Code : 3421 26 Hit

رمضان المبارک میں کسی بھوکے کو کھانا کھلانے کی اہمیت

اس مہینہ میں جہاں ہم ایک طرف اللہ کے مہمان ہیں، اور جس مہینہ میں اللہ ہم سے روزے رکھوا کر غریبوں کی بھوک کا احساس دلاتا ہے، تو دوسری طرف اس مہینہ میں نیک کام ، جیسے بھوکوں کو کھانا کھلانا ، کسی کی مدد کرنا وغیرہ پر بیحد ثواب بھی رکھا ہے تو ظاہر ہے ایسے میں ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم اپنے آس پاس نظریں دوڑائیں کہ ہمارے اطراف میں کسی کا کام تو بند نہیں ہوا ہے کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اس کے بچے دو وقت کی روٹی سے بھی عاجز رہ گئے ہوں۔

ولایت پورٹل: بھوک ایک ایسی چیز ہے جس کا مزا چاہے کچھ پل کے لئے ہی سہی، تقریباً ہر کسی نے چکھا ہوتا ہے اور کچھ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں بھوک کی لذت اور اس کے مزے کی عادت پڑ چکی ہوتی ہے، انھیں دن کی بھوک اور رات کی بھوک کے الگ الگ مزے کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہمارا پڑوسی بھوکا سوتا ہے تو یہ ہمارے لئے بہت شرم کی بات ہے کیونکہ اہل بیت اطہار(ع) نے اپنی زندگی میں متعدد مرتبہ اس موضوع پر اپنے اصحاب اور چاہنے والوں کو نصیحتیں کی ہیں اور ان حضرات نے صرف زبانی بتایا ہی نہیں بلکہ رات کے سناٹے میں اپنی کمر پر کھانے کی گٹھریاں لاد کر غریب اور مزدوروں کے سرہانے روٹیاں رکھ کرعملی طور پر ثابت کیا ہے کہ اگر تمہارے پاس کھانے کو ہے اور تمہارے پڑوس میں کو کوئی بھوکا رہ جائے تو تمہاری ذمہ داری ہے کہ جاؤ اور اس تک کھانا پہونچاؤ!
آج کل جہاں ایک طرف کرونا وائرس نامی وبا کے چلتے لاک ڈاؤن کے سبب ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کی مزدوری چلی گئی اور کتنے تجارت کرنے والے اور کاروباری اپنے کاروبار سے ہاتھ دھو بیٹھیں ہیں۔ جبکہ پرائیوٹ سیکٹر کی تو بات مت کیجئے چونکہ نہ ان افراد کو مناسب تنخواہیں ملتی ہیں  اور نہ ہی کسی طرح کا بونس وغیرہ دیا جاتا ہے (اور یہ سب تو چھوڑئیے یہاں تو تنخواہ کاٹنے کے چھوٹے چھوٹے بہانے تلاش کئے جاتے ہیں ) مزدوروں کے حالات تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں جبکہ دین اسلام نے مزدور کا خاص احترام بتلایا ہے اور مؤجر پر یہ فرض کیا ہے کہ اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اسے مزدوری دے دی جائے لیکن یہاں تو ایسا نہیں ہوتا بلکہ بہت سے لوگ تو مزدورسے سیدھے منھ بات کرنے تک کو تیار نہیں ہوتے ہیں۔
اس مہینہ میں جہاں ہم ایک طرف اللہ کے مہمان ہیں، اور جس مہینہ میں اللہ ہم سے روزے رکھوا کر غریبوں کی بھوک کا احساس دلاتا ہے، تو دوسری طرف اس مہینہ میں نیک کام ، جیسے بھوکوں کو کھانا کھلانا ، کسی کی مدد کرنا وغیرہ پر بیحد ثواب بھی رکھا ہے تو ظاہر ہے ایسے میں ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم اپنے آس پاس نظریں دوڑائیں کہ ہمارے اطراف میں کسی کا کام تو بند نہیں ہوا ہے کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اس کے بچے دو وقت کی روٹی سے بھی عاجز رہ گئے ہوں۔
ہمارے لئے دو مواقع ایسے ہیں جن کے سبب ہم کمزور،غریب اور نادار لوگوں کی مدد کرکے اپنی دینی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے اپنے اعمال نامہ میں کچھ اچھا لکھوا سکتے ہیں۔ لہذا ہمیں اپنے پڑوسیوں اور نادار رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہیئے چونکہ ہمیں تاریخ میں یہ واقعہ ملتا ہے اور جس پر ہمیں غور کرنا چاہیئے کہ جب جناب یوسف(ع) کے بھائیوں نے آپ کو اپنے بابا جناب یعقوب(ع) سے جدا کردیا اور پھر کچھ عرصہ بعد جب یہی بھائی مصر گئے اور یعقوب کے سب سے چھوٹے بیٹے بن یامین کو چھوڑ کر باپ کے پاس لوٹے تو جناب یعقوب بہت پریشان ہوئے اور گھبرا کر اللہ کی بارگاہ میں دعا کی: پروردگا! پہلے یوسف مجھ سے جدا ہوگیا تھا اور ابھی اسے نہ بھولا تھا کہ میرے اس نور نظر کو تونے مجھ سے جدا کردیا ؟
اللہ تعالیٰ نے جناب یعقوب(ع) پر وحی نازل کی اور فرمایا:’’ اے یعقوب! اگر میں یوسف اور بن یامین کو موت بھی دیدوں تو تمہارے لئے انہیں دوبارہ زندہ کردوں گا  لیکن کیا تمہیں وہ وقت یاد ہے کہ جب تم نے اس بھیڑ کو ذبح کیا اور اس کو بھون کر( کباب بنا کر ) کھا لیا جبکہ تمہارے پڑوس میں فلاں فلاں شخص روزہ دار تھے اور تم نے اس گوشت میں سے تھوڑا سا بھی انہیں نہیں دیا!
دوسری روایت میں ملتا ہے کہ اس داستان کے بعد جناب یعقوب کا یہ دستور تھا کہ آپ ہر صبح اپنے گھر سے تقریباً ایک فرسخ( ۶ کیلو میٹر) دور تک یہ منادی کروایا کرتے تھے کہ اگر کسی کو کھانے کی ضرورت ہے تو یعقوب کے گھر تشریف لائے۔(اصول کافی، ج۲، کتاب العشرۃ، حدیث ۴۔۵ ،ص ۶۶۶)


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम