امریکی فوج میں بڑھتا ہوا نتہاپسندی کا رجحان؛پیٹاگون کا انتباہ

پینٹاگون نے امریکی کانگریس کو پیش کی جانے والی اپنی ایک رپورٹ میں امریکی انتہا پسندوں کے زریعہ فوجی اراکین کو اپنی طرف مائل  کرنے کی کوششوں  کے بارے میں خبردار کیا۔

ولایت پورٹل:امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق  حالیہ برسوں میں فوج میں بڑھتی ہوئی داخلی انتہا پسندی تشویش کا باعث ہوئی ہے، امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے فوج کے متعدد سابق اور موجودہ ممبروں پر 6 جنوری کی بغاوت میں حصہ لینے اور امریکی کانگریس پر حملے کا الزام عائد کرنے کے بعد یہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا ، جسے اے ایف پی آئی نے اندرونی دہشت گردی قرار دیا،کانگریس کی درخواست پر تیار کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوج کے ممبران کو ان گروہوں کی طرف سے بہت زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ فوج کی موجودگی ان گروہوں کے اہداف کو جائز قرار دیتی ہے اور حملوں کی ان کی صلاحیت کو بڑھا دیتی ہے، رپورٹ میں فوج کے ممبروں کے ذریعہ انتہا پسندانہ رابطوں کی مثالوں کا حوالہ دیا گیا ہے ، لیکن یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ فوج کے کتنے موجودہ یا سابق ممبران کو سفید  فاموں کی بالادستی نظریہ سے منسوب کیا گیا ہے۔
 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوج کے کچھ ارکان نے حقیقت میں پوری نو نازی تحریک کی بنیاد رکھی۔ جیسے ہی 4 مارچ (14 مارچ) کی آخری تاریخ قریب آرہی ہےجس کے بارے میں انتہا پسند دائیں بازو کے گروپ کا خیال ہے کہ اس دن ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ریاستہائے متحدہ کےصدر بنیں گے ، امریکی نیشنل گارڈ کے 5،000 ارکان واشنگٹن میں ڈی سی میں واقع امریکی کانگریس   کے نزدیک الرٹ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ  کیو-انان ایک وسیع اور بے بنیاد سازش کا نظریہ ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ شیطانی اشرافیہ کے ساتھ لڑ رہے ہیں جو بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور حکومت ، بازار اور میڈیا میں گھس چکے ہیں، اس تحریک کے پیروکاروں کا ماننا ہے کہ یہ جدوجہد آخرکار رنگ لائے گی اور اس دن  ہلیری کلنٹن جیسے لوگوں کو گرفتار کرکے پھانسی پر چڑھا دیا جائے گا،واضح رہے کہ  امریکی کانگریس کی پولیس نے 4900 امریکی نیشنل گارڈ اہلکاروں سے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے حامیوں پر 6 جنوری کو ہونے والے حملے کی دوبارہ تکرار کو روکنے کے لئے کم از کم 12 مارچ تک دارالحکومت میں ہی رہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین