Code : 2469 122 Hit

اسلامی اتحاد عصر حاضر کی سب سے بڑی ضرورت

یہ امت حضور کے خون اورفاقوں سے بنی تھی اب ہم اپنی معمولی معمولی باتوں پر امت کوتوڑرہے ہیں۔ اگرمسلمانوں میں امت آجائے تو وہ دنیا میں ہرگز ذلیل نہ ہوں گے۔روس اور حقیقی معنیٰ میں امت اسی وقت تشکیل پائے گی جب مؤمنین آپس میں’’ رحماء بینھم‘‘ اور اپنے مشترک دشمن کے مقابلے میں’’اشداء علی الکفار‘‘۔ کی عملی تصور بن جائیں گے۔

ولایت پورٹل: آج اسلام کی فکر باقی ہے نہ ملک و ملت کی۔ سب ذاتی مفادات کے حصول اور قوم کو تقسیم در تقسیم کرکے اس کی لٹیا ڈبونے میں مصروف ہیں۔ اگر ہم ملک و قوم کی بقا اور استحکام چاہتے ہیں تو ہمیں ان گروہ بندیوں، نسلی و لسانی تعصبات سے پاک ہو کر ملت اسلامیہ کی بالادستی کے لئے  کام کرنا ہوگا۔
قرآن میں اتحاد کی تأکید اور تفرقہ سے پرہیز پر متعدد آیات موجود ہیں۔چنانچہ قرآن کریم رسول خدا (ص) کی رسالت پر ایمان رکھنے والوں کو برادری کی دعوت دیتا ہے:"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ’’۔(سوره الحجرات:10)بیشک مؤمنین آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرو اور خدا کا تقویٰ اختیار کرو، شاید خدا کی رحمت تمھارے شامل حال ہو جائے۔ اس آیہ شریفہ میں مؤمنین کو برادری کی دعوت دی گئی ہے اور آپس میں تفرقہ سے بچنے کا کہا گیا ہے تاکہ قرآنی اصول " أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُم"۔(سوره الفتح:29)کے مطابق اسلام کے سایہ تلے محبت اور الفت کے ساتھ مؤمنین مل جل کر زندگی گزار سکیں۔
قارئین کرام! اتحاد ایسی طاقت ہے جس سے دشمن ڈرتا ہے اور یہی اتحاد ان لوگوں پر گراں گزرتا ہے، اسی لئے دنیا پرست مخالفین اسلام ہمارے درمیان انتشار و تشنت کے خواہش مند ہوتے ہیں اور ہماری سب سے بڑی طاقت اتحاد کو افتراق میں بدلنے کے درپئے رہتے ہیں، تاکہ وہ ہمارے تفرقہ سے فائدہ اٹھا کر ہم پر آسانی کے ساتھ حکومت کریں اور ظلم و ستم ڈھائیں:’’ان اقیمواالدین ولا تفرقوا فیہ کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ۔۔۔۔‘‘۔(سورۂ شوری، آیت:13)ور دین کو قائم کرو اسمیں تفرقہ نہ پیدا ہونے پائے مشرکین کو وہ بات گراں گزرتی ہے جس کی تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔
اسی نکتہ کی طرف امام علی علیہ السلام اشارہ فرمارہے ہیں:’’اور اللہ سے ڈرو اپنے جان، مال اور زبان سے جہاد کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے سے تعلقات سلجھائے رکھو، ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور خبردار ایک دوسرے سے منھ نہ پھیرلینا اور تعلقات توڑ نہ لینا اور امربالعروف اور نہی عن المنکر کو نظر انداز نہ کردینا کہ تم پر اشرار مسلط ہوجائیں اور تم فریاد بھی کرو تو اسکو سنا نہ جائے‘‘۔(نہج البلازغہ،وصیت:41)
دوسری جگہ آپ علیہ السلام ارشاد فرمارہے ہیں:’’یقیناً شیطان تمہارے لئے اپنی راہوں کو آسان بنادیتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایک ایک کرکے تمہاری ساری گرہیں کھول دے، وہ تمہیں اجتماع کے بجائے افتراق کے فتنوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے لہذا اس کے خیالات اور اسکی جھاڑ پھونک سے منھ موڑے رہو‘‘۔(نہج البلاغہ، خطبہ:121)
قارئین کرام ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ امت کسی ایک قوم اور ایک علاقہ کے رہنے والوں کانام نہیں ہے بلکہ سینکڑوں ،ہزاروں قوموں اورعلاقوں سے جڑکرامت بنتی ہے جو کوئی کسی ایک قوم یا ایک علاقہ کو اپناسمجھتاہے اوردوسروں کو غیرسمجھتاہے وہ در اصل  امت کوذبح کرتاہے۔ امت کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پہلے ہم نے خود ذبح کیاہے۔یہودونصاریٰ نے تو اس کے بعد کٹی کٹائی امت کوکاٹاہے۔اگرمسلمان پھرایک امت بن جائیں تو دنیاکی ساری طاقتیں مل کر بھی ان کابال بانکانہیں کرسکیں گے اور ان کے ہتھیار ان کو نہیں ختم کرسکیں گے، روس اورامریکہ کی طاقتیں بھی ان کے سامنے جھکیں گی ۔لیکن اگر وہ قومی اورعلاقائی عصبیتوں کی وجہ سے باہم امت کے ٹکرے کرتے رہے تو خداکی قسم تمہارے ہتھیار اورتمہاری فوجیں تم کو نہیں بچاسکیں گی۔
قرآن کریم  بھی آپس میں مل جل کر رہنے کو طاقت اور جدائی کو موت کے مترادف بتاتا ہے چنانچہ ارشاد ہورہا ہے:’’وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ۔۔‘‘۔(الانفال:46)
یہ امت حضور کے خون اورفاقوں سے بنی تھی اب ہم اپنی معمولی معمولی باتوں پر امت کوتوڑرہے ہیں۔ اگرمسلمانوں میں امت آجائے تو وہ دنیا میں ہرگز ذلیل نہ ہوں گے۔روس اور حقیقی معنیٰ میں امت اسی وقت تشکیل پائے گی جب مؤمنین آپس میں’’ رحماء بینھم‘‘ اور اپنے مشترک دشمن کے مقابلے میں’’اشداء علی الکفار‘‘۔ کی عملی تصور بن جائیں گے۔
آپ جانتے ہیں کہ منتشر اینٹیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں لیکن اگر انہیں یکجا کر دیا جائے تو ان سے ایک عالی شان عمارت بن جاتی ہے۔ بکھرے ہوئے موتی اکٹھے ہو جائیں تو گلے کا ہار بن جاتا ہے۔ امت کے تمام طبقات اس پر متوجہ ہوں پھر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम