست کا اعلان ہے ۔وہ معاشرہ اور سماج در اصل مردہ ہے جہاں یہ فکر رائج ہو کہ جب تک زندگی ہے تب تک گزارتے ہیں اب جیسی چاہے گزر جائے ،اسلئے کہ جب تک افکار کے طلاطم  سینہ میں ہیجان عمل کی آگ کو تیز نہ  کردیں   اس وقت تک انسانی زندگی موت سے ہی عبارت رہے گی، زندگی کی ہر سانس اسکی موت کی طرف بڑھتا ہوا ایک ایسا قدم ہوگا جس میں اسکا کوئی عمل دخل نہیں ، کوئی تعمیری جذبہ نہیں ،کوئی جاودانگی کا استعارہ نہیں، وہ ایک بے بس اور مجبور موجود کی صورت میں زوال و نابودی کی طرف گامزن ہے اور بس!
سوچئے اور غور کیجئے!  ہمارے درمیان کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن سے ملک کے حالات کے بارے  میں کہا جاتا ہے تو کہتے نظر آتے ہیں  کہ:ہم سے کیا مطلب، چار دن کی زندگی ہے دو دن تو گزر ہی گئے  دو اور جیسے نہ تیسے گزر ہی جائیں گے کون اپنے سر پر ٹینشن لے کر بیٹھے کہ کل کیا ہوگا ، جو ہوگا ہوجائے گا جیسے اب تک ہوا اسے ہم نے سہا ہے کل بھی سہہ لیں گے۔
دوستو! یہی وہ چیز ہے جس پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے  کہ اس طرح کی باتیں ہم کب تک کر کے اپنے فکری طور پر تہی دست ہونے کا اعلان کرتے رہیں گے ، تو اب اس بات کی  ضرورت ہے  کہ اپنے آپ کو پہچانیں اپنے تشخص کو سمجھیں اور غور کریں کہ خدا نے یہ زندگی کی نعمت ہمیں کیوں دی ہے ؟ اگر ہمارے سامنے ایک بڑا مقصد ہے تو کیوں نہ اسکے حصول میں ایک دوسرے کی مدد سے اس طرح آگے بڑھا جائے کہ دنیا بھی ہماری ہو اور  آخرت بھی ہماری۔ اور ہمارے پاس تو الحمد للہ ایسے فکری نمونے موجود ہیں ۔جن کے پاس بظاہر کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی چونکہ فکری سرمایہ تھا لہذا آج دنیا انہیں سلام کرتی نظر آتی ہے ۔ تو آئیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کے نزدیک ان ایام میں اپنے سماج و معاشرہ کے بارے میں سوچیں اور غور کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ کیا ملک میں جہاں پر ہم کھڑے ہیں  یہ وہی مقام ہے جس کو دیکھ کر ہمارے آخری نبی خوش ہونگے کہ بہت خوب میرے ماننے والوں تم نے بہت اچھا کیا یا پھر ایسا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف شاید دیکھنا بھی گوارا نہ کریں کہ تم نے نہ صرف فکر و تعقل سے کام نہ لیا بلکہ خود کو ایک مذاق بنا لیا اور آج لوگ تم سے کھیل رہے ہیں اور تم محکوم بن کر لوگوں کے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچ رہے ہو ۔ امید ہے کہ ولادت سرکار رسالت مآب(ص) کے ان  مبارک  و مسعود ایام میں ہم بہتر طور پر آپ(ص)کے  فکری معارف کو اپنے وجود میں اتارنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔تفسیر المیزان ، جلد ۵ ص ۲۵۶۔
2۔قمی ، عباس، ۱۴۰۸ ، قصار اجمل ، قم ، انتشارات رسول مصطفی ص ۷۹۔
3۔ ابن عساکر ،تاریخ مدینۃ دمشق، جلد ۳ ص ۳۴۹ ۔
4۔مصطفی دلشاد تہرانی ۲۷۔
5۔’’رُوِيَ عَنْ رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) أنهُ قَالَ :" إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ كَثِيرَ الصَّلَاةِ كَثِيرَ الصِّيَامِ فَلَا تُبَاهُوا بِهِ حَتَّى تَنْظُرُوا كَيْفَ عَقْلُهُ‘‘۔محمد بن يعقوب الكليني ، المُلَقَّب بثقة الإسلام ، المتوفى سنة : 329 هجرية ، في كتابه الكافي : 1 / 26 ، طبعة دار الكتب الإسلامية ، سنة : 1365 ش، طهران ، إيران۔
6۔’’ إِذَا بَلَغَكُمْ عَنْ رَجُلٍ حُسْنُ حَالٍ فَانْظُرُوا فِي حُسْنِ عَقْلِهِ فَإِنَّمَا يُجَازَى بِعَقْلِهِ‘‘۔سابق حوالہ،جلد ۱ ص ۱۲۔

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम