Code : 3853 70 Hit

شریعت میں امر بالمعروف و نہی از منکر کی اہمیت

دین اسلام جہاں ہر انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو صحیح اسلامی اصول و آداب کی رعایت کرتے ہوئے گذارے وہیں اسے یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں موجود دیگر افراد کی نسبت غیر جانب دار نہ رہے بلکہ انہیں ہمیشہ نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف بلاتا رہے اور برائیوں سے دوری اختیار کرنے کی تلقین کرتا رہے۔ اسلام میں ان دو بنیادی فرائض یعنی لوگوں کو اچھائیوں کی طرف بلانے اور برائیوں سے بیزاری اختیار کرنے کی ترغیب دلانے کو ، امر بالمعروف اور نہی از منکر کا نام دیا جاتا ہے۔

ولایت پورٹل: دین اسلام جہاں ہر انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو صحیح اسلامی اصول و آداب کی رعایت کرتے ہوئے گذارے وہیں اسے یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں موجود دیگر افراد کی نسبت غیر جانب دار نہ رہے بلکہ انہیں ہمیشہ نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف بلاتا رہے اور برائیوں سے دوری اختیار کرنے کی تلقین کرتا رہے۔ اسلام میں ان دو بنیادی فرائض یعنی لوگوں کو اچھائیوں کی طرف بلانے اور برائیوں سے بیزاری اختیار کرنے کی ترغیب دلانے کو ، امر بالمعروف اور نہی از منکر کا نام دیا جاتا ہے۔
لغوی اعتبار سے’’ معروف‘‘ کا معنیٰ شناختہ شدہ اور جانی پہچانی چیز کو کہتے ہیں جبکہ ’’ منکر‘‘ یعنی وہ کام جو جانا پہچانا نہ ہو۔ اسلام نے اچھے کاموں کو ’’ معروف‘‘ کا عنوان اس لئے دیا ہے چونکہ وہ انسان کی الہی فطرت سے قریب اور ہماہنگ اور شناختہ شدہ ہیں۔ جبکہ برے کام اس وجہ سے ناشناختہ اور منکر کہلاتے ہیں چونکہ وہ انسان کی پاک فطرت کی نسبت اجنبی ہوتے ہیں اور چونکہ وہ انسان کے تنزل و انحطاط کا سبب بنتے ہیں۔
لہذا مذکورہ تعریف کی روشنی میں وہ علم کہ جو انسان کی ترقی اور کمال کا سبب بنے عقل و شریعت اسے اہمیت دیتے ہیں اور اسے معروف سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ ہر وہ کام جو انسان کے انحراف اور کمال میں رکاوٹ بنے اسے منافی اقدار سمجھا جاتا ہے اور شریعت میں اسے منکر کا نام دیا جاتا ہے۔(۱)
امربالمعروف اور نہی از منکر کی اہمیت کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے بس یہی کافی ہے کہ تمام پہلوؤں سے دین اور دینی اقدار کا تحفظ انہیں کے سبب جامہ عمل پہنتا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں ان دو پر صحیح طریقہ سے عمل کر لیا جائے تو وہ معاشرہ انحطاط کے گھڑے سے نکل کر معراج اور کمال تک پہونچ جاتا ہے۔یہ دونوں تمام انفرادی و اجتماعی فرائض از جملہ اقتصادی، سیاسی، ثقافتی وغیرہ  میں عمل پہم کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
قرآن کریم بھی امر بالمعروف اور نہی از منکر کو امت اسلامی کے دو اہم فرائض میں شمار کرتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’وَلْتـَکـُنْ مـِنـْکـُمْ اُمَّةٌ یـَدْعـُونَ اِلیَ الْخـَیْرِ یَاْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ یَنْهَونَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اوُلئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ‘‘۔(۲)
تم لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیئے جو لوگوں کو خیر و کمال کی طرف بلائے انہیں نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے۔ اور یہ(ایسا کرنے والے) وہی کامیاب لوگ ہیں۔
ایک دوسری آیت میں امر بالمعروف اور نہی از منکر کو ایک اہم مقصد اور مجاہدین راہ خدا اور دین کے مددگاروں کی سب سے بڑی آرزو  شمار کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:’’اَلَّذیـنَ اِنْ مـَکَّنـّاهـُمْ فـِی الاْرْضِ اَقـامـُوا الصَّلوةَ وَ اتـَوُا الزَّکـوةَ وَ اَمَرُوا بِالْمَعْروُفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ...‘‘۔(۳)
یہ وہ لوگ ہیں کہ انہیں جب بھی ہم نے زمین میں طاقتور بنایا یہ نماز کو قائم کرتے ہیں ، زکات دیتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی از منکر کرتے ہیں۔
اسی طرح احادیث میں بھی امربالمعروف اور نہی از منکر کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور اس کے مانند کسی عبادت کو دین کے قیام اور اس پر عمل کرنے کا ذریعہ کے طور پر تعارف  نہیں کروایا گیا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں مولا امیر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’قِوامُ الشَّریعَةِ الاْمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ‘‘۔(۴)
شریعت کے برپائی اور نظام دین کا قیام امربالمعروف اور نہی از منکر ہے۔
اور ایک جگہ تو حضرت امیر علیہ السلام دین کے دیگر احکام ۔ خاص طور پر جہاد ۔ سے ان دونوں فرائض کا مقائسہ و موازنہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’وَ مـا الاعـْمـالُ الْبِرِّ کُلُّها وَالْجِهادُ فی سَبیلِ اللّهِ عِنْدَ الاْمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ، اِلاّ کَنَفْثَةٍ فی بَحْرٍ لُجِّی‘‘۔(۵)
تمام نیک اعمال ، یہاں تک کہ راہ خدا میں جہاد کرنا بھی، امربالمعروف اور نہی از منکر کی نسبت ویسے ہی ہے جیسے دریا کے مقابل ایک قطرہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔امـر بـه مـعروف و نهی از منکر، حسین نوری همدانی، ترجمه محمّد محمدی، ص ۸۳۔
۲۔آل عمران :۱۰۴ ۔
۳۔حج :۴۱ ۔
۴۔شرح غررالحکم و درر الکلم، ج ۴، ص ۵۱۸ ۔
۵۔نہج البلاغہ، حکمت ۳۶۶۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین