Code : 3068 33 Hit

بن سلمان نے آمریت میں اپنے اسلاف کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے: سعودی وکیل

سعودی حکومت کے مخالف ایک ممتاز سعودی وکیل نے محمد بن سلمان کی سربراہی میں انسانی حقوق کی صورتحال کو سیکولرازم کی انتہا پسندی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی تاریخ میں اس طرح کا ظلم اب تک کبھی نہیں ہوا تھا۔

ولایت پورٹل:سعودی خفیہ ایجنسی کی مطلوب جرمنی میں مقیم معروف سعودی حکومت کے  مخالف سعودی وکیل  طہٰ الحاجی نے الشرقیہ خطے اور قطیف اور احساء صوبوں میں شیعہ عوام کی صورتحال اور انسانی حقوق کے امور پر سعودی حکومت کے طرز عمل  کے بارے میں مرآۃ الجزیرہ ویب سائٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا قطیف  احساء کی عوامی تحریک اور مظاہرے  عربی بہار کے نام سے مشہور ہوئے جس کا خاص اثر بحرین پر پڑا اور جب بھی انہیں احتجاج کرنے کا موقع ملتا ہے ، وہ آواز اٹھاتے ہیں۔
طہٰ الحاجی نے مزید کہا کہ قطیف اوراحساء کے لوگ زیادہ تر شیعہ ہیں جنہیں شدید دباؤ اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ کبھی بھی حساس عہدوں پر فائز نہیں ہوسکے یا اعلی سطح کے اداروں اور دفاتر خصوصا سکیورٹی اور ڈپلومیٹک سنٹر تک رسائی حاصل نہیں کرسکے۔
انہوں نے مزید کہا: احتجاج کے آغاز میں ، سعودی عہدیدار انتہائی احتیاط کے ساتھ برتاؤ کرتے تھے  تاکہ اس احتجاج میں وسعت نہ آنے پائے لیکن پھر انھوں نے وحشیانہ طور پر کچلنے کی پالیسی کا سہارا لیا اس حد تک کہ تاکہ ان کے بقول  قطیف  اور احساءمیں ایسا کوئی کنبہ نہیں ہے جس کو گرفتاری ، قتل یا ملک بدری کا تجربہ نہ ہو۔
الحاجی  نے یہ کہتے ہوئے کہ کہ محمد بن سلمان کی آمریت ماضی کے سعودی حکام سے  بھی بڑھ کر ہے،کہا کہ  موجودہ سعودی حکومت انتہا پسندوں کا  اتحاد ہے اور ان کی انتہا پسندی  پر مبنی ہے۔
آج آپ کو پورے ملک میں کوئی  بھی نہیں ملے گا جو اپنی آواز بلند کرسکے اور آل سعود کی کھلے عام مخالفت کر سکے۔
اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ کوئی بھی ان کے قانونی حقوق کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی اصلاحات  کی بات کرسکتا ہے۔
سعودی حکام مخالف  آواز برداشت نہیں کرتے۔
ایسا یہاں پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن محمد بن سلمان کی سربراہی میں موجودہ حکمرانوں نے ایک سفاک اور بے مثال آمریت کا آغاز کیا ہے جس نے تمام معاشرتی ، مذہبی ، ثقافتی اور سیاسی اقدار کو پامال کر کے رکھ دیا ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम